یوسی 29 کے مکین پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

30

رپورٹ/عکس بندی
ذیشان ندیم
یوسی 29بلدیہ ٹاؤن گزشتہ بلدیاتی الیکشن کے لیے نئی حلقہ بندیوں کے نظام کے تحت بنائی گئی تھی۔ یوسی 29کا شمار اس سے قبل یوسی 6میں ہوتا تھا۔ بلدیاتی الیکشن میں اس یوسی میں متعدد سیاسی تنظیموں کے امیدوار میدان میں تھے۔ اس یوسی کی آبادی تقریبا70ہزار بتائی جاتی ہے۔ یوسی میں کل رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 25ہزار ہے اس یوسی میں لسانی اعتبار سے ملی جلی آبادی ہے جن میں پشتون، ہزارہ ،پنجابی ،اردو بولنے والے ہیں ،گزشتہ الیکشن میں کامیاب ہونے والے چیئرمین نادر حسین جن کا تعلق ایم کیو ایم پاکستان سے ہے ۔دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار ملک فیاض جبکہ تیسرے نمبر پر جماعت اسلامی کے اامیدوار شفیق احمد تھے ۔ا س طرح وارڈ1سے ایم کیوایم،2سے پاکستان مسلم لیگ، وارڈ3سے جماعت اسلامی جبکہ وارڈ 4سے ایم کیو ایم کے کونسلر کامیاب ہوئے ۔یوسی میں بے تحاشا مسائل موجود ہیں۔ یوسی کے سروے کے دوران علاقہ مکینوں نے بتایا کہ اس علاقے میں پانی سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ یوسی 29کے مکین پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔ علاقہ مکینوں سے بات کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ اس علاقے میں پانی فراہمی 10 سالوں سے متاثر ہے۔ جبکہ یوسی کے کچھ ایسے علاقے ہیں جن کو آباد ہوئے 60سال سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے لیکن ان علاقوں میں پانی کی فراہمی کا کوئی نظام نہیں ہے۔ اگر ہے بھی تو وہ نظام بوسیدہ ہوچکاہے۔ علاقہ مکین سلطان یوسف کا کہنا تھا کہ یوسی کے علاقے اقبال روڈ کا پانی غیر منصفانہ تقسیم کا شکار ہے۔ اور سب سے تعجب والی بات یہ ہے کہ جب علاقے کے مسائل یوسی چیئر مین کے پاس لے کر جاتے ہیں تو جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ اقبال روڈ کا شمار یوسی 29 میں نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب یوسی سے متصل یوسی 32 کے چیئر مین کے پاس جاتے ہیں تو وہ بھی یہی جواب دیتے ہیں کہ اقبال روڈ کا شمار یوسی 32 میں بھی نہیں ہوتا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ ہم میئر کراچی سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری یوسی کا دورہ کریں ،خصوصاً اقبال روڈ کا جہاں ہر مسئلہ کے بھاؤ لگے ہوئے ہیں۔ علاقہ مکین اورسیاسی و سماجی شخصیت ڈاکٹر فقیر محمد کہنا تھا کہ یوسی کے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے علاقہ مکینوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ یوسی کے علاقے کچھی محلے کے باسی 40سالوں سے پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔ اس علاقے کے لوگو مزدور پیشہ ہیں جو 12 گھنٹے کی مزدوری کے بعد پانی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں ۔علاقہ مکین عزیز الرحمن کا کہنا تھا کہ ہم تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ جب سے اس علاقے میں آباد ہوئے ہیں ہمیں پانی لائنوں کے ذریعے نہیں ملا ،ہم کو پانی کے حصول کے لیے خود انحصاری کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ہمارے آبارواجداد بھی پانی کے لیے ٹھوکریں کھاتے رہے اور ہم بھی پانی کے حصول کے لیے ٹھوکریں کارہے ہیں۔ تیسری نسل جوان ہو گئی پر آج تک کسی منتخب امیدوار نے علاقے کا پانی کا مسئلہ حل نہیں کروایا۔ الیکشن کے وقت تمام سیاسی جماعتوں کے وفد وعدے کرتے ہیں اور جب الیکشن ہوجاتے ہیں اس کے بعد کوئی بھی چیئر مین ، کونسلر علاقے میں نظر نہیںآتے ۔ انہوں مزید کہا کہ آج تک یاد نہیں کے اس علاقے میں پانی کی عدم فراہمی کے حوالے سے کوئی بھی سرکاری نمائندہ دورے پر آیاہو۔ اسی طرح یوسی کے علاقے غوث نگر کے مکینوں کا کہنا تھا کہ پانی کی فراہمی ہمارے لیے کسی خواب سے کم نہیں ہے۔ پانی کے حصول کے لیے علاقے میں متعدد مرتبہ احتجاجی مظاہرے کرچکے ہیں ، کئی مرتبہ احتجاج میں علاقے کی مین شاہراہ حب ریوور روڈ پر خواتین ، بچے ،بوڑھے اور جوان سب نے شرکت کی ۔کئی گھنٹوں تک سڑک پر بیٹھے رہے۔ بیسیوں بار واٹر بورڈ کے خلاف مظاہرے کیے جاچکے ہیں پر متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ ہم اخبار کے توسط سے احکام بالا کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ خدارا ہمارے حال پر رحم کیاجائے۔ غوث نگر کے پانی کے مسائل کو حل کیاجائے۔ ٹینکر مافیا سے نجات دلائی جائے۔علاقہ مکین فراز احمد کا کہنا تھا کہ 12گھنٹے ڈیوٹی کرنے بعد گھر آکر سب سے پہلا کام ہی صبح کے لیے پانی لانا ہوتا ہے اس کے لیے علاقے میں بنے خود ساختہ چھوٹی چھوٹی ٹینکیاں جس سے ایک گیلن پانی 25روپے کے عوض ملتا ہے اور مہنگا پڑتاہے ۔ ایک مزدور پیشہ فرد ٹینکر کی مد میں 2400 روپے10دنوں کے لیے کیسے دے سکتا ہے ہمارے موجودہ نظام اور حکمرانوں نے ہمارے لیے بنیادی سہولتوں کے حصول مشکل بنادیا ہے۔یوسی میں ٹینکر مافیا کا راج علاقہ مکین پانی کو ترس گئے یوسی 29میں پانی فراہمی کا نظام موجود ہے مگر پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم کی وجہ سے علاقہ پانی کی فراہمی سے محروم ہے ۔علاقے میں سوزوکی مافیا پانی کے عوض بھاری رقم وصول کرتی ہے ۔پولیس کی جا نب سے ٹینکرمافیا کے خلاف کوئی اقدامات نہیں کے جارہے جس کی وجہ سے ٹینکر مافیا منہ مانگے دام وصول کرتی ہے ۔یوسی کے علاقے ڈی تھر اور سی تھری کے مکینوں کا کہنا تھا کے علاقے میں پانی کی تقسیم متعلقہ اداروں کی عدم دلچسپی اور غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے متاثر ہے علاقہ مکین پانی کے حصول کے لیے ٹینکر پر انحصار کرتے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ واٹر بورڈ کے دفاتر کے باہر متعدد مرتبہ احتجاج کر چکے ہیں پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی سابق ٹاؤن ناظم کامران اختر کے دور میں پانی کی کوئی کمی نہیں تھی اس کے بعد 9سال تک بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ پانی کی فراہمی کافی متاثر ہوئی ہے۔علاقے میں قائم پانی ٹینکیوں سے علاقہ مکین ایک گیلن پانی 30روپے کے عوض خریدتے ہیں ۔دوسری جانب واٹر بورڈ کے بل بھی آتے ہیں۔پانی آتا نہیں اور بل آتے ہیں ۔

حصہ