جمہوری حکومتوں نے پاکستان اسٹیل کو لاوارث ادارہ بنادیا

140
جمہوری حکومتوں نے پاکستان اسٹیل کو لاوارث ادارہ بنادیا
جمہوری حکومتوں نے پاکستان اسٹیل کو لاوارث ادارہ بنادیا

قاضی جاوید
qazijavaid61@gmail.com

ملک کی واحد اسٹیل ملز پاکستان اسٹیل 2سال 4ماہ سے بند پڑی ہے ۔ اس بندش کے باوجود حکومت اوراپوزیشن سمیت کسی کو بھی پروا نہیں ہے ۔ادارے میں موجود اور ادارے سے سبکدوش ہو نے والے ملازمین کی قطعی پر او ہ نہیں ہے ،سبکدوش ہو نے والے پاکستان اسٹیل ریٹائرڈ ملازمین کو یکم مئی 2013 (پچھلے 48 ماہ) سے گریجویٹی ، پراویڈنٹ فنڈز اور دیگر واجبات کا آج تک ایک پیسہ بھی ادا نہیں کیا جبکہ اس بڑے فیڈرل گورنمنٹ ادارے میں پنشن نام کی کوئی چیز پہلے سے ہی موجود نہیں ہے۔ سبکدوش ہو نے والے ملا زمین کو ملازمین سر چھپانے کے لیے مکان فیملی کے لیے چھوٹی موٹی سواری کا بندوبست کرنا ہوتا ہے اور بہت ہی ضروری کام بچوں بچیوں کی شادی کرنا ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ ریٹائرمنٹ کے بعد رقم نہ ملنے کی وجہ سے ملازمین شدید ذہنی اذیت سے دو چار ہیں یعنی 48 ماہ قبل بہت سے ملازمین نے اپنا فرض نبھانے کے لیے اپنے بچے اور بچیوں کی شادی کے دن بھی واجبات نہ ملنے کی وجہ سے شادیاں ہی کینسل کردیں اور تمام امیدیں اور خوشیاں خاک میں مِل کر رہ گئیں ۔ ان 48 ماہ میں خاص کر بچیوں کی عمریں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ احساس کمتری کی مریضہ بن چکی ہیں اور اب بوڑھی دکھائی دینے لگی ہیں ۔ کیا حکومت کا کوئی نمائندہ بتائے گا کہ ان معصوم ، بدقسمت اور پڑھی لکھی بچیوں کی بڑھتی ہوئی عمر کا ذمہ دار کون ہے؟اگر ریٹائرمنٹ کے فوری بعد یعنی 48 ماہ قبل ہی واجبات ادا کر دیے جاتے تو ملا زمین کی معصوم بچیوں کے ہاتھ پیلے ہو چکے ہوتے۔ اس سنگین جرم اور زیادتی کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا صاحبِ اقتداران کی اپنی بچیاں نہیں ہیں؟ کاش ان کے ساتھ بھی ایسا ہوجاتا۔ بات صرف یہاں ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ بہت سے ریٹائرڈ ملازمین جن کے وہ بچے جو پروفیشنل تعلیم حاصل کر رہے تھے بروقت فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے تعلیمی اداروں سے نکال دیے گئے ہیں اور اب وہی بچے گھر کا چولھا گرم رکھنے کے لیے اپنے بوڑھے والد کے ساتھ مِل کر پورٹ قاسم کی مختلف فیکٹریوں میں محنت مزدوری کر رہے ہیں ۔ مستقبل کے ڈاکٹر یا انجینئرز کا خواب دیکھنے والے بچوں کو مزدور حکو مت پاکستان نے بنایا دیا ہے ؟ پاکستان کو جنت بنانے کا نعرہ ، دودھ اور شہد کی نہریں بہانے والی حکومت کو ہمارے حقیقی مسائل کیوں نظر نہیں آتے؟
پاکستان اسٹیل کے ملازمین 48 ماہ سے 30سے 40کی اپنی ہی کی ہوئی مزدوری کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ اس سلسلے میںیہ بات بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اسٹیل کے ملازمین کی اپنی جمع شدہ رقم پراویڈنٹ فنڈز کی رقم بھی حکومت ادا نہیں کر رہی ہے، سوال یہ ہے پاکستان اسٹیل ملا زمین ریڑھی فروش کے ملازم نہیں تھے بلکہ وفاقی حکومت کے معتبر ادارے منسٹری آف پروڈکشن کے ملازم تھے۔ اگر منسٹری آف پروڈکشن اتنی ہی غریب ہو چکی ہے تو وزاتِ خزانہ سے رقم لے کر ادھار چکایا جا سکتا تھا۔ ادارے کے ملا زمین بے بسی کا اندازہ لگانا اتنا مشکل نہیں ہے کہ پچھلے 48 ماہ سے سبکدوش ملازمین کی تنخواہیں تو بند ہوہی چکی ہیں اور اوپر سے واجبات بھی نہیں مِل رہے۔ ادارے کے ملازمین کیا کریں اور جائیں توآخر کس کے پاس ؟ ملک کی لٹیروں نے پاکستان اسٹیل کے پاس واجبات ادا کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا تو اس کی تباہی و بربادی کے ذمہ دار ان ادارے کے سابق چیئر مین ہیں جو اربوں روپے لوٹ کراپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے ان کو دیا کرتے تھے ان کو فوری گرفتار کرکے ان کے بینک اکاونٹ اور جائیدادیں ضبط کرکے لوٹی ہوئی رقم واپس کیوں نہیں لیتے ؟ صد افسوس کہ 48 ماہ میں بہت سے ریٹائرڈ ملازمین خودکشیاں کرکے تڑپ تڑپ کر جان کی بازی ہی ہار چکے ہیں اور جو بچ گئے ہیں وہ ننگ تڑنگ زندہ لاشیں بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ریٹائرڈ ملازمین کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جن میں ہما ری اطلاع کے مطابق 150ملا زمین کا انتقال ہو چکا ہے ۔ان انتقال ہو نے والے ملا زمین میں سے 50 سے زائد ملا زمین بھاری ذہنی اذیت اور دل کی بیماری کی وجہ سے ہلاکت سے دو چار ہوئے ملا زمین نے اپنے واجبات کے لیے چیئر مین پاکستان اسٹیل سے لے کر ہر متعلقہ دروازے پر دستک دی مگر ہماری نحیف و بے جان آواز کسی کو سنائی ہی نہیں دیتی ۔ملا زمین نے صد ر پاکستان اور دیگر سرکاری اداروں سے بار بار درخواست کی ہے وہ ان کے نوجوان بچیوں کو بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچانے والے، مستقبل کے ڈاکٹرز اور انجینئرز کو مزدور بنانے والے حکومتی ذمہ داران کو گرفتار کر کے ان کے بچوں کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے جو انہوں نے ہمارے معصوم بچے اور بچیوں کے ساتھ کیاہے۔ فاقہ کش ،مجبورو بے کس ریٹائرڈ ملازمین اجتماعی خودکشیاں شروع کردیں جلد از جلد اور بلا تاخیر واجبات ڈبل کرکے دلوائے جائیں ۔جیساکہ مختلف بینکوں میں رقم فکسڈ ڈپازٹ کروانے پر 5 سال میں ڈبل ہو جاتی ہے اور حکومت کا بھی ہمارے واجبات کو دبائے ہوئے پانچواں سال شروع ہو چکا ہے۔ انصاف کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ رقم دوگنی ہوکر ملنی چاہیے ۔برائے مہربانی ہماری درخواست پر سوموٹو ایکشن لیا جائے۔

حصہ