کنسٹرکشن سیکٹر کو ترقی دینے کے لیے فکسڈ ٹیکس کا نظام ضروری ہے،میاں زاہد حسین

41

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کنسٹرکشن سیکٹر کو ترقی دینے کے لیے فکسڈ ٹیکس کا نظام ضروری ہے۔فکسڈ ٹیکس کے خاتمے سے بلڈرز اینڈ ڈویلپرزکے مسائل میں اضافہ ہوا ہے اور اس شعبہ کی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس سے چالیس سے زیادہ ذیلی صنعتوں اور لاکھوں مزدوروں کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ تشویشناک اقتصادی صورتحال کے باوجود تعمیرات کا شعبہ حیران کن رفتار سے ترقی کرتا ہوا معیشت کا اہم سیکٹر بن گیا ہے۔ اب اسے بھی سی پیک میں چین کی بھاری سرمایہ کاری کے ثمرات سمیٹنے کی اجازت دی جائے جس کے لیے ٹیکس کے نظام کو سہل بنانے اور دیگرمسائل کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں سالانہ دس لاکھ گھروں کی ضرورت ہے جبکہ صرف ڈیڑھ لاکھ گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں جبکہ نجی شعبہ غریب عوام کے لیے گھر بنانے میں دلچسپی نہیں لے رہا جس کے لیے حکومت کو ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز سے مشاورت کی ضرورت ہے۔نجی شعبہ غریب عوام کے لیے چھوٹے یونٹ بنانے میں اس لیے دلچسپی نہیں لیتا کیونکہ اسے سرمایہ پھنسنے اور سرمایہ کاری پر منافع نہ ملنے کا خدشہ لاحق ہوتاہے جسے حکومت ہی دور کر سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس جی ڈی پی کی0.5 فیصد ہے جبکہ گھروں کی رسد اور طلب میں نوے لاکھ یونٹس کا فرق ہے۔ دوسری طرف بھارت میں ہاؤسنگ فنانس کی مارکیٹ کا حجم بارہ کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ پاکستان میں زمین کا حصول بھی ایک مشکل کام ہے جس میں کرپشن اور گھپلوں کی بھرمار ہے جو اس شعبہ میں سرمایہ کاری کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت گھروں کی کمی کے مسئلے کو مزید نظر انداز نہ کرے، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کو فعال بنائے اور نجی شعبہ کی بھرپور مدد کرے۔

حصہ