متحدہ مجلس عمل کا احیاء

123

منصورہ میں 6 دینی و سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کا طویل مشاورتی اجلاس ایک نتیجے پر پہنچ گیا ہے اور متحدہ مجلس عمل بحال کرنے کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ اس کا باضابطہ اعلان اگلے ماہ ہوگا۔ وہ معتبر دینی جماعتیں جو سیاست میں بھی عملاً شریک ہیں ان کا اتحاد ایک مبارک قدم ہے اور علامہ اقبالؒ کے اس قول کے مطابق کہ ’’جدا ہودیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔‘‘ ان دینی جماعتوں نے سیاست کو شجر ممنوعہ نہیں بنایا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مسلمان کا ہر انفرادی اور اجتماعی عمل دین کے تابع ہے لیکن سیکولر سوچ رکھنے والے نام نہاد دانشور دین کو دنیا اور دنیاوی معاملات سے الگ رکھنے کے خواہش مند ہیں اور ایک عرصے سے اسی کوشش میں ہیں کہ سیاسی جماعتیں دین کا نام نہ لیں۔ یہ دانشور، جو نام کے مسلمان ہیں، دینی جماعتوں کی سیاست میں شمولیت پر ہمیشہ طنز اور استہزا سے کام لیتے ہیں اور ان کا کہناہے کہ ہر معاملے کو دین و مذہب کی عینک سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ لیکن ایسا کیوں نہ کیا جائے؟ لادین سیاست کی پاکستان میں تو کوئی گنجائش نہیں جس کے عوام کی اکثریت دین اسلام کے تابع ہے۔ عمل میں کوئی کوتاہی اور کمزور ہوسکتی ہے لیکن عقیدہ راسخ ہے اس کا مظاہرہ توہین رسالت کی کسی بھی ناپاک کوشش پر بھرپور طریقے سے سامنے آتا ہے اور اس رد عمل میں ناخواندہ اور بے عمل مسلمان بھی پیچھے نہیں رہتے۔ علم الدین شہید ہو یا گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا گارڈممتاز قادری ہر ایک ناموس رسالت پر اپنی جان خوشی خوشی قربان کردیتا ہے۔ حیرت تو اس پر ہے کہ سیاست اور دین کو الگ رکھنے پر پاکستان کے بعض دانشور ہی زور دیتے ہیں جب کہ پاکستان کے آئین میں واضح ہے کہ کوئی بھی قانون اسلام کے خلاف نہیں ہوگا کیونکہ پاکستان بنا ہی اسلام کے نام پر ہے لیکن پڑوسی ملک بھارت کا آئین تو سیکولر ہے مگر بھارت کی ہر حکومت ہندو مذہب پر کار بند اور اس کی پرچارک ہے۔ سرکاری تقریبات تک میں مذہبی رسوم ادا کی جاتی ہیں اور بھارت ہی کیا صہیونی اور عیسائی حکومتیں بھی مذہب کے نام پر قتل و غارت کرتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے میں متحدہ مجلس عمل کا احیاء نیک شگون ہے اور اس سے مسلکی اختلافات بھی دشمنی میں نہیں بدلیں گے۔

حصہ