آزادکشمیر کے بڑے منصوبے اور ترقی کے سراب

70

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر وگلگت بلتستان کے چیرمین ملک ابرار اور دیگر ارکان نے وادی نیلم میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد خطے کی تعمیر وترقی کے لیے وفاق فنڈز کی کمی نہیں ہونے دے گا۔ قومی نوعیت کے منصوبوں سے خطے میں ترقی اور خوش حالی کی راہیں کھلیں گی اور عوام کو روزگار ملے گا۔ قائمہ کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ اس وقت ترقیاتی منصوبوں پر ستر فی صد کام ہو چکا ہے باقی کام بجٹ سے قبل مکمل ہو جائے گا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے ارکان کا دورہ اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ اس سے ملک کے اہم فورم کے نمائندوں کو اس خطے کے مسائل سے براہ راست آگاہی حاصل ہوئی ہوگی۔ یہ منتخب ارکان اگر وادی نیلم کے سیاحتی دورے سے آگے بڑھ کر عوام سے بھی ملاقاتوں کا اہتمام کرتے تو انہیں زمینی حقائق سے زیادہ بہتر آگاہی ہو سکتی تھی۔
آزادکشمیر اور گلگت بلتستان قومی منظر کا وہ بارہواں کھلاڑی ہیں جو میدان سے باہر ایک تماشائی کی حیثیت کا حامل ہے۔ ملک کے اعلیٰ ایوانوں اور اداروں میں ان علاقوں کی نمائندگی نہیں اسی لیے یہ علاقے بیوروکریسی کے رحم وکرم پر پڑے پڑے بہت سے جائز حقوق سے بھی محروم رہتے ہیں۔ قومی نوعیت کے منصوبوں کے باعث خطے میں ترقی اور خوش حالی کا خواب فی الحال سراب ہی ہے۔ خوش حالی اور ترقی کی خوش کن باتیں تو سنائی دے رہی ہیں مگر زمین پر اور عوام کی زندگی میں اس کے اثرات دکھائی نہیں دیتے۔ اس خطے میں اس وقت نیلم جہلم جیسا بڑا منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے۔ یہ منصوبہ ملک میں اندھیروں کو بھگانے اور روشنیوں کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس منصوبے سے آزادکشمیر کا دارالحکومت مظفر آباد اور اس کے گرد ونواح کا وسیع عریض علاقہ بہت سے حوالوں سے متاثر ہورہا ہے۔ کچھ مضر اثرات تو شروع ہوگئے اور کچھ وقت کے ساتھ ساتھ پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔ اس قدر بڑے منصوبے کا جو مثبت اثر عوام کی زندگی پر پڑنا چاہیے تاحال نظر نہیں آتا۔
آزادکشمیر کی سرزمین پر فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں منگلا ڈیم کا ایسا ہی میگا پروجیکٹ شروع ہوا تھا۔ حکومت نے عوام سے زمینیں، گھر، قبرستان تو لے لیے تھے مگر انہیں فراخ دلی کے ساتھ معاوضہ، متبادل کالونیاں اور انگلستان میں روزگار کے متبادل مواقع دیے تھے۔ جس سے مقامی لوگوں میں قربانی دینے کے نتیجے میں زیادہ احساس محرومی پیدا نہیں ہوئی اور عوام کی زندگیوں میں ایک انقلاب آتا چلا گیا۔ نیلم جہلم کے معاملے میں ایک ’’بنیا سوچ‘‘ کا غلبہ ہے جس کے باعث عوام کا احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے۔ ہر مسئلے کا حل زمین خرید کر معاوضہ تھمانا نہیں بلکہ طویل المیعاد منصوبہ بندی ہے۔ نیلم جہلم پروجیکٹ سے سب سے زیادہ متاثر مظفر آباد شہر ہورہا ہے۔ دریائے نیلم کا رخ موڑنے سے جس کا ماحول تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کی کوئی ٹھوس تدبیر تاحال نہیں کی گئی۔ اگر منگلا ڈیم کے متاثرین کی آبادکاری ہی کا انداز یہاں اپنایا جائے تو عوام کی شکایات کا کسی حد تک ازالہ ہو سکتا ہے۔ مظفر آباد کے عوام کو ملازمتوں میں ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ متبادل زمینوں کی فراہمی اور کچھ دوست ملکوں میں روزگار کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے ارکان نے وادی نیلم کو ماتھے کا جھومر تو کہا مگر انہیں شاید یہ کسی نے نہیں بتایا کہ اس جھومر کو شونٹھر ٹنل کا منصوبہ ختم کرکے سی پیک کے فوائد سے محروم کر دیا گیا اور حد تو یہ اب دارالحکومت مظفر آباد کو بھی مانسہرہ بھمبر شاہراہ میں بائی پاس کرکے سی پیک سے کاٹ دیا گیا ہے۔
آزادکشمیر کے عوام کو مٹی کے گھروندوں سے بہلانے کے بجائے ترقی کی دوڑ میں عملی طور پر شریک کرنے سے ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اس دوران ایک خوش کن خبر ملی کہ وفاقی اور آزادکشمیر حکومت کے درمیان واٹر یوز چارجز میں اضافے پر اصولی اتفاق ہوگیا ہے اور اس کی باقاعدہ سمری منظوری کے لیے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کو بھیجی جا رہی ہے۔ واٹر یوز چارجز کو پندرہ پیسے سے بڑھا کر ایک روپے دس پیسے کیا جا رہا ہے۔ اس طرح 2022 تک آزادکشمیر کا اسی ارب کا بجٹ دو سو ارب تک پہنچ جائے گا۔ واٹر یوز چارجز میں اضافہ آزادکشمیر کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا۔ پن بجلی کے منصوبوں میں استعمال ہونے والے پانی کی مد میں یہ رقم وفاق متعلقہ صوبوں اور یونٹس کو ادا کرنے کا پابند ہے۔ آزادکشمیر اور خیبر پختون خوا کو اس حوالے سے دو مختلف پیمانوں سے ادا ئیگی کی جا رہی تھی۔ خیبر پختون خوا کو واٹر یوز چارجز کی مد میں زیادہ رقم ملتی تھی جب کہ آزادکشمیر کو ایسی ہی منصوبوں کے لیے بہت کم رقم ادا کی جا رہی تھی۔ جس سے شکوک وشبہات اور ناراضی کے جذبات بھی پیدا ہو رہے تھے۔ اب دونوں حکومتوں کے درمیان واٹر یوز چارجز میں اضافے پر اصولی اتفاق کی خبر سامنے آئی ہے۔ اتفاق تو خوش آئند ہے مگر انتظار اس بات کا ہے کہ یہ اتفاق عمل کی شکل کب اختیار کرتا ہے اور جب یہ اضافہ آزادکشمیر کے بجٹ کا حصہ بنتا ہے تو اس کا مصرف کیا ہوتا ہے۔؟
اس وقت مرکز میں مسلم لیگ ن کی ڈولتی ہی سہی مگر حکومت اپنے دن پورے کررہی ہے آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت اپنے دوسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس لیے آزادکشمیر کے بڑے مسائل کے حل کے لیے یہ ماحول غنیمت ہے اور شاید آگے چل کر یہ ماحول بھی باقی نہ رہے۔ شاہد خاقان عباسی آزادکشمیر کے متصلہ اور ملحقہ علاقے کے رہائشی ہیں ان کی زمینوں اور گھر کی دہلیز سے روزانہ آزادکشمیر کے ہزاروں باشندے گزرتے ہیں۔ ان کی آزادکشمیر میں بہت سے لوگوں اور گھرانوں سے قریبی سماجی تعلقات ہیں اس لیے وہ آزادکشمیر کے مسائل کو بڑی حد تک سمجھتے ہیں۔ اس لیے ان کے دور اقتدار کے چند مہینوں میں آزادکشمیر کے کئی دیرینہ اور بڑے مسائل کے حل کی امید بے سبب بھی نہیں۔ یہ ماحول اور منظر بدل گیا تو آزادکشمیر حکومت کی اسپیس مزید تنگ ہو جائے گی اور وہ مطالبات کے لیے شاید مزاحمانہ اسٹائل تو اپنائے گی مگر جواب میں شاید زیادہ ہمدردانہ سلوک نہ ہو۔ اس لیے شاہد خاقان عباسی اور راجا فاروق حیدر خان کو باہم مل کر واٹر یوز چارجز کی طرح آزاد کشمیر کے حل طلب مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آزادکشمیر حکومت کو بھی وسائل میں اضافے کے ساتھ ساتھ وسائل کے درست استعمال اور دیانت داری اور احتساب وجوابدہی کے نظام کو موثر بنانے کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اُٹھانے چاہیے۔ یہ کہنا کہ آزادکشمیر کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن نہیں بلکہ نااہلی ہے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کی روش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آزادکشمیر کا مسئلہ اول ہی کرپشن ہے۔ آزادکشمیر کے لوگ قطعی نااہل نہیں بلکہ کرپٹ عناصر نااہلی کے دستانے چڑھا کر قومی خزانے اور وسائل کا قتل کرتے ہیں۔

حصہ