افغانستان کے بعد کشمیریوں کی سپاری

96

ہم سیاست سیاست کھیلنے میں اتنے مصروف ہیں کہ اچھے کاموں کی ہمیں فرصت ہے نہ دماغ۔ اس میں قصور حکمرانوں کا نہیں ہے۔ نشہ کی لت ہی بری ہے۔ کام کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ حکومت سے بڑھ کر نشہ آج تک دریافت نہیں ہوا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر یہی طریق ہمارا مستقل شعار رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہم برباد ہوجائیں گے۔ اللہ بھلا کرے امریکا کہ وہ ہمیں اس بے کاری اور بربادی سے روکنے کے اسباب فراہم کرتا رہتا ہے اور گاہ بگاہ مطالبات کی فہرست فراہم کرتا رہتا ہے۔ نومبر کا مہینہ ابھی شروع ہی ہوا ہے لوگوں کو تنخواہیں بھی نہیں ملیں کہ جمعہ 3نومبر کو حکومت پاکستان کو نئے امریکی مطالبات کی فہرست مل گئی۔ یہ فہرست ان عسکری گروپوں کی ہے جو دور ہونے کے باوجود امریکا کے دل سے قریب ہیں اور اسے کھٹکتے رہتے ہیں۔ اس فہرست میں تین طرح کے عسکری گروپ موجود ہیں۔ ایک وہ جو افغانستان میں جہاد کر رہے ہیں۔ دوسرے وہ جو پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں اور تیسرے وہ جن کی توجہ کا مرکز مقبوضہ کشمیر ہے۔ ان مبینہ دہشت گرد تنظیموں کی تعداد بیس ہے۔ حقانی نیٹ ورک، حرکت المجاہدین، جیش محمد، تحریک طالبان پاکستان، جنداللہ، لشکر طیبہ، لشکر جھنگوی، حرکت الجہاد اسلامی، جماعت الاحرار، جماعت الدعوۃ القرآن، طارق گدر گروپ، اسلامی انقلابی گارڈ گروپ، کمانڈر نظیر گروپ، بھارتی مجاہدین، اسلامی جہاد یونین، اسلامی مومنٹ ازبکستان، داعش خراسان گروپ، القاعدہ برصغیر اور ترکستان اسلامی پارٹی۔
اس نئی فہرست میں صرف وہ تنظیمیں نہیں ہیں جن کا دائرہ عمل افغانستان ہے یا جو افغانستان میں امریکا سے برسر پیکار ہیں۔ اس فہرست میں وہ تنظیمیں بھی شامل ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کی مزاحمت کررہی ہیں اور بھارتی افواج سے جہاد کر رہی ہیں۔ اس فہرست سے ظاہر ہے کہ صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیا میں حکمت عملی افغانستان میں امریکی قبضے کو مستحکم کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ بھارت کو بھی خطے میں طاقتور اور مستحکم دیکھنا چاہتا ہے۔ امریکا اور بھارت کے مفادات میں اس یکجہتی کی وجہ مسلم دشمنی ہے۔ اسلام اور مسلمانوں سے نفرت صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان قدر مشترک ہے۔ اس نفرت میں دونوں ایک ہیں۔ دونوں کے اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کی ایک بڑی وجہ مسلمانوں سے بغض اور عداوت ہے۔ اس کے لیے دونوں کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکا کا اگلا ہدف مسلمان قرار پائے تھے۔ ہر امریکی صدر نے بتدریج اس سمت میں پیش قدمی کی ہے اور ہر آنے والے امریکی صدرنے سابقہ صدر کے کام کو آگے بڑھایا۔ افغانستان، عراق، پاکستان، شام، یمن، مصر، لیبیا، فلسطین، روہنگیا، مقبوضہ کشمیر آج عالم اسلام لہو لہو ہے۔ اس کی بنیادی اور سب سے بڑی وجہ امریکا کی مسلم دشمنی ہے۔ امریکا کے خیال میں بھارت وہ قوت ہے جو مسلم دشمنی میں اس کے شانے سے شانہ ملاکر کھڑا ہوسکتا ہے۔
اب آئیے پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی طرف۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے امریکا کے تابع رہی ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے خواہ وہ فوجی تھے یا سیاست دان خارجہ پالیسی مرتب کرتے وقت پاکستان سے پہلے امریکی مفاد کو ترجیح دی ہے۔ ہر دور میں ہماری پالیسیاں امریکی پالیسیوں کا عکس رہی ہیں۔ سوویت یونین کے حملے کے بعد امریکا کو افغان مجاہدین میں اپنے آباء کی شکل نظر آتی تھی تو ہمیں بھی افغان مجاہدین میں اسلامی جہاد کی حقیقی روح سرگرم نظر آتی تھی۔ امریکا نے
مجاہدین پر اسلحے اور ڈالرکے دروازے کھول دیے توہم نے بھی افغان عوام پر پورے پاکستان کے دروازے کھول دیے۔ نائن الیون کے بعد امریکا نے افغان مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیا تو ہم نے ان دہشت گردوں کو قتل کرنے کے لیے پورا پاکستان امریکا کے سپرد کردیا۔ امریکی طیارے اور ڈرونز پاکستان کے ہوائی اڈوں سے پرواز کرکے افغانستان کے مسلمانوں پر حملے کرتے تھے۔ امریکی ٹینکوں، فوجی گاڑیوں، اس کے فوجیوں کے لیے شراب، سور کا گوشت اور پیمپر پاکستان کی حدود سے گزر کر افغانستان تک پہنچتا تھا۔ سولہ برس تک افغانستان میں خاک چاٹنے اور ہزیمت اٹھانے کے بعد آج امریکا افغان مجاہدین سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے تو اس مقصد کے حصول میں بھی ہم عالی شان طریقے سے امریکا کے ہم قدم ہیں۔ بھارت کے معاملے میں بھی ہمارا رویہ امریکی پالیسیوں کا عکاس رہا ہے۔ جب تک بھارت میں کانگریس کی حکومت رہی بھارت امریکی اثر رسوخ سے باہر رہا لیکن بھارتیا جنتا پارٹی کی حکومت آنے کے بعد امریکا اور بھارت ایک دوسرے کے قریب آنا شروع ہوئے۔ پاکستان کی قیادت نے بھی امریکی پالیسی کے مطابق اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرلی۔ جب تک کانگریس کی حکومت تھی پاکستان بھارت کی ایک گولی کا جواب ایک برسٹ سے دیا کرتا تھا لہٰذا بھارت اپنی اوقات میں رہا کرتا تھا لیکن جب سے بھارت میں امریکا کی فرینڈلی حکومت آئی ہے۔ امریکا نے بھارت کو اپنا قدرتی اتحادی قرار دیا ہے تب سے ہم بھارت کے ساتھ صبر وتحمل کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اس صبر وتحمل کی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب بھارت کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر گولہ باری کرکے دوچار پاکستانیوں کو شہید نہ کردیتا ہوں اور ہماری طرف سے دوچار گرما گرم بیان نہ آجاتے ہوں۔
امریکی نائب وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا کہ: ’’پاکستان دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے اگر دہشت گردوں کے متعلق مخصوص معلومات اسے فراہم کی جائیں۔ واشنگٹن کا ارادہ ہے کہ اسلام آباد کو یہ موقع فراہم کیا جائے۔‘‘ دوسری طرف ہمارے دفتر خارجہ نے ایسی کسی فہرست کی وصولی سے انکار کیا ہے۔ یہ ہمارا پرانا شعار ہے۔ عوام کو دھوکا دینے کے لیے ہمارے حکمران ایسا ہی طرزعمل اپناتے ہیں۔ لیکن پھر ہوتا وہی ہے جو امریکی کہتے ہیں۔ اگر ریکس ٹیلرسن کا بیان درست ہے اور غلط ہونے کی کوئی وجہ نہیں تو امریکا کی دی ہوئی فہرست کے نتیجے میں ہم امریکا کے ساتھ ساتھ بھارت کی راہ کے کانٹے چننا بھی شروع کردیں گے۔ کل تک امریکا مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد کو جنگ آزادی سے تعبیر کرتا تھا۔ ہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ اب بھارت سے اتحاد کے نتیجے میں امریکا کو کشمیری عوام کی جدوجہد دہشت گردی اور جہادی تنظیمیں دہشت گرد تنظیمیں نظر آتی ہیں۔ افغان مجاہدین کے بعد اس فہرست کے ذریعے کشمیری مجاہدین کی سپاری بھی امریکا ہمیں دے رہا ہے۔
امت مسلمہ زوال اور بربادی کے اس مقام پر ہے جہاں اس کے پاس اب کھونے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں بچا۔ بیداری کی ایک زیریں لہر عالم اسلام میں ایک سرے سے دوسرے تک پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں میں یہ احساس فروغ پارہا ہے کہ ان کے مسائل کا حل کفر کے نظام میں نہیں بلکہ اسلام میں ہے۔ امریکا مسلمانوں کی اس بیداری کو محسوس کررہا ہے۔ عالمی سیاست میں امریکا مسلمانوں کو اپنے مدمقابل کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسلام کی اس لہر کو کچلنے کے لیے ایک طرف امریکا مسلم ممالک میں برسر اقتدار اپنے ایجنٹ حکمرانوں کو استعمال کررہا ہے دوسری طرف ان ممالک سے اتحاد کررہا ہے جو مسلم دشمنی کی تاریخ رکھتے ہیں۔ اس اتحاد سے امریکا اور بھارت باہمی مفادات کشید کررہے جب کہ امریکا سے اتحاد کرکے ہم نے صرف ذلت اور رسوائی مول لی ہے۔ آقا اور غلام کے تعلقات میں غلاموں کے حصے میں ذلت ہی آتی ہے۔

حصہ