نواز شریف‘ زرداری اور میثاق جمہوریت

73

واقفانِ حال کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف جب مشکل میں ہوتے ہیں تو دوسروں کی طرف دوستی اور اتحاد کا ہاتھ بڑھاتے ہیں لیکن جب مشکل سے نکل آئیں یا اقتدار سے ہمکنار ہو جائیں تو آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں۔ پھر ’’تو کون، میں کون‘‘ پہچانتے ہی نہیں۔ جب جنرل پرویز مشرف نے انہیں اقتدار سے بے دخل کرکے جلاوطن کیا اور بے یارومددگار پھر رہے تھے تو انہیں پیپلز پارٹی یاد آئی جس کا نام سن کر کسی زمانے میں ان کا خون کھول اُٹھتا تھا۔ وہ لندن میں پیپلز پارٹی کی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو سے ملے۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ بے نظیر بھٹو بھی اُن دنوں جنرل پرویز مشرف کی ستائی ہوئی تھیں، ابھی این آر او نہیں ہوا تھا اور انہیں بھی کسی سیاسی سہارے کی ضرورت تھی۔ چناں چہ انہوں نے آگے بڑھ کر میاں نواز شریف کا ہاتھ تھام لیا اور دونوں نے ’’میثاق جمہوریت‘‘ پر دستخط کردیے۔ طے پایا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں مل کر بحالی جمہوریت کے لیے جدوجہد کریں گی، جمہوریت بحال ہونے کے بعد جو پارٹی بھی برسراقتدار آئے گی تو دوسری پارٹی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے اس کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے اسے اپنی مدت پوری کرنے کا موقع دے گی۔ ’’میثاق جمہوریت‘‘ تو ہوگیا لیکن یہ مجبوری کا سودا تھا، دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے مخلص نہ تھیں اور ان کے قائدین بھی ایک دوسرے کو دھوکا دینے میں لگے ہوئے تھے، چناں چہ بے نظیر بھٹو نے میاں نواز شریف کو بتائے بغیر پرویز مشرف کے ساتھ این آر او کرلیا اور اس کے ساتھ شراکت اقتدار کا فارمولا طے کرنے لگیں۔ پرویز مشرف نے ان کے شوہر آصف زرداری کو رہا کرکے بیرون ملک بھیج دیا۔ فوجی آمر اس بات کے حق میں نہ تھا کہ بے نظیر بھٹو 2008ء کے انتخابات سے قبل پاکستان واپس آئیں۔ وہ انتخابی نتائج اپنی خواہش کے مطابق طے کرنا چاہتا تھا لیکن بے نظیر بھٹو اس پر آمادہ نہ ہوئیں وہ واپس آئیں اور راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ عام سے خطاب کے بعد قاتل کی گولی کا نشانہ بن گئیں۔ جب کہ میاں نواز شریف بھی اپنی جبری جلاوطنی ترک کرکے پاکستان آچکے تھے۔ 2008ء کے عام انتخابات ہوئے تو اگرچہ اس میں بے نظیر بھٹو موجود نہ تھیں لیکن ان کی پارٹی نے عوام سے مظلومیت کا ووٹ لے کر اکثریت حاصل کرلی تھی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو میاں نواز شریف ’’میثاق جمہوریت‘‘ پر دستخط کرنے کے باوجود اس کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوگئے، یہاں تک کہ جب صدر زرداری کے خلاف میمو اسکینڈل سامنے آیا تو کالا کوٹ پہن کر زرداری کے خلاف عدالت عظمیٰ میں پیش ہوگئے۔ میاں نواز شریف آج ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی گردان کررہے ہیں لیکن جب عدالت عظمیٰ نے پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمیٰ سے بے دخل کیا تھا تو یہی میاں صاحب اس عدالتی فیصلے کے پُرجوش حامی بنے ہوئے تھے۔
اب دیکھیے 2013ء کے عام انتخابات کے بعد سیاسی منظر بدلتا ہے، پیپلز پارٹی کی جگہ مسلم لیگ (ن) برسراقتدار آجاتی ہے، میاں نواز شریف تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھال لیتے ہیں لیکن تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو (ن) لیگ کی یہ کامیابی ہضم نہیں ہوتی، وہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا واویلا کرکے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کردیتے ہیں۔ یہ احتجاج بعدازاں ایک طویل دھرنے میں بدل جاتا ہے۔ یہ دھرنا وفاقی دارالحکومت کو جام کرکے رکھ دیتا ہے۔ امپائر کی انگلی اُٹھنے کی باتیں ہونے لگتی ہیں۔ میاں صاحب کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگتی ہیں، ایسے میں پیپلز پارٹی اگر چاہتی تو ان کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن سکتی تھی لیکن اس نے ’’میثاق جمہوریت‘‘ کی لاج رکھتے ہوئے انہیں اخلاقی و سیاسی سہارا دیا، پوری پارلیمنٹ ان کی پشت پر کھڑی کردی اور عمران خان ہاتھ ملتے رہ گئے۔ جب میاں صاحب اس بحران سے گزر گئے اور ان کا بال بھی بیکا نہ ہوا تو انہوں نے پیپلز پارٹی کے معاملے میں پھر آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں۔ آصف زرداری فوج کے خلاف ایک بیان دے کر مشکل کا شکار ہوئے تو میاں صاحب نے ان کے ساتھ طے ملاقات منسوخ کردی اور ملنے سے کترا گئے۔ نتیجتاً زرداری کو ملک سے فرار ہو کر دبئی میں پناہ لینا پڑی، وہ اس وقت واپس آئے جب آرمی چیف جنرل راحیل ریٹائرڈ ہوگئے۔ اب حالات نے پھر پلٹا کھایا ہے، نواز شریف عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نااہل ہونے کے بعد احتساب کے شکنجے میں ہیں ان پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے اور خود کو قانون کے سپرد کرنے کے سوا اُن کے پاس کوئی
آپشن نہیں رہا تو ایسے میں انہیں پھر زرداری یاد آرہے ہیں تا کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر سیاسی حالات کا مقابلہ کرسکیں۔ وہ زرداری کو پیغام پر پیغام بھیج رہے ہیں۔ رابطہ کاروں کو درمیان میں ڈال رہے لیکن بات نہیں بن پارہی، خواجہ آصف نے کہ زرداری کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں، اعتراف کیا ہے کہ وہ ان کی ٹیلیفون کال بھی سننے کو تیار نہیں ہیں، سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، آخر زرداری، میاں نواز شریف کا ساتھ کیوں دیں جب کہ وہ کئی بار ان کی بیوفائی کو آزما چکے ہیں۔ زرداری سر کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ نواز شریف بازی ہار گئے ہیں، قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں اس نے میاں صاحب کو چاروں شانے چت کردیا ہے۔ پھر وہ ان کا ساتھ کیوں دیں۔ ’’میثاق جمہوریت‘‘ کے مطابق میاں صاحب اپنی باری لے چکے اب ان کی باری ہے۔ ان کے جلسوں میں ’’اب کے باری پھر زرداری‘‘ کے نعرے لگ رہے ہیں، وہ اپنی باری کو کیوں خطرے میں ڈالیں۔ بتایا جاتا ہے کہ زرداری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی راہ و رسم بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے سندھ میں رینجرز کے ساتھ مخاصمت ترک کردی ہے اور اسے فری ہینڈ دے دیا ہے۔ اب ان کی نظریں وفاق اور پنجاب پر ہیں۔
کیا زرداری دوسری باری لے سکیں گے؟ عمران خان کی موجودگی میں یہ سوال پھن پھیلائے کھڑا ہے۔ خان، میاں نواز شریف اور زرداری دونوں کو چیلنج کررہا ہے اور مرنے مارنے پر تلا ہوا ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر خان نے دونوں کے لیے خطرات پیدا کردیے تو ممکن ہے کہ یہ دونوں ’’میثاق جمہوریت‘‘ کی چھتری تلے پھر اکٹھے ہوجائیں کہ ایک دوسرے سے غیر مخلص ہونے کے باوجود خان کے مقابلے میں ایک ہیں۔

حصہ