ایک کیا ہوئے نیک ہو گئے

85

بات حلق سے اتر کر نہیں دے رہی۔ کل تک ٹی وی چیخ رہا تھا کہ فاروق ستار نے بڑا کامیاب جلسہ کیا۔ تجزیہ کر رہا تھا مصطفی کمال کے ملین مارچ سے۔ غیرت دلارہا تھا پی ایس پی کو اور بڑھوتری دے رہا تھا ایم کیو ایم پاکستان کو۔ مصطفی کمال کا اس پر شدید رد عمل آیا اور کہا گیا کہ وہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ ایم کیو ایم کو دفن کر دیں گے۔ ایک کامیاب جلسے کے باوجود اچانک بغیر کسی مدافعت کے کوئی اور ہی ڈرا ما ہو گیا۔ یہ تو نہیں معلوم کہ کون کس کا ہو گیا لیکن کچھ ہو گیا اور اس کچھ ہونے میں لگتا ہے کہ دونوں(مصطفی کمال اور فاروق ستار) کے ہاتھ سے بازی نکل گئی اور مشرف یا عشرت العباد کے ہاتھ میں چلی گئی۔ مشرف جس پر غداری کے مقدمات ہیں اور جس کا آج کل کوئی ذکر تک نہیں کر رہا وہ پاک صاف ہو کر ایک نئی پارٹی کے سر براہ بن جائیں یا پھر عشرت العباد جن کو 14برس خدمت کے صلے میں حسب روایت ذلیل کرکے نکالا گیا تھا وہ ایک نئی پارٹی کی قیادت سنبھال لیں گے۔ رات گئے فاروق ستار نے پلٹا کھا لیا۔ ایک نئے ڈرامے کے بعد اتحاد ختم کردیا۔ آخر اچانک ہوا کیا تھا۔ کیا کوئی بڑا زلزلہ آنے والا تھا۔ سیاست میں پارٹیاں ٹوٹتی اور بنتی رہتی ہیں۔ وہی پارٹی رہ جاتی ہے جسے عوام کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ کیا مضائقہ تھا اگر راہیں جدا جدا رکھ کر پارٹیاں اپنا اپنا کام کرتی رہتیں۔ عوام کی عدالت قائم ہونے میں چند مہینے تو رہ گئے تھے ، سب کو اپنی اپنی قسمت کا علم ہوجاتا۔
ممکن ہے کہ کسی کی خواہش ہو کہ کراچی کراچی والوں ہی کا رہے تو اتنی اکھاڑ پچھاڑ کی ضرورت ہی کیا تھی اگر دونوں کو گلے لگاکر یہ سمجھ لیا جائے کہ یہی اب کراچی کی تقدیر بدل دیں گے تو یہ سب تو پہلے بھی ایک ہی تھے۔ ان میں سے کون ایسا ہے جو (سوائے چند) جو باہر کا ہے۔ یہی سب تو کراچی کی تقدیر بنے ہوئے تھے۔ وہ لڑے یا لڑائے گئے یہ بحث الگ ہے لیکن اگر ان کا انضمام کراچی کی روشنیاں واپس لا سکتا ہے تو وہ کون لوگ تھے جنہوں نے روشنیوں کو تاریکیوں میں بدل دیا؟۔ کوئی ایک بھی تو نہیں بدلا۔ وہی چہرے ہیں، وہی لب و لہجے ہیں، وہی طرز گفتار ہے، وہی چال ڈھال ہے۔ ارے یہی تو سارے بھتا خور کہلاتے تھے، یہی تو ٹارگٹ کلر تھے، یہی تو اغوا برائے تاوان میں شریک تھے۔ یہی سارے را کے ایجنٹ تھے اور یہی تو وہ لوگ تھے جو 250انسانوں کو زندہ جلانے میں شریک تھے۔ جب ایک سے ’’دو‘‘ ہوئے تو ایک جانب والے ہر قسم کے جرائم کے باوجود نیک اور پارسا کہلائے۔ دوسری جانب کے سارے کے سارے بدمعاش۔ پھر جو باغیوں کے ساتھ مل جاتا اس کے 70 خون معاف ہوجاتے اور زم زم دھلا ہو جاتا۔ وہ آگ میں جھلسنے والوں کی چیخیں کیا ہوئیں؟ ان کے لواحقین کی آہیں اور فریادیں ہواؤں میں ہی گونجتی رہ گئیں۔ ساری فریادیں ضائع ہو گئیں؟ لہو روتی آنکھیں بینائی سے بھی محروم ہو گئیں؟
وہ کون ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم (اہل کراچی) نہیں رہ کر بھی رہے۔ رہے بھی اور نہیں بھی رہے۔ شہر کے لوگوں سے اقتدار چھین بھی لیا جائے اور نہیں بھی چھینا جائے۔ کیا ایم کیو ایم نہیں ہو گی تو کوئی فرق پڑ جائے گا؟ اور اسے کسی نہ کسی صورت اور کسی نہ کسی نام کے ساتھ زندہ رکھا جائے گا تو شہر کے حالات درست ہو جائیں گے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو میری طرح ہر ذہن میں اٹھ رہے ہوں گے۔ جب ایک پارٹی مافیا بن ہی چکی تھی اور اس کو اپنے انجام تک پہنچاہی دیا گیا تھا (بقول اسٹیبلشمنٹ) تو آخر ایسی کیا مصیبت آن پڑی تھی کہ اس کو کسی اور نام سے زندہ رکھنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ اگر کراچی کا امن و سکون محض ان کی وجہ سے تہہ و بالا ہوگیا تھا تو پھر ان کے خاتمہ بالخیر پر تو شکرانے کے نوافل پڑھے جانے چاہیے تھے۔ یہ عجیب تما شا ہے کہ ختم بھی کرنا مقصود ہے اور قائم رکھنا بھی ضروری ہے۔
یہ سب کے سب پہلے ایک ہی تھے۔ جب ایک تھے تو پورا پاکستان ان کو نیک نہیں سمجھتا تھا۔ پھر دوبارہ ان کو ایک کیا جارہا ہے تو کیا وہ سب اب نیک کہلائے جانے لگیں گے؟
لوگ کہتے ہیں کہ کراچی کے مسائل کے لیے ان کو یک جا ہو جانا چاہیے۔ کیا لوگوں کا ایسا کہنا دل و دماغ قبول کرتا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی سب کا ہے اور کراچی کے مسائل سانجھے ہیں تو کیا کراچی میں یہی دو دھڑے ہیں؟ کراچی میں دوسری سیاسی جماعتیں موجود نہیں؟ کیا کراچی ان کا نہیں ہے؟ کیا ان کو کراچی کے مسائل کے لیے ایک پلیٹ فارم پر نہیں آجانا چاہیے؟ اگر کسی کا خیال یہ ہے کہ کم از کم ان دو دھڑوں کو ایک ہوجانا چاہیے تو یہ تو پہلے بھی ایک ہی تھے۔ جب ایک تھے تو دو تین اور چار میں تبدیل کیا گیا اور اب کہا جا رہا ہے ایک ہونے میں فائدہ ہے۔ یہ ایک ایسا گورکھ دھندا ہے جس کی ڈور جتنی سلجھائی جائے اتنی ہی الجھتی جاتی ہے۔
اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
’’یہ شہر‘‘ کاہے کو اک خواب ہے دیوانے کا

حصہ