الطاف حسین پارٹ۔2

168

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے الطاف حسین کا جانشین ہونے کا حق ادا کردیا۔ الطاف حسین بھی یہی ڈراما کرتا تھا۔ اس نے قیادت اور سیاست سے دستبرداری کا کئی بار اعلان کیا لیکن محض ایک آدھ گھنٹے بعد ہی واپس لے لیا۔ ذمے داری وہ کارکنوں پر ڈال دیتا تھا جو نہیں بھائی، نہیں بھائی کا شور مچادیتے تھے اور رونا پیٹنا ڈال دیتے تھے۔ اس ڈرامے میں آج کے مہاجر قائدین بھی شامل ہوتے تھے۔ اسی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے فاروق ستار نے بھی گزشتہ جمعرات کو یہی کچھ کیا۔ پہلے ایم کیو ایم کی قیادت اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا پھر ایک گھنٹے بعد اعلان واپس لے لیا۔ اس موقع پر بھی وہی مناظر دوہرائے گئے جو الطاف حسین کئی بار پیش کرچکا ہے۔ اس بار بھی ایم کیو ایم کے کارکنوں نے نہیں، نہیں کا شور برپا کردیا اور سب ہی فاروق ستار کو منانے میں لگ گئے۔ اس بار تھوڑاسا فرق یہ پڑا کہ فاروق ستار نے اپنی واپسی اور فیصلہ واپس لینے کا ملبہ اپنی والدہ پر ڈال دیا کہ ان کے اصرار پر رجوع کیا گیا ہے۔ بہتر تھا کہ پہلے ہی امی جان سے مشورہ کرلیتے۔ لیکن الطاف حسین کی نقل میں یہ یوٹرن مذاق بن رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ یہ محض یوٹرن نہیں بلکہ گول گول گھومنے کا عمل ہے اور انہیں خود پتا نہیں کہ جانا کہاں ہے۔فاروق ستار کی اس حرکت سے ایم کیو ایم مضحکہ خیز حالت میں آگئی ہے اور ڈاکٹر فاروق ستار کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ فاروق ستار نے احتجاجاً رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی اور ناراضی کا تاثر دیتے رہے۔ لیکن رات گئے تک ساری ناراضی دور ہوگئی اور پرانی شرائط پر کام کرتے رہنے پر آمادہ ہوگئے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ جمعرات کی پریس کانفرنس میں 24 گھنٹے پہلے کے اتحادی مصطفی کمال پر بھی خوب گرجے برسے اور اتحاد توڑنے کا اعلان کردیا۔ دوسری طرف مصطفی کمال کا کہناہے کہ ایم کیو ایم سے اتحاد نہیں انضمام ہوا تھا، اتحاد دو پارٹیوں کا ہوتا ہے، میں بھی اپنا برانڈ بند کرنے جارہاہوں۔ انہوں نے اپنی پاک سرزمین پارٹی کو اپنا برانڈ قرار دیا ہے لیکن بدھ کو مشترکہ پریس کانفرنس میں انضمام کی کوئی بات سامنے نہیں آئی اور انضمام کا مطلب ہے کہ پی ایس پی ختم کی جارہی ہے۔ ابھی تو یہ طے ہونا تھا کہ دونوں پارٹیوں کے انضمام کے بعد اس نئے ملغوبے کا نام کیا ہوگا اور انتخابی نشان پتنگ ہوگی یا پی ایس پی کا نشان جو غالباً پاکستانی پرچم ہے۔ اس سے پہلے ہی ساجھے کی ہنڈیا چوراہے پر پھوٹ گئی۔ اب مصطفی کمال نے آج ہفتے کو فاروق ستار کے اقدامات کا جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ ابھی تک تو ٹی وی چینلوں پر پاناما کا ہنگامہ اور شریف خاندان کے بیانات، عدالتوں میں آر جار کی خبریں چھائی ہوئی تھیں مگر اب دو چار دن کے لیے نیا موضوع ہاتھ آگیا ہے۔ دیکھیں یہ کب تک چلتا ہے۔ وہ زمانے گئے جب اہل کراچی بڑے سمجھ دار اور سیاسی شعور رکھنے والے سمجھے جاتے تھے۔ الطاف حسین اور اس کی ایم کیو ایم نے اردو بولنے والوں، خاص طور پر کراچی والوں کو نیا تشخص دیا جو نہایت شرمناک ہے۔ الطاف نے مہاجر سیاست پر پردہ ڈالنے کے لیے اسے متحدہ قومی موومنٹ کا نام دیا لیکن جب بھی ضرورت پڑی اپنی آستین سے مہاجر کارڈ نکال لیا اور با شعور سمجھے جانے والے مہاجر آج بھی اس کے اسیر ہیں۔ گزشتہ جمعرات کو فاروق ستار نے بھی یہی حربہ استعمال کیا اور نعرہ لگایا کہ ’’کسی قیمت پر مہاجر سیاست نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ ان کا کہناتھا کہ پارٹی نشان اور شناخت سے دست بردار نہیں ہوں گے۔ لیکن فاروق ستار کے گرد اور ایم کیو ایم کے بانی الطاف نے تو مہاجر سیاست اور شناخت پاکستان دشمن بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کی جھولی میں ڈال دی۔ حیرت انگیز طور پر مصطفی کمال کو لتاڑنے اور اوقات یاد دلانے کے باوجود فاروق ستار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پی ایس پی سے اتحاد برقرار رہے گا۔ یہ کیا تماشا ہے؟ اتحاد ہے یا نہیں ہے یا یہ انضمام ہے۔ سب کچھ چیستاں بن گیا ہے۔ فاروق ستار نے نام لے لے کر اپنے ساتھیوں کا شکوہ کیا ہے کہ جن کو اعتماد میں لے کر پی ایس پی کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ کیا وہی میرے ساتھ کھڑے نہیں رہے۔ فاروق ستار خوب سوچ لیں کہ آئندہ ان کے ساتھ کون کھڑا ہوگا۔ اس سارے ڈرامے پر مخالفین خوب بغلیں بجارہے ہیں۔ پیپلزپارٹی جال لے کر تیار کھڑی ہے کہ جو پنچھی ایم کیو ایم سے اڑیں انہیں زیر دام کرلے۔ایم کیو ایم کے کئی ارکان کے رابطے آصف زرداری سے ہوئے ہیں اور وہ اپنا مستقبل خطرے میں دیکھ کر پیپلزپارٹی میں جانے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ فاروق ستار نے پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایاکہ انہوں نے پاک فوج کے سالار، چیف جسٹس، وزیراعظم اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہوں کو خط لکھ دیا ہے۔ لیکن اس خط میں کیا ہے اس کی وضاحت انہوں نے نہیں کی البتہ یہ کہاکہ ضرورت پڑی تو یہ خط سامنے لے آئیں گے۔ گمان ہے کہ وہ چھ ماہ سے مصطفی کمال سے جس رابطے میں تھے اس کی تفصیلات خط میں ہیں اور شاید یہ بھی کہ کس کس کے دباؤ پر وہ پی ایس پی کے ساتھ اتحاد کے اعلان پر مجبور ہوئے۔ ان کے بقول یہ ’’انجینیرڈ سیاست‘‘ تھی۔ انجینیروں کا نام بھی بتادیتے تو اچھا تھا تاہم انہوں نے آئندہ کسی موقع پر زبان کھولنے کی دھمکی بھی دے دی۔ کراچی کی مہاجر سیاست میں اب امی جان کا کردار بھی شامل ہوگیا ہے۔ جمعرات کو ان کے لیے بھی زندہ باد کے نعرے لگ گئے۔ والدہ کی اطاعت بہت اچھی بات ہے اﷲ انہیں اس کا اجر دے لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ امی جان کو بھی رابطہ کمیٹی میں شامل کرلیا جائے، ان کے مشورے خلوص پر مبنی ہوں گے۔ اب دیکھنا ہے کہ مصطفی کمال آج اپنی صفائی میں کیا بتاتے ہیں کہ ان کے پاس ساڑھے تین کروڑ کی بلٹ پروف گاڑی اور ڈیفنس کا بنگلا کہاں سے آیا۔ الطاف حسین نے تو کہاتھا کہ اس نے مصطفی کمال کو مکان کے لیے صرف 50 لاکھ روپے دیے تھے اور وہ اپنی جیب سے نہیں بلکہ بھتے کی آمدنی میں سے۔

حصہ