نیٹو ممالک کو افغانستان میں مزید فوج بھیجنے پر تحفظات

39

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی فوجی عہدے داروں نے کہا ہے کہ نیٹو نے افغانستان میں مزید فوجی دستے بھیجنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس نے یہ وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوجی قوت میں کمی سے ملک میں سیکورٹی کی کمزور صورت حال کے لیے مزید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ نیٹو کے دفاعی نمایندوں کے ایک اجلاس میں کمانڈروں کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیا کی حکمت عملی کے اعلان کے 3 مہینے گزرنے کے بعد بھی نیٹو نے تربیتی مقاصد کے لیے اپنے فوجیوں کی تعداد میں اتنا اضافہ نہیں کیا جس کی توقع تھی۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے اس ہفتے کہا تھا کہ تربیتی مشن کے لیے فوجیوں کی تعداد 16 ہزار کے لگ بھگ تک لانے کے لیے نیٹو اتحادی اور امریکا مشترکہ طور پر مزید 3 ہزار فوجی فراہم کریں گے۔ دو سفارت کار یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکا ممکنہ طور پر 2800 فوجی فراہم کرے گا، جب کہ نیٹو اس کے شراکت دار اور غیر اتحادی ملک تقریباً 700 فوجی بھیجیں گے، تاکہ نئے دستوں کی تعداد 3500 تک پہنچ سکے۔ یورپ سے فوجی مہیا کرنے والے ایک اہم ملک جرمنی نے کہا ہے کہ وہ اگلے سال کے لیے اپنے فوجیوں کی تعداد نہیں بڑھا سکے گا۔ نیٹو وزرا کے اجلاس سے تناظر میں امریکی عہدے داروں نے کہا ہے کہ اتحادیوں نے فوجیوں سے متعلق اپنے وعدوں کا 80 فیصد پورا کر دیا ہے۔ تاہم کمی اب بھی باقی ہے۔

حصہ