داعش نے بو کمال پر جوابی حملہ کردیا

54
دمشق: شام کے سرحدی شہر بوکمال میں داعش اور اسدی فوج کے درمیان جاری جھڑپوں کے باعث شہری دریائے فرات کو عبور کرکے محفوظ مقامات کی جانب جا رہے ہیں
دمشق: شام کے سرحدی شہر بوکمال میں داعش اور اسدی فوج کے درمیان جاری جھڑپوں کے باعث شہری دریائے فرات کو عبور کرکے محفوظ مقامات کی جانب جا رہے ہیں

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) داعش نے شام کے صوبے دیرالزور کے اہم شہر بو کمال پر زوردار جوابی حملہ کیا ہے۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کیے گئے اس حملے میں جنگجو 50 فیصد شہر پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ جنگجوؤں نے یہ حملہ شہر کے شمالی سمت سے کیا اور کئی نواحی بستیوں پر بھی دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ شہر میں اس وقت بھی شدید لڑائی جاری ہے، جب کہ علاقے میں موجود شہریوں نے ایک بار پھر نقل مکانی شروع کردی ہے۔ اس شہر پر بشار الاسد کی حامی فوج نے اپنے حلیفوں کی مدد سے جمعرات کے روز ہی قبضہ مکمل کیا تھا۔ بو کمال شہر عراقی سرحد پر واقع ہے۔ دوسری جانب امریکا نواز کرد ملیشیا شامی جمہوری فوج کے ترجمان مصطفی بالی نے اسد حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے بوکمال میں داعش کے ساتھ سمجھوتا کر لیا ہے۔ الشرق الاوسط کو دیے گئے انٹریو میں بالی نے کہا کہ حالیہ معاہدہ دراصل ماضی میں داعش اور اسد حکومت کے درمیان کیے جانے والے معاہدوں کا تسلسل ہے۔ یہ معاہدے قلمون سے شروع ہو کر دیر الزور میں میادین سے ہوتے ہوئے بوکمال تک پہنچے ہیں۔ ادھر لبنانی تنظیم حزب اللہ کے زیر انتظام چلنے والی ایک نیوز ایجنسی نے داعش کے سربراہ ابو بکر بغدادی کی شامی شہر بو کمال میں موجودگی کو رپورٹ کیا ہے۔

حصہ