ٹرمپ کا یکطرفہ تجارت برداشت نہ کرنے کا اعلان

29
ہنوئی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تائیوان میں منعقد ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون تنظیم کی کانفرنس میں خطاب کر رہے ہیں
ہنوئی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تائیوان میں منعقد ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون تنظیم کی کانفرنس میں خطاب کر رہے ہیں

ہنوئی (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورہ ایشیا میں ویتنام میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن کانفرنس (ایپک) سے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا اب مزید مسلسل جانبدارانہ تجارت برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایپک ممالک کے ساتھ اس وقت تک کام کرنے کو تیار ہے جب تک کہ وہ باہمی تجارتی تعلقات میں توازن برقرار رکھیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادانہ تجارت کی وجہ سے امریکی نوکریوں سے محروم ہو رہے ہیں اور وہ اس عدم توازن کو درست کرنا چاہتے ہیں۔ ویتنام سے پہلے صدر ٹرمپ جاپان اور چین کا دورہ کر چکے ہیں۔ جمعے کو ہونے والی کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ تنظیم اس وقت تک درست طریقے سے کام نہیں کر سکتی جب تک کہ باقی تمام مالک قوانین کی مکمل پاسداری نہیں کریں گے۔ انہوں نے ایپک تنظیم کے ممالک کے بجائے سابق امریکی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ صورتحال ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے انڈو پیسیفک کی اصطلاح بار بار استعمال کی اور کہا کہ امریکا کسی بھی انڈو پیسیفک ملک کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے جو باہمی تعاون اور باہمی اتفاق کے ساتھ تجارتی پالیسیاں بنانے کے قوانین پر عمل کرے گا۔ ویتنام سے قبل دورہ چین میں بھی صدر ٹرمپ نے امریکا کے چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کے بارے میں بات کی تھی، لیکن چین کو اس کا ذمے دار قرار نہیں دیا تھا۔ ایپک تنظیم بحرالکاہل خطے کے 21 ممالک کی تنظیم ہے جو دنیا کی مجموعی قومی پیداوار کا 60 فیصد حصہ بنتا ہے۔

حصہ