یونان سے مزید تارکین وطن کی ترکی واپسی

22
ایتھنز: شامی مہاجرین جرمن سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کر رہے ہیں
ایتھنز: شامی مہاجرین جرمن سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کر رہے ہیں

ایتھنز (انٹرنیشنل ڈیسک) ایتھنز حکام نے پاکستانی شہریوں سمیت کئی دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو ملک بدر کرکے واپس ترکی بھیج دیا ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق یونانی حکام نے فرنٹیکس کے تعاون سے بحیرہ ایجیئن کے ذریعے ترکی سے یونانی جزیروں پر پہنچنے والے 19 تارکین وطن واپس ترکی بھیج دیا ہے۔ ایتھنز حکام کے مطابق ملک بدر کیے گئے تارکین وطن کا تعلق پاکستان، ایران، عراق اور دیگر ممالک سے تھا۔ غیر قانونی طور پر یونانی حدود میں آئے ان تارکین وطن کو یونانی جزیروں لیسبوس سے ملک بدر کرتے ہوئے ترکی کے ساحلی شہر ڈکیلی پہنچا دیا گیا۔ ایتھنز حکام کے مطابق یہ ملک بدریاں یورپی یونین اور ترکی کے مابین گزشتہ برس مہاجرین سے متعلق طے پائے گئے ایک معاہدے کے تحت کی گئی ہیں۔ دوسری جانب یونانی دارالحکومت ایتھنز میں مہاجرین نے ایک احتجاجی مظاہرے میں مطالبہ کیا ہے کہ انہیں جرمنی میں موجود ان کے رشتہ داروں کے پاس جانے کی اجازت دی جائے۔ ان میں سے کئی مہاجرین کے قریبی عزیز برلن میں آباد ہیں۔ ایتھنز میں جرمن سفارتخانے کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں مہاجرین کے مختلف گروپوں نے شرکت کی۔ اس مظاہرے میں جرمن دارالحکومت برلن میں مقیم مہاجرین اور تارکین وطن کے قریبی رشتہ دار بھی موجود تھے۔ ان مظاہرین نے مہاجرین کے خاندانوں کے ملاپ کے سست عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جرمن حکومت تیزی دیکھاتے ہوئے جلد ہی انہیں ان کے پیاروں کے پاس پہنچائے۔ اس موقع پر تقریباً 150 مہاجرین نے نعرے لگائے کہ جرمنی اور ماما مرکل دروازے کھول دو۔

حصہ