محکمہ فائربریگیڈ میں مزید سنگین بے قاعدگیوں کا انکشاف

82

کراچی (رپورٹ: محمد انور) بلدیہ کراچی کے محکمہ فائربریگیڈ میں فائر ٹینڈرز کی مرمت و دیکھ بھال کے امور میں مزید بے قاعدگیوں کا انکشاف ہواہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فائر ٹینڈرز کی مرمت و دیکھ بھال کا 2009ء میں ٹھیکا لینے والی فرم فیبریکشن اینڈ ری انجینئرنگ نہ تو ماہر انجینئر اور تجربہ کار عملہ رکھتی ہے اور نہ ہی مطلوبہ عالمی معیار کا ورکشاپ اس کے پاس ہے تاہم اس کے باوجود یہ مسلسل 8 سال سے کے ایم سی کے محکمہ فائر بریگیڈ کی فائر سے متعلق گاڑیوں کی مرمت و دیکھ بھال کا ٹھیکا سنبھالے ہوئے ہے۔ اس کمپنی نے مبینہ طور پر کے ایم سی کے اپنے انجینئرز اور عملے کی ماہانہ تنخواہ کی بنیاد پر خدمات حاصل کی ہوئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ایم سی میں اپنی فرائض درست طریقے سے ادا نہ کرنے والے عملے کی وجہ سے فائربریگیڈ کے پاس کل فائر ٹینڈرز کی تعداد صرف 8 رہ گئی ہے جو 2009ء میں 48 تھی۔ اس مطلب یہ ہوا کہ سالانہ 54 کروڑ روپے کا ٹھیکا حاصل کرنے والی فرم فائر ٹینڈرز کی درستگی کرنے میں مسلسل ناکام ہے۔ مذکورہ بھاری معاوضے کے عوض سالانہ ٹھیکا لینے کے باوجود 40 فائر ٹینڈرز ناکارہ ہونے کا نوٹس ڈپٹی میئر ارشد وہرہ نے بھی لیا تھا مگر اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہری شہریت کے حامل سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز محکمہ فائر بریگیڈ کی تباہی کے اصل ذمے دار ہیں۔ ان دنوں پھر وہ حکومت کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں حالانکہ چند ماہ قبل ہی وہ ملک سے باہر گئے تھے اور حکومت نے بغیر اجازت بیرون ملک جانے پر انہیں معطل کردیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فائر ٹینڈرز کی مرمت کا ٹھیکا رکھنے والی فرم کے امور کے بارے میں صوبائی حکومت اور نہ ہی بلدیہ کراچی نے کوئی نوٹس لیا۔ حال ہی میں اس فرم نے مبینہ طور پر ایک اسنارکل کی مرمت کے لیے اضافی ایک کروڑ 50 لاکھ روپے لیے تھے لیکن مذکورہ اسنارکل اب بھی ناکارہ کھڑی ہے۔ یاد رہے کہ ڈائریکٹر فائر بریگیڈ و سول ڈیفنس تسنیم احمد نے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کی مرمت و دیکھ بھال کی ذمے دار فرم کو ادائیگی روکنے کی سفارش کرچکے ہیں تاہم تاحال اس سفارش پر سینئر ڈائریکٹر نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

حصہ