افکار سید ابوالا علی مودودیؒ

39

خلافتِ راشدہ۔۔۔

عصبیتوں سے پاک حکومت

رسولؐ کی وفات کے بعد عرب کی قبائلی عصبیتیں ایک طوفان کی طرح اْٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ مْدّعیانِ نبوّت کے ظہور اور ارتداد کی تحریک میں یہی عامِل سب سے زیادہ مؤثر تھا۔

مْسَیلمہ کے ایک پَیرو (follower) کا قول تھا کہ ’’میں جانتا ہوں مْسَیلمہ جھوٹا ہے، مگر رَبیعہ کا جھوٹا مْضر کے سچے سے اچھا ہے۔‘‘ (الطبری)

ایک دوسرے مْدعئ نبوّت طْلَیحہ کی حمایت میں بنی غطفان کے ایک سردار نے کہا تھا کہ ’’خدا کی قسم، اپنے حلیف قبیلوں کے ایک نبی کی پیروی کرنا، قریش کے نبی کی پیروی سے مجھ کو زیادہ محبوب ہے۔‘‘ (الطبری)

خود مدینہ میں جب ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو سعدؓ بن عْبادہ نے قبائلی عصبیّت ہی کی بِنا پر اْن کی خلافت تسلیم کرنے سے اجتناب کیا تھا۔ اِسی طرح ابو سفیانؓ کو بھی عصبیّت ہی کی بِنا پر اْن کی خلافت ناگوار ہوئی تھی اور انہوں نے علیؓ سے جا کر کہا تھا کہ ’’قریش کے سب سے چھوٹے قبیلے کا آدمی کیسے خلیفہ بن گیا، تم اْٹھنے کے لیے تیار ہو تو میں وادی کو سواروں اور پیادوں سے بھر دوں۔‘‘ مگر علیؓ نے یہ جواب دے کر اْن کا منہ بند کر دیا کہ ’’تمھاری یہ بات اسلام اور اہلِ اسلام کی دشمنی پر دلالت کرتی ہے۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ تم کوئی سوار اور پیادے لاؤ۔ مسلمان سب ایک دوسرے کے خیرخواہ اور آپس میں محبت کرنے والے ہوتے ہیں خواہ اْن کے دیار اور اجسام ایک دوسرے سے کتنے ہی دْور ہوں، البتہ منافقین ایک دوسرے کی کاٹ کرنے والے ہوتے ہیں۔ ہم ابوبکرؓ کو اس منصب کا اہل سمجھتے ہیں۔ اگر وہ اہل نہ ہوتے ہم لوگ کبھی اْنھیں اِس منصب پر مامور نہ ہونے دیتے۔‘‘ (کنز العمال۔ الطبری۔ الاستیعاب)

اِس ماحول میں جب ابوبکرؓ اور اْن کے بعد عمرؓ نے بیلاگ اور غیر متعصبانہ طریقے سے نہ صرف تمام عرب قبائل، بلکہ غیر عرب نومْسلموں کے ساتھ بھی منصفانہ برتاؤ کیا اور خود اپنے خاندان اور قبیلے کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے سے قطعی مْجتنب رہے تو ساری عصبیّتیں دَب گئیں اور مسلمانوں میں وہ بین الاقوامی رْوح اْبھر آئی جس کا اسلام تقاضا کرتا تھا۔ ابوبکرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں اپنے قبیلے کے کسی شخص کو حکومت کا کوئی عہدہ نہ دیا۔ عمرؓ نے اپنے پورے دورِ حکومت میں اپنے قبیلے کے صرف ایک صاحب کو، جن کا نام نعمان بن عدی تھا، بصرے کے قریب مَیسان نامی ایک چھوٹے سے علاقے کا تحصیلدار مقرر کیا اور اْس عہدے سے بھی اْن کو تھوڑی ہی مدّت بعد معزول کر دیا۔ (الاستیعاب۔ معجم البْلدان)

اِس لحاظ سے اِن دونوں خلفا کا طرزِ عمل درحقیقت مثالی تھا۔ (خلافت و ملوکیت)

*۔۔۔*۔۔۔*

خلفائے راشدینؓ اور قانون کی بالاتری

یہ خلفا اپنی ذات کو بھی قانون سے بالاتر نہیں رکھتے تھے بلکہ قانون کی نگاہ میں وہ اپنے آپ کو اور مملکت کے ایک عام شہری (مسلمان ہو یا ذِمّی) کو مساوی قرار دیتے تھے۔ قاضیوں کو اگرچہ رئیسِ مملکت ہونے کی حیثیت سے وہی مقرر کرتے تھے، مگر ایک شخص قاضی ہوجانے کے بعد خود اْن کے خلاف فیصلہ دینے میں بھی ویسا ہی آزاد تھا جیسا کیس عام شہری کے معاملے میں۔

ایک مرتبہ عمرؓ اور اْبیؓ بن کعب کا ایک معاملے میں اختلاف ہوگیا اور دونوں نے زیدؓ بن ثابت کو حَکَم بنایا۔ فریقین زیدؓ کے پاس حاضر ہوئے۔ زیدؓ نے اْٹھ کر عمرؓ کو اپنی جگہ بٹھانا چاہا، مگر عمرؓ اْبیؓ کے ساتھ بیٹھے۔ پھر اْبیؓ نے اپنا دعویٰ پیش کیا اور عمرؓ نے دعوے سے انکار کیا۔ قاعدے کے مطابق زیدؓ کو عمرؓ سے قسم لینی چاہیے تھی مگر انھوں نے اْن سے قَسم لینے میں تامل کیا۔ عمرؓ نے خود قسم کھائی اور اس مجلس کے خاتمہ پر کہا ’’زید قاضی ہونے کے قابل نہیں ہو سکتے جب تک عْمر اور ایک عام مسلمان ان کے نزدیک برابر نہ ہو۔‘‘ (بَیہقی، السْنن الکْبری)

ایسا ہی معاملہ علیؓ کا ایک عیسائی کے ساتھ پیش آیا جس کو انھوں نے کوفے کے بازار میں اپنی گْم شدہ زِرہ بیچتے ہوئے دیکھا تھا۔ انہوں نے امیرالمومنین ہونے کی حیثیت سے اپنی زِرہ اْس سے چھین نہیں لی، بلکہ قاضی کے پاس استغاثہ کیا۔ اور چونکہ وہ کوئی شہادت پیش نہ کر سکے اِس لیے قاضی نے اْن کے خلاف فیصلہ دے دیا۔‘‘ (بَیہقی)

ابنِ خلِّکان کی روایت ہے کہ ایک مقدمے میں علیؓ اور ایک ذِمّی فریقین کی حیثیت سے قاضی شْرَیح کی عدالت میں حاضر ہوئے۔ قاضی نے اْٹھ کر علیؓ کا استقبال کیا۔ اِس پر اْنہوں نے فرمایا ’’یہ تمھاری پہلی بے انصافی ہے۔‘‘ ( وفیاتْ الاعیان)

(خلافت و ملوکیت)

حصہ