آخرت پر ایمان

45

اسلام کے نزدیک انسان دوسرے جانوروں کی طرح محض ایک ذی حیات مخلوق نہیں بلکہ ایک ذمے دار اورمسؤل ہستی ہے۔ دنیا کی حیات چند روزہ اس کی اصل زندگی نہیں، یہ تو دارالامتحان ہے۔ اصل زندگی تو مرنے کے بعد حاصل ہوگی۔

اُس زندگی کا نام آخرت ہے، آخرت میں انسان کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار دنیوی زندگی میں اختیار کردہ طرزِعمل اور رویے پر ہے۔ اگر اُس نے اعمالِ صالحہ بجا لائے، اور شریعت کی پابندی کو اپنا شعار بنایا، تو وہ فوز وفلا ح کا حقدار ہوگا، اور اگر اِس کے گناہ وسرکشی کا وطیرہ اپنایا تو خسرانِ عظیم اُس کا مقدر ہوگا۔ لہذا انسان اگر بھلائی چاہتا ہے تو اُس کے لیے لازم ہے کہ وہ آخرت پر ایمان لائے اور اُخروی محاسبے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے کردار وعمل کی تعمیر کرے۔ وہ اِس حقیقت کو ہمیشہ مستحضر رکھے کہ اُس کی یہ عارضی زندگی متاع غرور ہے، جہاں اُسے تھوڑی سی مہلتِ عمل دے کر بھیجا گیا ہے، اصل زندگی موت کی سرحد کے اُس پار ہے۔ قرآنِ حکیم باربار اُس زندگی کی جانب متوجہ کرتا ہے۔ وہ زندگی جو آخرت میں حاصل ہوگی، وہ حیات دُنیا سے بہتر بھی ہوگی اور دائمی بھی۔

آخرت کی زندگی دُنیا کے مقابلے میں بہت بہتر بھی ہے، اُن لوگوں کے لیے جو آسمانی ہدایت کی پیروی کرتے ہوں کہ اُن کے لیے وہاں کوئی خوف وحزن نہ ہوگا۔ انہیں ہر قسم کی نعمتیں اور آسائشیں حاصل ہوں گی۔ اللہ کا دیدار نصیب ہو گا۔ پھر یہ کہ دُنیا کی زندگی عارضی ہے۔ یہ محدود ماہ وسال پرمشتمل ہے۔ یہاں کوئی کتنی طویل عمر بھی کیوں نہ پالے بالآخر اُس پر موت آکر رہے گی۔ اِس کے برعکس آخر ت کی زندگی دائمی اور ہمشہ باقی رہنے والی ہے۔ وہاں کی خوشیاں بھی انسان کو ہمیشہ حاصل رہیں گی۔ دوسری طرف آخرت میں گناہوں کی سزا بھی بہت سخت ہوگی۔ دُنیا میں انسان کو کسی جرم کی سخت سے سخت سزا دی جائے، حد درجہ تشدد کا نشانہ بنایا جائے، تو بھی اُسے معلوم ہوتا ہے موت آکر اُسے اِس سزا اور اذیت سے چھٹکارا دلا دے گی، لیکن آخرت کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ وہاں مجرموں کو جو سزا ملے گی وہ انتہائی سخت ہوگی اور اِس سختی کے سبب وہ فریاد کریں گے تاکہ اذیت سے رہائی مل سکے، مگر انہیں موت بھی نہیں دع جائے گی۔

آخرت کی دائمی زندگی میں انسان کے دو ہی انجام ہوں گے، یا تو وہ فوزوفلاح حاصل کرے گا اور جنت کا حقدار قرار پائے گا، یا ہمہ گیر خسار ے سے دوچار ہوگا اور اُسے جہنم کا ایندھن بنا دیا جائے گا۔ کوئی درمیانی صورت نہ ہوگی۔ جنت کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو دُنیا میں قرآنی ہدایت اور ضابطے کو زندگی کا منشور بنائیں گے اور خواہشاتِ نفس کو لگام دے کر اُسے احکامِ الہٰی کے تابع کریں گے۔ جہنم اُن لوگوں کا ٹھکانہ ہوگی جو آسمانی ہدایت سے انکار کردیں گے۔ اور یہ واضح ہے کہ انکار محض قولی ہی نہیں ہوتا کہ آدمی کہہ دے کہ وہ قرآن حکیم کو اللہ کی کتاب نہیں مانتا، بلکہ عملی بھی ہوتا ہے۔ آدمی زبان سے تو کتاب اللہ پر ایمان رکھتا ہو، مگر عملی زندگی میں آسمانی ہدایت کو اختیار کرنے پر آمادہ نہ ہو، اللہ کا بندہ ہونے کے دعویدار ہو، مگر حقیقت میں اُس نے خواہشا ت نفس کو اپنا الہٰ بنا رکھا ہو، تو یہ بھی انکار ہی کی روش ہے اور جو بھی یہ روش اپنائے، آگ کے خوفناک شعلوں کی نذر ہوگا۔

آخرت پر ایمان انسانیت کے نام قرآن کے پیغام کا ایک انتہائی اہم نکتہ ہے۔ یہی وہ ایمان ہے جو انسان کے اعمال کی صورت گری میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، انسان کو راہِ راست پر گامزن رکھتا اور اُسے سرکشی، نافرمانی حق تلفی اور ظلم وزیادتی سے باز رکھتا ہے۔ ایمان بالآخر ت کی اِسی اہمیت کے پیش نظر قرآن حکیم میں جا بجا اِس کا ذکر آتا ہے۔ مکی سورتوں کا تو اصل موضوع ہی آخرت ہے۔ اُن میں کثرت کے ساتھ جنت اور دوزخ کے احوال بیان ہوئے ہیں۔ اہلِ جنت کی خوشگوار زندگی اور اہلِ جہنم کے خوفناک انجام کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

آخرت پر ایمان ایمان باللہ کا تقاضا ہے۔ جب اللہ کو مان لیا اور یہ حقیقت دل میں جاگزیں ہوگئی کہ اللہ نے جو بھی فرمایا وہ برحق ہے، توآخرت پر ایمان لانا بھی ضروری ہوگیا ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے تو اپنی کتاب اور رسولؐ کے ذریعے اِس حقیقت کی رہنمائی کی ہے کہ دُنیا کے بعد ایک عالمِ آخرت ہوگا۔ جہاں دوبارہ انسان کو زندگی دے کر اُس سے اُس کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ اللہ نے یہ بات مختلف انداز سے سمجھائی ہے۔ کہیں قسم کھا کر فرمایا: ’’ہم کو روزِ قیامت کی قسم‘‘ سورۃ التغابن میں بنی اکرمؐ کی زبان سے کہلوایا: ’’جو لوگ کافر ہیں ان کا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اُٹھائے جائیں گے۔ کہہ دو کہ ہاں ہاں میرے پروردگار کی قسم! تم ضرور اُٹھائے جاؤ گے، پھر جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تمہیں بتائے جائیں گے اور یہ (بات) اللہ کو آسان ہے۔‘‘

فطرتِ انسانی اس بات کی متقاضی ہے کہ کوئی ایسا عالم ہونا چاہیے جہاں ضمیرکی آواز پر لبیک کہنے والے نیک طبیعت انسان کو اُن کے حسنِ کردار کا اچھا بدلہ ملے اور سرکش، فسادی اور شیطانی کردار کے لوگوں کو اُن کے بُرے طرزِ عمل اعما ل کی سخت سزا دی جائے۔ فطرت کی یہی وہ پکار ہے، جسے قرآنِ حکیم نے ایمان بالآخرت کی بنیاد بنایا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آخرت کے عقیدے کی بنیاد پر ہی دُنیا اور انسان کی تخلیق بامقصد قرار پاتی ہے، اُس دنیا کی تخلیق کو بامقصد کیسے کیا جاسکتا تھا جہاں نیکوکاروں اور سیاہ کاروں کے اعمال نتائج وانجام سے آزاد ہوتے۔ معلوم ہوا کہ آخرت انسان کی فطرت کی پُکار ہے۔

حصہ