کرامات اولیاء

42

مولانا محمد نجیب قاسمی

دنیا کے تمام مذاہب کی طرح دینِ اسلام میں بھی ابتدا سے ہی خرق عادت کے متعدد واقعات موجود ہیں۔ خرقِ عادت دراصل وہ عمل ہے جس کا احاطہ انسان کی عقل کسی خاص زمان ومکان میں بظاہر نہیں کرپاتی۔ اسی عمل کو دینی اصطلاح میں معجزے اور کرامت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مخصوص ذہن رکھنے والے بعض حضرات کی تحریروں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عناصر اللہ کے نیک اور متقی بندوں سے کسی خرق عادت عمل کے ظاہر ہونے کے یکسر منکر ہیں؛ جب کہ قرآن کریم کا ہر طالب علم ایسے متعدد واقعات سے واقف ہے جن کاذکر انبیاء کرام اور متقی لوگوں کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اسی لیے قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ 1400 سال سے اس بات پر مکمل طور سے متفق ہے کہ اللہ تعالیٰ جس طرح خرقِ عادت عمل (یعنی معجزہ) انبیاء کرام کے ذریعے ظاہر کرتا ہے، وہیں خرقِ عادت عمل (یعنی کرامات) اپنے متقی پرہیزگار بندوں کے ذریعے بھی ظاہر کرتا ہے۔

ہندوستان و پاکستان کے علما کی طرح پوری دنیا کے علما خاص طور پر سعودی عرب کے علما بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ کے حکم سے اللہ والوں کے ذریعے ایسے خرقِ عادت اعمال ظاہر ہوتے ہیں جن کا احاطہ انسان کی عقل نہیں کرپاتی ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کے علما کی رائے اور سعودی عرب کے مشہور عالم دین شیخ عبدالعزیز بن بازؒ کا فتویٰ ان کی آفیشیل ویب سائٹ پر پڑھا جاسکتا ہے اور سنا بھی جاسکتا ہے۔ اس مختصر مضمون میں دلائل پر گفتگو نہیں کی جاسکتی، صرف ایک حدیث قدسی پیش ہے: نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ میری طرف سے فرض کی ہوئی ان چیزوں سے جو مجھے پسند ہیں، میرا قرب زیادہ حاصل کرسکتا ہے، اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے مجھ سے قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ کا طالب ہوتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔ (صحیح بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب التواضع)ایسے بہت سے امور ہیں جہاں تک ہماری عقل کی رسائی نہیں ہے اور ہم اْن کو من وعن تسلیم کرلیتے ہیں۔ اسی طرح قرآن وحدیث کی روشنی میں امتِ مسلمہ کے ہر مسلک کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بعض ایسے کام یعنی کرامات اس کے برگزیدہ بندوں کے ذریعے رونما ہوتی ہیں جنھیں انسانی عقل بہ ظاہر قبول نہیں کرتی؛ تاہم عقیدے کی بنیا د پر ان کا یقین کیا جاتا ہے۔

ابتداء اسلام سے ہی بے شمار علماء کرام نے اولیاء کرام کے کرامات کو قلمبند کیا ہے۔ اس ضمن میں علامہ ابن تیمیہؒ کا حوالہ اور ذکر مناسب ہوگا۔ بلاشبہ ان کی شخصیت کو عالم اسلام میں قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی مشہور کتاب (الفرقان بین اولیاء الرحمن واولیاء الشیطان) میں اولیاء کرام کے ذریعے رونما ہونے والی ایسی کرامات اور واقعات کا ذکر کیا ہے جنہیں بہ ظاہر عقل تسلیم نہیں کرتی ہے۔ اس کتاب کے صفحہ 222 سے 230 تک تابعین کے کرامات کے متعدد واقعات موجود ہیں، جن میں سے چند واقعات کا ترجمہ پیش ہے۔ انھوں نے اپنی اسی کتاب میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ صحابہ کرامؓ کے مقابلے میں تابعین میں کرامات کے واقعات زیادہ ہوئے۔

یمن کے رہنے والے مشہور تابعی عبد اللہ بن ثوب (ابو مسلم) الخولانیؒ کو جھوٹی نبوت کا دعوی کرنے والے الاسود العنسی نے بلایا اور کہا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ انھوں نے کہا کہ میں تیری بات نہیں سن رہا۔ اس نے کہا: تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، وہ اللہ کے رسول ہیں؛ چنانچہ آگ دہکا کر انھیں اس میں ڈال دیا گیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہ جلتی ہوئی آگ میں اطمینان سے نماز ادا کررہے ہیں، اور وہ آگ اْن کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی کی جگہ بن گئی۔

مشہور تابعی عامر بن قیسؒ اپنی آستین میں دو ہزار درہم خیرات کے لیے لے کر نکلتے اور راستے میں ملنے جلنے والے ہر سائل کو گنے بغیر اس میں سے دیتے جاتے، پھر جب گھر واپس لوٹتے تو ان دراہم کی تعداد اور وزن میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ اسی طرح قافلے کے پاس سے آپ کا گزر ہوا جس کو ایک شیر نے روک رکھا تھا۔ آپ نے شیر کے پاس جاکر اپنے کپڑے سے اس کا منہ پکڑا اور اس کی گردن پر اپنا پیر رکھ کر فرمایا ’’تو اللہ کے کتوں میں سے ایک کتا ہے اور مجھے اللہ سے شرم آتی ہے کہ اس کے سوا کسی اور چیز سے ڈروں‘‘ اور یوں قافلہ گزر گیا۔ انھوں نے اللہ سے دعا کی کہ ان کے لیے سردی میں وضو کرنا آسان ہوجائے؛ چنانچہ اس کے بعد ان کے پاس جو بھی پانی پیش ہوتا اس سے بھاپ نکلتی رہتی۔مشہور تابعی حسن بصریؒ حجاج کی نظر سے ایسا اوجھل ہوئے کہ چھ مرتبہ لوگ اْن کے پاس گئے اور انھیں نہ دیکھ سکے۔ ایک شخص آپ کو تکلیف دیتا تھا آپ نے اس کے لیے بددعا کی اور وہ فوراً مرگیا۔

مشہور تابعی سعید بن مسیبؒ کے زمانے میں حرۃ کی طرف سے جب مدینہ منورہ محصور ہوا تو سعید بن مسیب نماز کے اوقات میں آپؐ کی قبر سے اذان کی آواز سنتے تھے؛ حالانکہ مسجد بالکل خالی ہوتی تھی۔

مشہور تابعی اویس قرنیؒ کی جب وفات ہوئی تو ان کے کپڑے کے اندر کفن ملے جو پہلے سے ان کے پاس نہیں تھے، اور ایک پتھریلی زمین میں ان کی قبر بھی کھودی ہوئی تیار ملی؛ چنانچہ اسی کفن کے ساتھ اسی قبر میں دفن کردیا گیا۔

مشہور تابعی ابراہیم تیمیؒ ماہ دو ماہ بغیر کچھ کھائے رہ جاتے تھے۔ ایک مرتبہ اپنے گھر والوں کے لیے کھانا لانے کی غرض سے نکلے اور کچھ میسر نہ ہوسکا تو سرخ ریت کی ایک گٹھری باندھ لی۔ جب گھر والوں کے پاس پہنچے اور گھر والوں نے گٹھری کھولی تو دیکھا کہ سرخ گیہوں ہیں۔ وہ جب اس گیہوں کو بوتے تھے تو اس سے ایسی بالیاں نکلتی تھیں کہ جڑ سے لے کر شاخ تک دانوں سے لدی ہوتی تھیں۔

مشہور تابعی مطرف بن عبداللہ بن الشخیر جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو ان کے ساتھ ساتھ ان کے گھر کے برتنوں سے بھی تسبیح کی آواز آتی تھی، وہ اور ان کے ایک ساتھی اکثر اندھیرے میں چل رہے ہوتے تو ان کے کوڑے کے سرے سے روشنی نکلتی تھی اور اندھیرا ختم ہوجاتا تھا۔

مشہور تابعی عمرو بن عتبہؒ ایک دن نماز پڑھ رہے تھے،گرمی سخت تھی، اچانک بادل ان پر سایہ کرنے لگا۔ جب وہ جہاد میں اپنے ساتھیوں کی سواریوں (جانوروں) کو چراتے تھے تو چیر پھاڑ کرنے والے جانور بھی سواریوں کی حفاظت کرتے تھے۔

یہ چند واقعات میں نے دنیا کے مشہور ومعروف عالم دین علامہ ابن تیمیہؒ کی کتاب (الفرقان بین اولیاء الرحمن واولیاء الشیطان) سے نقل کیے ہیں۔ یہ بات واضح کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ شریعت اسلامیہ کے اصول ومآخذ قرآن وحدیث یا قرآن وحدیث کی روشنی میں اجماعِ امت اور قیاس ہی ہیں۔ بزرگوں کے واقعات سے کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا ہے؛ لیکن نیک لوگوں کے واقعات سے بصیرت وعبرت ضرور حاصل ہوتی ہے۔ اس استفادے کے پیش نظر ابتدا سے ہی بزرگوں کی کرامات اور اْن کے واقعات تحریر کیے جاتے رہے ہیں؛ لیکن کتابوں میں مذکور بعض کرامات اور واقعات کی بنیاد پر اہل سنت والجماعت کے کسی مکتب فکر یاعالم دین (خواہ وہ کسی بھی مسلک کا ہو) کی تضحیک کرنا یا تکفیر کرنا یا اس کو برا بھلا کہنا قطعاً دین نہیں ہے؛ بلکہ قرآن وحدیث کی تعلیمات کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بحث ومباحثے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض حضرات اصلاح کے نام پر ملتِ اسلامیہ میں تخریب اور فساد برپا کرنے پر مصر ہیں اور ان کی پوری کوشش یہ ہے کہ ’’اصلاح مذہبیت‘‘ کا فریب دے کر اپنے حلقے کو وسیع کریں۔ یہ بھی دیکھا جارہاہے کہ اس طرح کے لوگ کسی متقی عالم دین یا کسی مکتب فکر کی دینی واصلاحی خدمات کو ذکر کرنے کے بجائے اْن پر کیچڑ اچھالنا اپنی انا کی تسکین اور اپنے تخریبی مشن کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس بات سے ہم سب ہی واقف ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف انبیاء کرام ہی معصومیت کے درجے پر فائز ہیں۔ بقیہ تمام لوگ غلطی کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔ ہمارے علماء دین بھی بشر ہیں اور ان سے غلطی بھی ہوسکتی ہے اور کوتاہی بھی؛ لیکن اپنے ذاتی مفادت حاصل کرنے کے لیے علماء دین یا کسی مکتب فکر کی تضحیک یا سب وشتم ایک شیطانی عمل ہے۔ اختلاف رائے بالکل کیا جاسکتا ہے؛ لیکن اپنے بارے میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ علماء دین کی اِس تذلیل وتضحیک سے کس اسلامی مسلک کی یا کس سیاسی جماعت کی خدمت مقصود ہے؟

اپنی ذات کا محاسبہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور میں دست بہ دعا ہیں کہ مسلمانوں کو اخوت ومحبت کے اصول پر کاربند رہ کر دینِ اسلام پر چلنے اور دوسروں کو اس کی دعوت دینے والا بنائے۔ آمین۔انسان کی عقل چونکہ محدود ہے؛ اس لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے رونما ہونے والے معجزات وکرامات کا مکمل طور پر احاطہ کرلے، لہٰذا ایک سلیم الطبع دینی سمجھ کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں ایسے لوگوں کی شناخت کرنی چاہیے، جن کا واحد مشن دین اسلام کی تضحیک وتذلیل اور ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا کرکے اسلام دشمن طاقتوں کی خدمت کرنا ہے۔

حصہ