نیویارک اور کیلی فورنیا حملہ… دہرا معیار

15

نیویارک کے مرکزِ شہر مین ہٹن (Manhattan) میں ہونے والی پراسرار، مشکوک اور گنجلک خونریزی سے صدر ٹرمپ کے مسلم دشمن ایجنڈے کو تقویت ملی ہے اور موصوف اس سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ صدرکے زہر میں بجھے ٹوئٹ سے مسلمانوں کے دل چھلنی ہیں۔ واقعے کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ منگل 31 اکتوبر کو شام تین بجے کے قریب ایک پک اپ ٹرک سائیکلوں کے لیے مختص لین میں گھس گیا اور ایک میل تک راستے میں آنے والے سائیکل سواروں اور راہ گیروں کو کچلتا چلاگیا۔ پولیس کے مطابق 6 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ دو لوگوں نے ہسپتال پہنچ کر دم توڑ دیا۔ ایک درجن سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ کرائے پر لیا جانے والا یہ پک اپ ٹرک مبینہ طور پر ایک 29 سالہ ازبک چلا رہا تھا۔ بہت سی سائیکلوں اور راہ گیروں کو کچلنے کے بعد بے قابو ٹرک جب ایک اسکول بس سے ٹکرا کر رکا تو ڈرائیور اللہ اکبر پکارتے ہوئے نیچے اترا اور اُس نے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا وہ مسلح ہے۔ ایک پولیس آفیسر نے اس پر فائرنگ کی، اور پیٹ پر گولیاں لگنے سے وہ شخص زخمی ہوکر گرا جسے گرفتار کرکے پولیس کی زیرحراست ہسپتال میں داخل کردیا گیا۔ قابو میں آنے پر جب پولیس نے تلاشی لی تو معلوم ہوا کہ ملزم نہتا تھا اور اس نے ایک مصنوعی بندوق اور ایک خالی پیلٹ (Pallet)گن ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھی۔ پیلٹ گن کا نام سنتے ہی ہماری آنکھوں کے سامنے کشمیر کے اُن گل رُخوں کے چہرے گھوم گئے جن کے چہرے ان گنوں سے بھسم اور نگاہیں تاریک کردی گئی ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم ازبکستان کا شہری ہے جو 2010ء میں امریکہ آیا تھا۔ ملزم کی جانب سے اللہ اکبر کے نعرے کا ’’انکشاف‘‘ سب سے پہلے نیویارک سے امریکی کانگریس کے رکن اور امریکہ احمدیہ کاکس (Caucus)کے سربراہ مسٹر پیٹر کنگ نے کیا، حالانکہ اُس وقت تک دہشت گردی کی جگہ کا ٹھیک ٹھیک تعین بھی نہ ہوا تھا، لیکن پیٹرکنگ صاحب نے جائے وقوع سے میلوں دور اللہ اکبر کا نعرہ سن لیا اور پھر اس کے بعد ’’مسلم دہشت گردی‘‘ کی یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح ساری دنیا میں پھیل گئی۔ خاصی دیر تک پولیس اور تحقیقاتی ادارے حملے کے محرکات کے بارے میں خاموش تھے، اور یہ بھی واضح نہیں ہو پارہا تھا کہ اس بھیانک جرم میں کسی دوسرے شخص نے اس کی معاونت کی یا ملزم اکیلا تھا۔
شام سے یہ خبر آنا شروع ہوئی کہ ملزم کا نام سیف اللہ حبیب اللہ سائپوف (Sayfullo Habibullaevich Saipov) ہے جسے زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ابتدائی خبروں میں بتایا گیا کہ ملزم کی حالت خاصی تشویشناک ہے اور آپریشن کے ذریعے اس کے معدے میں پیوست ہونے والی گولیاں نکالی جارہی ہیں۔ رات کو ڈاکٹروں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملزم کی حالت خطرے سے باہر ہے لیکن وہ بے ہوش ہے۔ دوسری طرف ملزم کے خاندانی و معاشرتی پس منظر کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ تاشقند (ازبکستان) میں جنم لینے والا یہ شخص 2010ء میں لاٹری ویزا پر امریکہ آیا تھا۔ اُس وقت سیف اللہ کی عمر صرف 19 سال تھی۔ گزشتہ چند برسوں سے سیف اللہ اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ نیوجرسی میں مقیم ہے اورUber چلا کر روزی کماتا ہے۔ پولیس کے مطابق سیف اللہ کا کئی بار ٹریفک چالان ہوچکا ہے۔ سیف اللہ مذہی نہیں ہے اور اگرچہ کہ اس کا گھر مسجد سے متصل ہے لیکن مصروفیت کی وجہ سے اسے مسجد میں بہت کم دیکھا گیا۔ موصوف غصے کے ذرا تیز ہیں اور بہت جلد مشتعل ہوجاتے ہیں۔ 2015ء میں ایف بی آئی نے چند دوسرے مشتبہ ازبکوں سے تعلق کی بنا پر سیف اللہ سے پوچھ گچھ بھی کی تھی لیکن روابط کا کوئی ٹھوس ثبوت نہ مل سکا۔ اس کی گاڑی کے قریب سے مبینہ طور پر ایک تحریر بھی ملی جس پر عربی میں داعش زندہ باد لکھا تھا۔
سیف اللہ کے داعش سے تعلق کے ضمن میں جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اُن کے کچھ پہلو مشکوک ہیں۔ ملزم کو شام 3 بجے شدید زخمی حالت میں حراست میں لیا گیا اور رات کو آپریشن کے ذریعے اس کے پیٹ سے گولیاں نکالی گئیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے آپریشن کے بعد مریض کم از کم 24 گھنٹے تک بے ہوش اور درد کُش دوائوں کے زیراثر غنودگی کے عالم میں رہتا ہے، لیکن سیف اللہ چھے سے آٹھ گھنٹوں بعد ہی ایسا ہشاش بشاس ہوگیا کہ اس نے اپنا اعترافی بیان ریکارڈ کرا دیا۔ پولیس کی جانب سے اس یاددہانی کے باوجود کہ قانون کے مطابق ملزم ابتدائی تفتیش کے دوران خاموش رہ سکتا ہے اور اسے اس بات کا آئینی حق حاصل ہے کہ وہ صرف اپنے وکیل کی موجودگی میں پولیس کے سوالات کا جواب دے۔ لیکن سیف اللہ نے اپنے اس حق سے دست بردار ہوتے ہوئے جرم کے محرکات اور عزائم کے بارے میں صاف صاف بتادیا۔ سیف اللہ نے پولیس کو بتایا کہ وہ بہت عرصے سے اس وحشت کی منصوبہ بندی کررہا تھا اور ایک ہفتہ قبل یہاں آکر اس نے راستے کو بہت غور سے دیکھا تھا۔ حملے کے لیے تاریخ کا انتخاب بھی سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا کہ 31 اکتوبر کو Halloweenکے تہوار پر مین ہٹن کے اس علاقے میں سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے اور اس روز حملہ کرکے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کیا جاسکتا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے بتایا کہ وہ داعش کے سربراہ اور نام نہاد امیرالمومنین ابوبکر البغدادی سے بے حد متاثر ہے اور بغدادی صاحب اپنی تقریر میں مسلمانوں پر امریکی مظالم کی جو تفصیلات بتاتے ہیں اسی سے مشتعل ہوکر سیف اللہ نے یہ کارروائی کی ہے جس پر اسے کوئی شرمندگی نہیں۔ اسے داعش سے اپنی وابستگی پر فخر ہے اور پولیس سے باتیں کرتے ہوئے اس نے ہسپتال کے اپنے کمرے میں داعش کا پرچم لہرانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ لیکن عجیب بات کہ اس ’’جرأت مندانہ‘‘ اعتراف کے بعد جب اُسے وفاقی جج کے سامنے پیش کیا گیا تو فردِ جرم کی سماعت کے بعد اُس نے خاموشی اختیار کرلی، یعنی نہ تو الزامات کو درست تسلیم کیا اور نہ اس کی تردید کی جو غیر معمولی ہے۔ اس لیے کہ پہلی نشست میں ملزم فردِ جرم کے بارے میں عدالت کے روبرو دوٹوک بیان دیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عدالت کے روبرو حاضری کے دوران سیف اللہ پر غنودگی طاری تھی اور وہ عدالت میں پیشی کے وقت سوچنے سمجھنے بلکہ دیکھنے اور سننے کی صلاحیت سے بھی عارضی طور پر محروم تھا۔ اب تک کی قانونی کارروائی کا سب سے کمزور پہلو ملزم کا اعتراف ہے۔ بہت سے وکلا کا خیال ہے کہ پولیس کو بیان دیتے وقت سیف اللہ کی طبی حالت ٹھیک نہ تھی اور درد کُش ادویات کے نتیجے میں اس پر غنودگی طاری تھی جس کی وجہ سے اس کا بیان انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ خیال ہے کہ جب مقدمے کی کارروائی باقاعدہ شروع ہوگی تو شاید عدالت خود ہی اسے اپنے بیان پر نظرثانی کے لیے کہے۔
اس افسوسناک واقعے پر صدر ٹرمپ کا ردعمل اور طرزِ بیان انتہائی متعصبانہ نظر آیا اور انھوں نے ایک کے بعد ایک ٹوئٹ کا انبار لگادیا۔ اُن کا سارا زور امریکہ آنے والے غیر ملکیوں کا راستہ روکنے پر تھا۔ مسٹر ٹرمپ نے نام تو نہیں لیا لیکن اُن کے مخصوص محاوروں اور الفاظ سے صاف پتا چل رہا تھاکہ اُن کا روئے سخن مسلمانوں کی جانب ہے۔ صدر کی ہر ٹوئٹ میں امریکی ویزے کے لیے کڑی جانچ پڑتال یا extreme vetting اور امیگریشن پر اضافی قدغن کی تکرار بہت واضح تھی۔ حادثے کے فوراً بعد تحقیقات کے آغاز سے پہلے ہی صدر ٹرمپ نے ٹوئٹ داغ دیا کہ
“We must not allow ISIS to return, or enter, our country after defeating them in the Middle East and elsewhere. Enough”
)ترجمہ( ’’اب جبکہ داعش کو مشرق وسطیٰ میں شکست ہوچکی ہے ہم انھیں کسی قیمت پر اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ بہت ہوگیا!!!‘‘
بدترین سانحے کے بعد جب لوگ سکتے کے عالم میں مضمحل و مشتعل تھے، داعش کی بات اٹھاکر صدر ٹرمپ نے امریکی رائے عامہ کو مسلمانوں کے خلاف ابھارنے کی کوشش کی۔ جب انھیں پتا چلا کہ ملزم لاٹری ویزا پر امریکہ آیا تھا تو پھر اپنے تیروں کا رخ ویزا پروگرام کی طرف کردیا اور حسبِ عادت عوامی جذبات بھڑکانے کے ساتھ سیاسی موقع پرستی بھی اُن پر غالب رہی۔ اپنے ایک ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے لاٹری ویزا کو سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف چک شومر کا ’’تحفہ‘‘ قراردیا۔ حالانکہ لاٹری ویزے کا اجرا 1980ء میں ہوا تھا جب امریکی سینیٹ نے قرعہ اندازی کے ذریعے اُن ممالک کے باشندوں کو ترجیحی بنیاد پر امریکہ کا ویزا دینے کا فیصلہ کیا جہاں سے امریکہ آنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اس مہم کا مقصد امریکی معاشرے میں تنوع پیدا کرنا تھا۔ اسی بنا پر یہ پروگرام Diversification Visa Lottery کے نام سے مشہور ہوا۔ لطف کی بات کہ اس تجویز کی منظوری ری پبلکن صدر جارج بش (ڈیڈی بش) نے دی تھی۔ اُس وقت مسٹر شومر ایک جونیئر سینیٹر تھے۔ آنجہانی سینیٹر کینیڈی نے Immigration Act of 1990کے عنوان سے یہ بل پیش کیا جسے سینیٹ نے17 کے مقابلے میں 81 ووٹوں سے منظور کیا، جبکہ ایوانِ نمائندگان (قومی اسمبلی) نے اس کی متفقہ منظوری دی تھی۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر کانگریس پر زور دیا کہ لاٹری ویزا کے پروگرام کو ختم کردیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے خونیں رشتوں اور خاندان کی بنیاد پر امیگریشن کے بجائے قابلیت یا Meritکو گرین کارڈ کے حصول کی بنیاد بنانے پر زور دیا۔ لگتا ہے کہ امریکی صدر اپنے ملک کی تارٰیخ سے بھی واقف نہیں۔ جب 1700ء میں مظالم اور سیاسی انتقام کے متاثرین بھاگ کر امریکہ آئے تو ان پناہ گزینوں کے پیچھے رہ جانے والے اہلِ خانہ کو امریکہ بلانے کے لیے امیگریشن کا موجودہ نظام وضع کیا گیا تھا۔ امریکی اقدار میں خاندان کی بڑی اہمیت ہے، اسی لیے امیگریشن ویزوں کے لیے رشتوں کی جو ترجیحات طے کی گئیں وہ بھی صُبلی رشتوں کے مطابق ہیں، یعنی جب کوئی شخص ویزے کا حق دار ٹھیرتا ہے تو 18 سال سے چھوٹے سارے بچوں کو بھی ویزا دے دیا جاتا ہے۔ میاں بیوی کے ویزوں کو پہلی ترجیح حاصل ہے، جبکہ سگے بھائی بہن ترجیح کے اعتبار سے پانچویں نمبر پر ہیں۔
دھواں دھار ٹوئٹس اور بیانات کے دوران موصوف حقائق کو بھی نظرانداز کرگئے۔ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ لاٹری ویزا کے تحت ملزم کے ساتھ 23 دوسرے ازبک بھی امریکہ آئے تھے، یعنی مسلم جنونیوں کے جتھے دہشت گردی کے لیے امریکی ویزے حاصل کررہے ہیں۔ لیکں نیویارک پولیس کے ڈپٹی کمشنر جان ملر نے اس بات کی تصدیق کردی کہ سیف اللہ امریکہ آنے کے بعد بلکہ کچھ ہی عرصہ قبل داعش سے متاثر ہوا تھا اور اس پروگرام کے تحت امریکہ آنے والے باقی 23 ازبکوں کے بارے میں کسی قسم کی منفی رپورٹ نہیں ملی۔ واقعے کے دو دن بعد داعش کی ویب سائٹ النبا نے سیف اللہ کو اپنا مجاہد قرار دیتے ہوئے واقعے کی ذمہ داری قبول کی، تاہم امریکی حکام کا خیال ہے کہ سیف اللہ نے منصوبہ سازی سمیت یہ سارا کام خود کیا اور داعش نے محض ’’کمپنی کی مشہوری کے لیے‘‘ شیخی بگھاری ہے۔
جس وقت امریکہ کے مشرقی ساحل یعنی نیویارک میں قیامت برپا تھی عین اسی وقت مغربی ساحل پر کیلی فورنیا بھی آزمائش سے گزر رہا تھا۔ 27 سالہ سفید فام لویل کنعان (Luvelle Kennon) تقریباً 12 بجے Castle View Elementary School میں گھس آیا۔ لویل کی بیٹی اسی اسکول کی پہلی جماعت میں پڑھتی ہے۔ جب اس شخص کو ایک استاد نے روکا تو لویل نے اس غریب کے منہ پر زوردار گھونسہ رسید کیا جس سے استادِ محترم کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد لویل دوڑتا ہوا اپنی بیٹی کے کمرۂ تدریس میں داخل ہوا اور 70 سالہ کلاس ٹیچر لنڈا منٹگمری کو دبوچ لیا۔ لویل عمر رسیدہ ٹیچر کو کھینچتا ہوا ایک خالی کلاس روم میں لے آیا اور دروازے بند کرکے لنڈا کو یرغمال بنالیا۔ پولیس نے اساتذہ اور بچوں کو اسکول سے بحفاظت نکال کر لویل کنعان سے مذاکرات شروع کردیے۔ اس دوران استانی کی گردن ملزم کے بازو میں تھی۔ شام 6 بجے کے قریب انسداد دہشت گردی کے عملے نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کے نشانچیوں نے لویل کو گولی مارکر یرغمالی کو چھڑا لیا۔ اس واقعے کی نہ تو میڈیا پر تشہیر ہوئی اور نہ صدر ٹرمپ نے کسی ردعمل کا اظہار کیا، حالانکہ یہاں پہلی سے پانچویں جماعت کے سیکڑوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں تھیں۔
نیویارک اور کیلی فورنیا میں پیش آنے والے سانحات کے دوسرے روز یعنی یکم نومبر کو امریکی ریاست کولوریڈو(Colorado)کے سب سے بڑے شہر اوردارالحکومت ڈینور (Denver) میں فائرنگ سے ایک خاتون سمیت 3 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ مشہور ڈپارٹمنٹل اسٹور ولمارٹ (Walmart)میں پیش آیا جب ایک شخص نے وہاں داخل ہوتے ہی پستول سے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی، جس سے دو افراد موقع پر ہی ہلاک جبکہ زخمی ہونے والی خاتون ہسپتال کے راستے میں دم توڑ گئی۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد ملزم سکون کے ساتھ چلتا ہوا باہر آیا اور اپنی گاڑی میں فرار ہوگیا۔ 47 سالہ سفید فام ملزم اسکاٹ آسٹرم (Scott Ostrem) کو بعد میں گرفتار کرلیا گیا، جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ملزم کا دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا۔ دہشت گردی کے اس واقعے پر بھی صدر ٹرمپ بالکل خاموش رہے۔
اکتوبر کے آغاز میں لاس ویگاس کے ایک جوا خانے میں جب جدید ترین اسلحے سے فائرنگ کرکے 59 افراد بھون دیے گئے تو صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں اس خونریزی کو ’’بیمار ذہنیت‘‘ کا شاخسانہ قرار دیا اور اس سے آگے کسی قسم کی گل افشانی سے پرہیز کیا۔ انھوں نے اسلحے کے لائسنسوں کے لیے تفصیلی چھان بین یا Vetting کا کوئی ذکر تک نہیں کیا، حالانکہ ابتدائی تحقیق کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی تھی کہ ملزم کریگ پیڈک نے ہوٹل کے کمرے میں خودکار سب مشین گن سمیت جدید ترین اسلحے کا انبار لگا رکھا تھا اور یہ سارا اسلحہ لائسنس یافتہ تھا۔ مین ہٹن کا واقعہ بھی درحقیقت ایک شخص کے انفرادی جنون اور بیمار ذہنیت کا عکاس ہے جس کا کسی بھی مذہب، لسانی اکائی اور ملک و قوم سے کوئی تعلق نہیں۔ 5 نومبر کو ٹیکساس کے Baptist کلیسا میں اندھا دھند فائرنگ سے 5 سالہ بچی سمیت 26 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہاں وحشت کا ارتکاب کرنے والا شخص امریکی فضائیہ کا سابق airman ہے۔ جاپان سے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے امریکہ میں دماغی صحت کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کورٹ مارشل، بیوی بچوں پر تشدد اور ایک سال سزا بھگتنے والے اس جنونی کو اسلحے کا لائسنس کیسے جاری ہوا؟ تو صدر ٹرمپ نے یہ کہہ کر موضوع بدل دیا کہ اس واقعے کو اسلحہ نہیں دماغی صحت کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔
سیف اللہ کے بارے میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اسے گوانتانامو بھجوائیں گے، جبکہ چند روز پہلے انھوں نے فرمایا کہ اسے سزائے موت ملنی چاہیے۔ اگر یہ بھیانک جرم ثابت ہوجائے تو واقعی یہ وحشی یقینا سزائے موت کا مستحق ہے، لیکن کچھ عرصہ قبل ورجینیا میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جب نازی نسل پرست جیمز فیلڈ نے اپنی گاڑی مظاہرین پر چڑھادی جس سے ایک خاتون ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کی صدر ٹرمپ نے کھل کر مذمت بھی نہیں کی۔ سیف اللہ کے گھر کے قریب مسجد کھنگالی جارہی ہے لیکن جیمز کے بارے میں کسی کو یہ نہیں معلوم کہ وہ عبادت کے لیے کہاں جاتا تھا، حالانکہ یہ نوجوان ایک راسخ العقیدہ عیسائی ہے۔ تاشقند سے سیف اللہ کی ہمشیرہ امیدہ سائی پوف نے مقدمے کے آغاز سے بھی پہلے امریکی صدر کی جانب سے سزائے موت کے ذکر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے منصفانہ عدالتی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ فری یورپ ریڈیو سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حملے سے ایک دن پہلے فون پر ان کی بھائی سے بات ہوئی تھی اور وہ بہت ہشاش بشاش اور خوش لگ رہا تھا۔ سیف کی والدہ مقدس نے رائٹر کو بتایا کہ ان کے بیٹے کو ٹیکسی چلانے سے فرصت ہی نہ ملتی تھی کہ وہ مسجد جاتا، لہٰذا اسے شدت پسند مسلمان کہنا مناسب نہیں۔ اگر قتل مسلم سے سرزد ہو تو دہشت گردی، لیکن غیر مسلم قاتل دماغی مریض… جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔

حصہ