بٹ کوائن ڈیجیٹل کرنسی

85

امانت علی گوہر

اگر آپ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں سے خود کو آگاہ رکھتے ہیں تو بٹ کوائن کا نام آپ کے لیے یقیناً نیا نہیں ہوگا۔ بٹ کوائن کے حوالے سے جھوٹی سچی خبریں اور معلومات انٹرنیٹ پر عام ہیں جن کی وجہ سے عام انٹرنیٹ استعمال کرنے والے یہ نہیں سمجھ پاتے کہ اصل میں بٹ کوائنز ہیں کیا اور یہ کہاں سے آتے ہیں؟ چونکہ دھوکے بازی انٹرنیٹ پر بے حد عام ہے، اس لیے پہلی بار جب بٹ کوائن کے حوالے سے پڑھا جاتا ہے تو یہ بظاہر ایک دھوکا ہی محسوس ہوتا ہے۔
اس مضمون میں بٹ کوائن کے حوالے سے قارئین کے ذہنوں میں موجود سوالات کے آسان زبان میں جوابات دینے کی کوشش کریں گے اور بتائیں گے کہ بٹ کوائنز ایک حقیقت ہے یا دھوکا!
پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ بٹ کوائن پروٹوکول اور کلائنٹ دونوں ہی اوپن سورس ہیں، یعنی ان کا سورس کوڈ سب کے لیے دستیاب ہے۔ یہ پروٹوکول بہترین کرپٹو گرافی پر مبنی ہے جس میں تمام ہی ٹرانزیکشنز انتہائی محفوظ ہوتی ہیں۔
یہ ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے۔ پے پال (PayPal)بھی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے لیکن یہ پے پال سے اس لیے مختلف ہے کہ پے پال میں اصلی کرنسی (جو ڈالر ، پائونڈ یا یورو وغیرہ ہوسکتی ہے) کے عوض ورچوئل کرنسی آپ کے پے پال اکائونٹ میں جمع کی جاتی ہے۔ یعنی سارا دارومدار اصلی کرنسی پر ہی رہتا ہے۔ پے پال میں موجود کرنسی کو کنٹرول کرنے اور اس اکائونٹ سے ہونے والی ہر ٹرانزیکشن کو ریگولیٹ کرنے لیے ریگولیٹر موجود ہیں۔ بٹ کوائن کا معاملہ یہاں بالکل مختلف ہے۔ بٹ کوائنز کو کنٹرول کرنے والا کوئی مرکزی بینک نہیں۔ نہ کوئی اس کا ریٹ طے کرتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کو ریگولیٹ کرسکتا ہے۔ یہ peer-to-peer ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے مکمل طور پر ’ڈی سینٹرالائزڈ (decentralized)‘ ہے۔ اسے پیئر ٹو پیئر فائل شیئرنگ پروٹوکولز کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے۔ بٹ ٹورینٹ اور اس جیسے دیگر فائل شیئرنگ پروٹوکولز میں انہیں استعمال کرنے والوں کے کمپیوٹر ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست رابطہ اور ڈیٹا ایکسچینج کرتے ہیں۔
بٹ کوائنز کا تصور پہلی بار2008ء میں ایک پیپرجسے ’ستوشی ناکا موتو ‘ کے فرضی نام سے لکھا گیا تھا، کرپٹو گرافی کے لیے مخصوص ایک میلنگ لسٹ پر پیش کیا گیا۔ اس پیپر میں ستوشی ناکاموتو نے اسے پیئر ٹو پیئر الیکٹرانک کیش سسٹم قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ وہ اس نظام پر گزشتہ دو سال سے کام کررہا ہے۔
اسی ستوشی نے اس پروٹوکول کی ابتدا کی اور بنیادی کلائنٹ وغیرہ لکھا۔ جنوری 2009ء میں ستوشی نے مائننگ (جس کا ذکر ہم کچھ دیر میں کریں گے)شروع کی اور پہلا بلاک (جسے genesis بلاک کہا جاتا ہے) تخلیق کیا۔ اس کے 6 دن بعد ہی BitCoin v0.1 ریلیز کیا گیا۔ 2009ء کے آخر تک 32 ہزار بلاک تخلیق کیے جاچکے تھے اور بٹ کوائنز کا مجموعہ 16 لاکھ سے بھی زیادہ ہوگیا تھا۔
بٹ کوائن کلائنٹس کو wallets کہا جاتا ہے۔ یہ کسی اصلی بٹوے کی طرح کوائنز کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اگر والٹ کسی بھی وجہ سے کھو جائے یا کوئی چوری کرلے تو سمجھیں کہ کوائنز بھی گئے۔ لہٰذا بٹ کوائن والٹس کی حفاظت بھی اسی طرح کرنی چاہیے جس طرح عام زندگی میں پیسوں سے بھرے ایک بٹوے کی کرتے ہیں۔ (جاری ہے)

حصہ