میرا مان … میرا سر تاج

40

تسنیم صدیقی
عورت اور مرد گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ اگر ان میں ہم آہنگی رہے تو زندگی رواں اور خوشگوار رہتی ہے۔ وفا، خلوص، محبت، تعاون اور اتفاق کی بنیاد پر بننے والا خاندان ہمیشہ خوش و خرم رہتا ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں (النساء34) ’مرد عورتوں پر قوام ہیں، اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ اس لیے کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں۔ مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں‘۔ مردوں کو قوام بنایا ہے۔ یعنی ایک درجہ بڑا دیا ہے۔ مرد گھر کا نگران ہے، بیوی بچے اس کی رعیّت ہیں۔ قیامت کے دن اللہ پاک اس کی رعیت کے بارے میں سوال کریںگے۔
محبت، وفا، خلوص کے ساتھ بیوی بچوں کی تربیت کرنا، ان سے تعاون کرنا، جہاں مرد کی ذمے داری ہے وہیں عورت کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ شوہر سے تعاون کرے ہر خیر کے کام میں پوری چاہت کے ساتھ اطاعت کرے۔ شوہر سے محبت کرے اور ایک دوسرے کی چاہت کی قدر کریں۔
تعریف کریں خوش ہوں، ایک دوسرے سے محبت کریں، خیال رکھیں۔ پیار بھری باتیں کریں۔ طنز کے زہر سے اپنی پیاری خانگی زندگی کو بچائیں۔
اس وقت کتنا اچھا لگتا ہے جب میں لڑکھڑا جاتی ہوں۔ تو وہ آگے بڑھ کر مجھے تھام لیتا ہے۔ وہ میرا تحفظ، میرا مان ہے۔ وہ میرے سر کا تاج ہے۔ اس کے دم سے زندگی میں خوشی ہے۔ اب میرے تحفظ کی ذمے داری میرے شوہر نے اٹھالی ہے اور مجھے دنیا کے غموں سے آزاد کردیا ہے۔ مجھے کتنا اچھا لگتاہے جب وہ کہتا ہے ’رکو‘ میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ مجھے بہت پسند ہے جب وہ میرے آگے آگے چلتا ہے۔ میرے ساتھ چلتے ہوئے وہ آسان راستے کا انتخاب کرتا ہے کہ میں آسانی کے ساتھ چل سکوں۔
وہ اس کا پیچھے مڑ مڑ کر دیکھنا مجھے بہت اچھا لگتاہے۔
جو وہ اونچائی پر چڑھتے ہوئے مجھے تھام لیتا ہے کہیں میں گر نہ جائوں، سفر پر جاتے ہوئے سارا سامان اپنے کاندھے پرا ٹھا لیتا ہے اور مجھے ہلکا دیتا ہے کتنی چاہت سے وہ یہ سب کام کرتا ہے۔
اور میں دل سے اس کی محبت کی قدر کرتی ہوں۔ اس کے آرام کا خیال رکھتی ہوں۔ اس کے ہر عمل کا مسکرا کر جواب دیتی ہوں۔ شکریہ ادا کرتی ہوں۔ ہم دونوں سر شار رہتے ہیں۔ خوشی سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیتے ہیں، اس وقت میں اپنے آپ کو ایک خوش قسمت عورت سمجھتی ہوں۔
میں اپنے ماں باپ کی بھی شکر گزار رہتی ہوں جنہوں نے میرے لیے اتنے اچھے شوہرکا انتخاب کیا جو میرا قدر دان ہے، میرا پاسبان ہے، گاڑی کے دونوں پہیے ان پُرخطر راہوں پر رواں دواں ہیں۔ میرا پیار شوہر، میرا مان، جو سارا دن میرے اور میرے بچوں کے لیے تھکتا ہے اور پھر پورے مہینے کی کمائی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دیتا ہے۔ کتنا اعتماد کرتا ہے اپنی بیوی پر میری وفا اور خلوص پر اسے کتنا مان ہے۔
جب وہ سوجاتاہے میں کتنی وارفتگی سے اسے دیکھتی ہوں۔ اس کے چہرے کا اطمینان اور سکون مجھے کتنا اچھا لگتا ہے۔
خدا سے تشکر بھرے دل کے ساتھ شکریہ ادا کرتی ہوں اور چین کی نیند سوجاتی ہوں زندگی کتنی پیاری ہے۔ کاش کوئی ان مغرب زدہ خواتین کو بتا دے کہ ایک درجہ مرد سے کم ہونے میں کتنا سکون ہے۔
لیکن اب کچھ گھرانوں میں مرد عورت کی برابری کے چکر نے عورت کو گھن چکر بنادیا ہے۔ اب نہ وہ گھر کی ملکہ ہے نہ راعی وہ تو برابر کی ورکر ہے جو صبح سے نکلتی ہے رات کو گھر میں تھکی ہاری آتی ہے۔ اب دونوں تھک کر آتے ہیں کھانا باہر سے کھا کر آئے ہیں یا ساتھ لاتے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات میں تکرار ہورہی ہے۔ وہ گھر جو خلوص و وفا سے چلتے ہیں ان پر بدگمانیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ روزانہ مردوں کی تیز نظروں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ ہنسی اور طنز بھری باتیں سننی پڑتی ہیں پل پل عدم تحفظ کا احساس رہتا ہے۔
اس چومکھی لڑائی میں احساس لطیف تو کہیں کھو جاتے ہیں پھر چھوٹی چھوٹی باتوں میں لڑنا جھگڑنا معمول بن جاتا ہے اور زندگی بوجھ لگنے لگتی ہے خوشیاں روٹھ جاتی ہیں۔
شوہر اور بیوی خوشیاں کہیں اور تلاش کرنے لگتے ہیں پھر قریب رہتے ہوئے بھی دور ہوجاتے ہیں۔ مجھے ساری بیٹیوں سے کہنا ہے کہ پیاری بیٹی تعلیم ضرور حاصل کرنا دین اور دنیا دونوں خوب سیکھنا دنیا بھی اللہ کی مرضی کے مطابق گزارنے کا فن خوب دل لگا کر سیکھنا تاکہ تمہاری آئندہ زندگی خوشیوں کا گہوارہ بن سکے۔ یاد رکھنا اللہ کی اطاعت میں ہی انسانوں کی فلاح ہے۔
اللہ پاک نے عورت اور مرد دونوں کا دائرہ کار واضح کردیا ہے۔ بس اپنے اپنے دائرے میں رہ کر اپنی ذمے داری پوری کرنے والے مرد اور عورت ہی دنیا اور آخرت کی خوشی حاصل کرسکتے ہیں۔ اللہ پاک کی نا فرمانی کرکے کوئی مرد اور عورت خوش نہیں رہ سکتے۔
جب اس کی نافرمانی کرکے زمین میں فساد بھردیںگے تو جان لیں کہ کانٹے زمین میں بوئیںگے تو کانٹے ہی کی فصل کاٹنی پڑے گی۔ دنیا بھی اجیرن ہوجائے گی اور آخرت میں فیل ہوجائیں گے۔ پھر نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں ملے گا۔ اس وقت دل چاہے گا زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جائوں کاش مجھے دوبارہ زندہ کرکے نہ اٹھایاجاتا مجھ سے حساب نہ لیا جاتا لیکن اس افسوس سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔
بس ایسی تعلیم حاصل کرو جو تمہیں اپنے دائرے میں چلنا سکھائے اور کامیابی اور کامرانی تمہارے حصے میں آئے۔
جب اللہ پاک کا آئین زمین میں نافذ ہوگا تو مخلوط تعلیم سے جان چھوٹ جائے گی۔ عورت کا دائرہ کار الگ ہوگا۔ درس گاہوں میں بھی کارخانوں اور فیکٹریوں میں بھی اور زمین اللہ کے نور سے جگمگا اٹھے گی۔ انشاء اللہ۔

حصہ