بچوں کی تربیت اولاد کی تربیت میں کن حکمتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے

36

ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

بچوں کی تربیت ایک گھمبیر مسئلہ ہے جو ہر دور کے والدین کے لیے اہمیت کا حامل رہا ہے۔ خصوصاً آج کے دور میں مسلمان والدین کے لیے بچوں کو اسلامی خطوط پر تربیت دینا ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے والدین کا خود تربیت یافتہ ہونا خصوصاً ’ماں‘کے لیے ایک’عظیم ماں‘ہونا لازم ہے۔ کیونکہ عظیم مائیں ہی عظیم بچوں کو پروان چڑھاسکتی ہیں۔ ایسی مائیں اپنے بچوں کو اپنی آخرت(جنت،جہنم)سمجھ کر پروان چڑھاتی ہیں کہ اگر تربیت میں غفلت برتنے اور انہیں اس انجام تک پہنچانے کی سزا بھگتنا ہوگی۔ چنانچہ والدین بالخصوص ماں پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اسی بھاری ذمے داری کے نتیجے میں’’ماں‘‘ہونے کا عہدہ(درجہ)نہایت بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کو جو اعزاز بخشا ہے ، وہ اسلام کے سوا دنیا کا کوئی مذہب اور کوئی بھی تمدن عطا نہیں کرسکا۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کو باپ سے تین گنا زیادہ اطاعت کا حق دار گردانا ہے اور جنت ماں کے قدموں تلے (یعنی ماں کی خدمت میں )رکھ دی۔
اللہ تعالیٰ نے ماں کی محبت میں مٹھاس اور اس کے دل میں ایثار وقربانی کا بے مثل جذبہ رکھ دیا ۔ اپنی صفت رحمت وشفقت سے وافر حصہ اس رشتے کو عطا کردیا۔ وہ پروردگار خود خالق کائنات ہے۔ صفت تخلیق عورت کو عطا کرکے اس نے عورت کو عظمت کی بلندیوں تک پہنچادیا۔ بچے سے محبت کا کچھ ایسا انداز خالق کائنات نے عطا کیا ہے کہ اتنی تکلیف اٹھا کر ماں بچے کو جنم دیتی ہے ، مگر اس پہ ایک نظر ڈالتے ہی تمام دکھ، تکالیف بھول جاتی ہے۔ جس طرح کسی بھی فیکٹری میں کام کے مختلف شعبے ہوتے ہیں، اسی طرح نظام کائنات میں اللہ تعالیٰ نے ہر ذی روح کا ایک خاص شعبہ مقرر کررکھا ہے۔ عورت اس نظام کے انتہائی حساس اور ذمہ دار شعبے، شعبہ تخلیق سے وابستہ ہے۔ جس طرح اعلیٰ منصب اور ذمہ داری کے اہم شعبے سے تعلق رکھنے والا ہر کارکن فیکٹری میں مالک کے نزدیک خصوصی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، اور اس کی ذمے داری کے لحاظ سے اس کا مقام ومرتبہ اور دیگر مراعات ہوتی ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی شعبہ تخلیق کی کارکن یعنی عورت کو عہدے کے لحاظ سے خصوصی اہمیت دی ہے۔ اگر وہ حقیقی مسلمان ماں بن کر اپنی ذمہ داری پورے شعور کے ساتھ ادا کرتی ہے تو جنت اس کے قدموں میں ہے۔
والدین کی ذمے داری اسی روز سے شروع ہوجاتی ہے، جب وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتے ہیں۔ بچوں کی تربیت کے لیے والدین کو بہت سے ادوار اور بے شمار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ والدین اور اولاد کا تعلق کبھی نہ ٹوٹنے والا اور نہ ختم ہونے والا ہے۔ یہ دنیا وآخرت دونوں میں ایک دوسرے کے لیے باعث فخر وانبساط بھی ہوسکتا ہے اور باعث رنج وندامت بھی۔
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ نکاح کا رشتہ دو اجنبی مرد وعورت کو باہم مضبوط رشتے میں جوڑ دیتا ہے، جس میں محبت بھی ہے اور مودت بھی۔ میاں بیوی کا باہم تعلق’ایک دوسرے کے لیے لباس‘کا جیسا ہی ہونا چاہیے۔ معنوی طور پر بھی، باطنی اور روحانی طور پر بھی۔ زوجین کا باہم رشتہ محض صنفی جذبات کی تسکین کا ذریعہ ہی نہ سمجھا جائے۔ نبی اکرمؐ نے زوجین کے باہمی تعلق کو جس شائستگی اور وقار کے ساتھ نبھانے کا طریقہ بتایا ہے اس کو مد نظر رکھا جائے۔ہر کام میں جس قسم کی نیت کارفرما ہوتی ہے، وہی اچھے یا برے انجام کا سبب بنتی ہے۔
زوجین کو باہم محبت بڑھانے کے لیے، اس کو قائم واستوار رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہیے۔ میاں بیوی کے درمیان محبت اللہ تعالیٰ کو بڑی محبوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ انبیاء علیہم السلام کی زبان سے جو دعائیں ہم تک پہنچائی ہیں، ہر نماز کے بعد خلوص دل سے ان دعائوں کے ذریعے اپنی ازدواجی زندگی کیلیے راحت طلب کرنی چاہیے۔
(جاری ہے)

حصہ