دل چاہے !

28

عائشہ بی بی

ندا اپنے امی ابو اور دادا دادی کے ساتھ رہتی تھی۔ امی ابو کے علاوہ دادا، دادی بھی اس کو بہت پیار کرتے تھے۔ ایک دن دادا جان اچانک سے بیمار ہوگئے اور کچھ دن بعد ہی اﷲ کو پیارے ہوگئے۔ دادا کی وفات کے بعد ندا بہت اُداس رہنے لگی۔ ندا کے بابا بھی اس کا بہت خیال رکھتے اور اس کی کسی چیز میں بھی کوئی کمی ہونے نہیں دیتے تھے کیو کہ وہ ان کی ایک اکلوتی بچی تھی ندا بہت خو ش رہنے لگی تھی۔
ندا کے بابا ایک دن اچانک بے ہوش ہوگئے اور فوراً اسپتال لے جایا گیاتو پتا چلا کہ ان کو دل کا دورہ پڑا ہے۔ تمام گھر والے بہت پریشان ہوگئے خاص طور پر ندا! چند دن بیمار رہنے کے بعد اس کے والد بھی اﷲ کو پیارے ہوگئے۔ ندا کے لیے دادا کے بعد والد کا یوں اچانک دنیا سے چلے جانا ایک صدمہ تھا!! لیکن اﷲ کے حکم کے آگے کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ بس صبر کرنے والوں کے ساتھ اﷲ ہے!!
ندا کے بابا کے جانے کے بعد دادی اور امی اس پر خصوصی توجہ دیتی تھیں اور اپنی بیٹی کا ہر وقت خیال رکھتیں! ہر جگہ وہ اپنی امی اور دادی جان کے ساتھ ساتھ جاتی! دادی اکثر و بیشتر اس کے لیے نئے نئے خوبصورت کپڑے خرید کر لاتی!! اور وہ اچھے اچھے کپڑے پہن کر خوب تیار ہوتی تھی، جب بھی کسی تقریب میں جانا ہو تو وہ ایک ہی بات کہتی تھی کہ امی! میں کون سے کپڑے پہنوں؟ ماموں کے گھر شادی میں جانا تھا تو وہ کہنے لگی امی! مجھے نیا جوڑا چاہیے! امی بولیں تمہاری پوری الماری خوبصورت کپڑوں سے بھری پڑی ہے اس میں سے ایک اچھا سا جوڑا نکال کر پہن لو!! دادی جان نے کہا، جو سوٹ پچھلے مہینے میں نے بنایا تھا وہ بہت ہی خوبصورت تھا! میری پیاری بیٹی! وہ پہن لو! ارے دادی جان وہ تو میں خالہ کے گھر پہن کر گئی تھی۔ دادی جان وہ میں نہیں پہن کر جاسکتی! اس لیے کہ وہ سوٹ تو سب خاندان والے دیکھ چکے ہیں۔ اچھا ندا! پھر تمہیں جو پسند ہے وہ پہن لو!!
ندا سب تایا، چاچائوں کی بھی لاڈلی تھی اور وہ اس کی ہر خواہش کو پورا کرنے میں کبھی کو تاہی نہیں کرتے تھے۔ ندا ہر وہ چیز پسند کرتی تھی جو خوبصورت اور مہنگی ہوتی تھی جس کی وجہ سے وہ بہت ہی اونچی اونچی خیالات کی مالک بن گئی تھی۔
ایک شریف گھرانے سے ندا کا رشتہ آیا تھا۔ مالی لحاظ سے کچھ کمزور تھے لیکن لڑکا نہایت شریف اور خوبصورت تھا۔ ندا کے گھر والوں کو بے حد پسند آیا لیکن ندا نے اس رشتے سے انکار کردیا، کہنے لگی کہ ان لوگوں کے ساتھ میرا گزارہ کرنا مشکل ہے۔
اس پر گھر والے خاموش ہوگئے۔ کچھ دنوں بعد ندا کی دوست کے بھائی سعد کارشتہ آیا وہ لوگ بہت ہی مالادار اور فیشن والے تھے۔ ندا نے فوراً قبول کرلیا! بڑے دھوم دھام سے ندا کی شادی ہوگئی۔ ندا بہت ہی خوش تھی کیونکہ بڑا گھر اور خوبصورت چیزیں حاصل کرنا ہمیشہ سے ہی اس کی خواہش اور خواب تھا۔ لیکن کچھ ہی دنوں بعد سعد کی اصلیت کھل کر سامنے آگئی سعد ایک برے اخلاق اور کردار کا مالک تھا۔ اس کی خراب عادتوں، بد زبانی اور ہر وقت کی ڈانٹ ڈپٹ سے ندا بہت پریشان ہوگئی۔ ندا کی فرمائش پوری کرنا تودر کنار بلکہ ضروریات بھی پورا کرنا مشکل تھا۔ نہ کہیں آنے جانے دیتا تھا نہ ندا کی پسند کی کوئی شاپنگ!! ہنستی بستی ندا کا چہرہ مرجھاگیا تھا آخر کار خاندان والوں سے بھی کٹ کر رہ گئی اور ان کی شکل دیکھنے کو ترس گئی۔ ندا اب چار بچوں کی ماں بن گئی لیکن جو تربیت اس نے اپنے گھر میں حاصل کی تھی وہ اس کو نہیں بھولی تھی۔ جو اچھی اچھی باتیں تھی وہ ابھر کر سامنے آگئیں۔ لہٰذا اس نے اپنے بچوں کی تربیت قرآن و سنت کے مطابق کی اور بچوں کو سکھایا کہ کس طرح اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے! اکثر اپنے بچوں کو سمجھایا کرتی تھی کہ غرور اور تکبر نہیں کرنا، بڑوں کا کہنا ماننا، ہر حال میں اﷲ کا شکر بجالانا اور آپس میں مل جل کر محبت سے رہنا ہے ورنہ انسان پرسکون اور خوشی سے نہیں رہ سکتا۔
ندا اکثر جب اپنے بچپن و جوانی یاد کرتی تو اُسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہوتے اور چھپ چھپ کے اﷲ سے معافی بھی مانگتی رہتی تھی’’میں نے دنیا میں صرف دنیا حاصل کرنے کے دھن میں خواہشات کے پیچھے دوڑتی رہی آخر کار حقیقی خوشیاں، رشتے داریاں اور امن و سکون سے محروم ہوگئی‘‘

حصہ