ہمیں تبدیل ہونے کی ضروت کب محسوس ہوگی؟ 

36

ہم نے اپنے معاشرے سے برداشت، درگزر، اخلاقیات، بڑے چھوٹے کے ادب کا جنازہ نکال کر بے حسی، مفاد پرستی کے ساتھ اپنے معاشرے کو ایک جنگل بنا دیا ہے۔ ہم شہر کی صفائی اور مسائل اور حکمرانوں کی بے حسی کا تو رونہ روتے ہیں لیکن جہاں ہمارے اختیار میں ہے ہم نے اس سے بھی چشم پوشی اختیار کر لی ہے۔ شاید ہم نے بحیثیت قوم اپنے آپ کو تبدیل کرنے کا احساس بھی دل سے نکال دیا ہے اگر ہم اپنے معاشرے کی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں شروعات اپنی ذات سے کرنی ہوگی۔ ہم اپنی ذات میں اپنے خاندان کے سفیر ہوتے ہیں ہم جس ادارے میں کام کرتے ہیں وہاں ہم اپنے اخلاق کردار رویے اوراپنے ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک سے اپنے خاندان اپنے والدین کی تربیت کی عکاسی کرتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کے ہمارا تعلق کسی اچھے خاندان سے ہے۔ اگر ہم شروعات میں جس ادارے میں کام کرتے ہیں وہاں اپنے ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں، کچرے کو کچرے دان میں ڈالیں، پانی کو ضائع کرنے سے بچیں صفائی کا خاص خیال رکھیں، ساتھیوں میں سے کوئی غیر اخلاقی حرکت کرے تو تنہائی میں پیار سے اسلام کا حوالا دے کر سمجھائیں لیکن اس کام سے پہلے اپنی ذات اور اپنے گھر میں تبدیلی لائیں، اپنے دوستوں کو اپنے اخلاق سے متا ثر کریں، یقین کریں اگر ہم خود تبدیل ہوں اور کم از کم اپنے ایک دوست کو تبدیل کرنے کا تہیہ کرلیں تو نہ صرف ہم اس معاشرے کو جنت بنادیں گے اپنے پیارے ملک کو ترقی کے راستے پر ڈالے گے بلکہ اپنی آخرت کو بھی سنوارلیں گے۔
محمد شاہد، لانڈھی چراغ ہوٹل کراچی

حصہ