چین کی پاکستان پر قبضے کی خاموش کوشش؟

88

قاضی جاوید
چین پاکستان اقتصادی راہ داری معاہدے (CPEC) کی ابتدا سے اس کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا جارہا ہے۔ پاکستانی حکمرانوںکا کہنا ہے کہ سی پیک معاہدہ پاکستان کی خوشحالی کا معاہدہ ہے اور مختلف ممالک اس کے دشمنی کی حد تک مخالف بنے ہوئے ہیں۔ اس بارے میں پاکستان میں دو رائے ہیں، لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ راہ داری بننے سے دنیا کے کسی ملک نے ترقی نہیں کی۔ اس کی سب سے بڑی مثال نہر سوئز ہے۔ نہر سوئز کی کھدائی سے قبل یہ کہا جارہا تھا کہ اس سے مصرکی حکومت کو جو ٹیکس حاصل ہوگا اس سے مصر کے عوام کی خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔ یہ کام آسانی سے ہوسکتا تھا، لیکن ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مصرکے عوام بھوک، افلاس اور غربت کے گہرے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ نہر سوئز سے ہر سال مصرکی حکومت کو 8 ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔
برطانوی ملکہ الزبتھ اوّل کی قائم کردہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1600ء میں جب برصغیر کی سرزمین پر قدم رکھا تھا تو مغل بادشاہوں میں سے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سورت اور مدراس میں مسالہ جات کے تجارتی مراکز قائم کرنے والی یہ بے ضرر سی کمپنی (جس کے منصوبے میں ہندوستان پر قبضہ شامل تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان دنیا بھر میں سونے کی چڑیا کے نام سے مشہور تھا) کسی دن پورے ہندوستان پر برطانوی راج کی راہ ہموار کردے گی اور مستقبل میں اس خطے کے لوگ معاشی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی لحاظ سے انگریزوں کی غلامی میں چلے جائیں گے۔کاروبار کے لیے آنے والی اس کمپنی نے 1689ء میں علاقائی تسخیر شروع کردی۔ یہ نوّے برسوں پر محیط عرصہ ہے کہ یہ کمپنی سرمایہ کاری اور کاروبار کے پسِ پردہ رہی۔ بعدازاں جنگِ پلاسی، نواب سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان سے لڑائیاں چلتی رہیں، اور آخرکار 1857ء میں دہلی میں مسلمانوںکے قتلِ عام کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے برطانوی راج بن کر پورے ہندوستان پر کنٹرول حاصل کرلیا۔ ہندوستان پر برطانوی راج کے قیام اور مکمل قبضے تک یہ 257 برس کا عرصہ بیت گیا لیکن منصوبے کی تکمیل آخرکار ہوکر رہی۔ اس کی وجہ ایک ہی تھی، اُس وقت کے مسلمان حکمران آج کے مسلمان حکمرانوں کی طرح عالمی پالیسیوں سے غافل تھے اور اپنی دولت میں اضافے پر توجہ مرکوز رکھتے تھے، جس نے ان کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ وہ خود بھی تباہ ہوئے اور اپنی نااہلی کی وجہ سے مسلمانوںکو 90 سال تک غیروںکی غلامی میں دے کر تباہی سے دوچار کردیا۔ اس کے بعد آزادی کے لیے طویل جدوجہد شروع ہوئی جو برسوں چلتی رہی، جس میں بے شمار شہادتوں کے ساتھ خواتین کی بے حرمتی کا سلسلہ قیام پاکستان اور اس کے بعد بھی جاری رہا، اور آج بھی پورے ہندوستان میں جہاں ہندو بلوائیوںکو موقع ملتا ہے وہ مسلمانوںکے خون سے خوب خوب ہولی کھیلتے ہیں۔
چین اور ایسٹ انڈیا کمپنی کا کوئی موازنہ تو نہیں بنتا، لیکن جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کی سر زمین پر قدم رکھا تو اُن کا ایسے ہی سواگت کیا گیا تھا، جیسا کہ آج کل پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کا کیا جارہا ہے۔ اُس وقت بھی لوگ ایسے ہی اپنے مستقبل کے بارے میں خوش تھے کہ ہندوستان کے کسانوں کا مال بین الاقوامی منڈیوں میں بکے گا۔ چین ہمارا دوست ہے، لیکن 1971ء میں مشرقی پاکستان میں جب اس دوست کی ضرورت پڑی تو یہ دوست امریکا کے ساتویں بحری بیڑے کے خوف سے دُم دباکر راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے کہتا رہا کہ یہ پاکستان اور بھارت کا آپس کا معاملہ ہے۔ سی پیک دراصل ایک ایسا منصوبہ ہے جس میں آج چین ہمارا دوست بن رہا ہے، لیکن یہ بات یاد رکھیے کہ چین پاکستان اور خاص طور پر مسلمانوںکا ہرگز دوست نہیں ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ چین اپنے ویران اور برباد مشرقی علاقے کو ترقی یافتہ بنانے کی فکر میں ہے، اور آج اسی کے سبب دوستی ہے۔ یہ کس کو معلوم ہے کہ آج سے ایک سو برس یا دو سو برس بعد نہیں بلکہ 10سے 20 سال میں چین کے ہمارے ساتھ تعلقات کیسے ہوں گے؟ اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ گزشتہ دو تین برسوں میں چین امریکا کے مقابلے میں پاکستان کے قریب آیا ہے، لیکن اس دوران چین اور بھارت بھی دوستی کو عروج کی منزلوں تک پہنچاتے رہے ہیں، اور آج بھی بھارت میں چینی سفارت خانہ اور سفیر چین اور بھارت کی دوستی کو بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں، اور ان ہی کوششوں کی وجہ سے برکس ممالک کے اجلاس میں پاکستان کے خلاف قرارداد منظور کی گئی۔ اس کے علاوہ چین بھارت سے دوستی کو بڑی اہمیت دے رہا ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکا علاقے میں بھارت کو قیادت دینے کی تیاری مکمل کرچکا ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم خود ترقی نہیں کرسکے اور اب اس دوراہے پر آکھڑے ہوئے ہیں، جہاں ہمیں زندہ رہنے کے لیے یا تو امریکا یا پھر چین کی گود میں بیٹھنا پڑے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ ریڈلائن کہاں ہے جہاں ہمیں یہ پتا چلے گا کہ ہم اپنے گھر کے مالک ہیں یا محکوم ہوچکے ہیں۔ وہ حد کہاں ہے جب یہ پتا چلے گا کہ چین سرمایہ کاری کررہا ہے یا پھر پاکستان کو خرید چکا ہے، اور سی پیک کے پیچھے ایسٹ انڈیا کمپنی کا کھیل کھیلتے ہوئے پاکستان پر قبضے کی خاموش کوشش میں مصروف ہے؟
سی پیک منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، چینی سرمایہ کاری ابھی صرف شروع ہی ہوئی ہے اور ہماری گوادر کی بندرگاہ عملی طور پر چین کے کنٹرول میں ہے۔ اس کے علاوہ پورٹ قاسم پر بھی چینی کول برتھ کے قیام اور دوسری سرگرمیوںکی وجہ سے عام پاکستانیوں اور پاکستانی مچھیروںکا علاقے میں داخلہ بند کردیا گیا ہے۔ پاکستان کی مرکزی اسٹاک مارکیٹ کے 40 فیصد حصص ایک چینی کنسورشیم کو بیچنے کے تمام معاملات طے پا چکے ہیں۔ جہاں جہاں چینی منصوبوں کا آغاز ہوا ہے، وہاں وہاں خصوصی طور پر ملازم بھی چین سے بلواکر رکھے جارہے ہیں۔ ان منصوبوں میں پاکستانی صرف لاجسٹکس کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی اور راولپنڈی کے بازاروں میں چینی اشیاء فروش بھی نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ انتہائی باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ محکمہ ڈاک کو خسارے سے نکالنے کے لیے چین سے معاہدہ طے پا چکا ہے اور اس ضمن میں دورے کرنے والے چائنیز وفود نے فزیبلٹی تیار کرتے ہوئے تمام قانونی کارروائی بھی مکمل کرلی ہے۔ اس ضمن میں طے یہ پایا ہے کہ محکمے کو 8 ارب روپے کے خسارے سے نکالنے کے لیے پہلے مرحلے میں ادارے کی خالی زمینوں سمیت مختلف جی پی اوز، ہیڈ پوسٹ آفس اور ڈاک خانوں کی اضافی زمین پر کمرشل و شاپنگ پلازے، پرائیویٹ اسکولز اور اسپتال قائم کیے جائیں گے، جن کے کرایوں کی آمدن سے محکمے کو خسارے سے نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی دوران چین کی فرم لاجسٹک سروس، موبائل منی سولوشن سروس اور میل سروس کا انتظام سنبھالے گی۔ بعدازاں مرحلہ وار محکمہ ڈاک کے دائرۂ اختیار میں آنے والے دیگر شعبوں کے انتظامات بھی ان کے سپرد کردیے جائیں گے۔
سوال یہ ہے کہ 1600ء میں برطانوی ملکہ الزبتھ اوّل اور اس کی بنائی ہوئی ایسٹ انڈیا کمپنی کے مقاصد، اور آج چین کے مقاصد مختلف ہیں؟ ایسا ہرگز نہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے بھی اپنے مفادات تھے اور آج چین کے بھی اپنے مفادات ہیں۔ برطانوی راج نے نہری نظام، ریل گاڑیوں کے ٹریک اور سڑکیں اس وجہ سے نہیں بنائی تھیں کہ انہیں محکوم ہندوستانی عوام کا غم کھائے جا رہا تھا، بلکہ یہ سب کچھ ان کی اسٹرے ٹیجک ضرورت تھا۔ اب دنیا میں ’’خودغرض قوم‘‘ کے نام سے مشہور چینیوں کی سرمایہ کاری، سڑکیں، پل اور ٹرین کی لائنیں اس وجہ سے نہیں کہ وہ پاکستانیوں اور مسلمانوں کی محبت میں مبتلا ہیں، بلکہ یہ ان کی اپنی اسٹرے ٹیجک ضرورت ہے۔ پاکستان کی ترقی کا کوئی پاکستانی مخالف نہیں ہے، لیکن کبھی کبھار اپنے سیاسی لیڈروں کی دوراندیشی پر عوام کو شک ہوتا ہے۔ برطانوی شہزادہ چارلس دوئم نے 1661ء میں پرتگالی شہزادی سے شادی کی تو اسے جہیز میں ممبئی ملا تھا، اور اس نے یہ علاقہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو سالانہ دس پاؤنڈ کرائے پر دے دیا تھا۔ آج پاکستانی حکمران بھی ’آزادی کے جہیز میں ملنے والے ان علاقوں کو چینی کمپنیوں‘ کے حوالے کررہے ہیں، کیوں کہ وہ خود ان کا انتظام سنبھالنے کی سکت نہیں رکھتے۔ فی الحال یہ کہا جا سکتا ہے کہ لڑائی یا جنگ کا کوئی امکان ہی نہیں ہے، لیکن بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور بڑھتے ہوئے چینی اثررسوخ سے مستقبل میں یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ پاکستان کا حکمران تو کوئی پاکستانی ہی رہے گا لیکن تحفظ چینی مفادات کا کیا جائے گا اور انتظام بھی پسِ پردہ چینی ہی چلائیں گے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ملک میں اہم، فوجی افسران، سرمایہ کار اور سیاست دان ہوتے ہیں۔ باقی عام شہری کوئی معنی نہیں رکھتے۔ انہیں یہی تین طاقتیں کنٹرول کرتی ہیں۔ چین بھی امریکا کی طرح پاکستان میں انہی تین طبقوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں ہے۔ پاکستانی فوج، سیاست دانوں، سرمایہ داروں اور میڈیا… چین ان سبھی پر اثرانداز ہورہا ہے۔

حصہ