نیب کی کارروائی پر رونا بھی اور کرپشن کا سلسلہ بھی

57

کسی بھی ملک میں کرپشن کے واقعات اس کے نظام پر ’’ کلنک کا ٹیکہ‘‘ ہوتے ہیں بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ ٹیکہ نہیں بلکہ ٹیکے ہیں۔ دنیا میں وہ ملک بہت آگے نکل چکے ہیں جہاں کرپشن پر قابو پالیا گیا چاہے وہ جمہوری ہو یا غیر جمہوری… مگر ہمارے ملک میں کرپشن کے بڑھتے ہوئے واقعات آمریت کے مقابلے میں جمہوری نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
ان دنوں وفاقی اور صوبائی حکومتیں کسی نہ کسی طرح بدعنوانی کی لپیٹ میں ہیں وجہ صرف یہ ہے کہ کمیشن اور سرکاری فنڈز میں خورد برد کو حق سمجھا جانے لگا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ کرپشن کے واقعات کی بازگشت میں اسے روکنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کے لیے نیب اور ایف آئی اے پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں اور ساتھ ساتھ بدعنوانیوں کا سلسلہ بھی نئے انداز سے جاری ہے۔
اس حوالے سے سندھ حکومت کے کرپٹ عناصر‘ جن میں حکمران بھی شامل ہیں‘ کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ حال ہی سندھ اسمبلی کے جاری سیشن میں کرپشن میں ملوث سابق صوبائی وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن کی گرفتاری کے حوالے جو شور شرابہ کیا گیا وہ ’’چوری اوپر سے سینہ زوری‘‘ کے مترادف ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سمیت متعدد حکومتی ارکان نے شرجیل میمن کی گرفتاری پر احتجاجی تقاریر کیں اور وفاقی ادارے قومی احتساب بیورو (نیب) پر کڑی تنقید کی۔ حالانکہ کرپشن کے مقدمے میں شرجیل میمن کی قبل از گرفتاری خود اس بات کی دلیل ہے کہ ’’دال میں کچھ کالا ہے‘‘ ایسا نہیں ہوتا تو وہ کیوں ضمانت لیتے۔ یہی نہیں بلکہ ان کے خلاف انکوائری شروع ہوتے ہی ملک سے باہر جانا کا عمل بھی شرجیل کے بدعنوان ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
سندھ اسمبلی کے منتخب ارکان جو شرجیل کی گرفتاری پر شور شرابہ اور ان کی سندھ اسمبلی میں پولیس کی حراست میں آمد پر پھول نچھاور کررہے تھے نہ جانے اپنی بے حسی کا اظہار کررہے تھے یا کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے کے باوجود قانون ساز اسمبلی میں قانون کی گرفت میں آنے پر خوشی کا اظہار۔ عام خیال تو یہ ہے کہ شرجیل پر کرپشن کا الزام ہی ان کے لیے اور منتخب ایوان کے لیے شرمندہ ہونے کی بات تھی۔ مگر شرم تو شاید صرف اُن کو آتی ہے جو مجبوراً یا نادانستگی میں کوئی غلط کام کر بیٹھتے ہیں یا ان سے سرزد ہوجاتا ہے۔
یہ شرجیل میمن وہی ہیں جن کی سندھ اسمبلی کی رکنیت بھی متنازع ہوچکی ہے کیونکہ یہ طویل عرصے سندھ اسمبلی سے غیر حاضر رہے ہیں ان کی غیر حاضری پر نہ حکومت نے ایکشن لیا اور نہ ہی کسی حکومتی رکن اسمبلی نے اس کا نوٹس لیا۔ اسمبلی سے غیر حاضر رہ کر تنخواہ وصول کرنا بھی کرپشن ہے ساتھ ہی عوام کے دیے گئے مینڈیٹ کا مذاق اڑانا بھی۔
سندھ اسمبلی کا جب بھی اجلاس ہوا تو اسمبلی میں شرجیل میمن کی جانب سے چھٹی کی درخواست پیش کی گئی جسے ایوان ووٹنگ کے ذریعے منظور کرتا رہا اس طرح وہ دو سال تک سندھ اسمبلی سے باآسانی غیر حاضر رہے۔ یہ جمہوریت کا حسن کہ آرام بھی کرواور تنخواہ بھی وصول کرتے رہو
بات ہورہی ہے کرپشن کی۔ سندھ کے مختلف اداروں میں کرپشن کے واقعات پر نیب نے دائرہ تنگ کیا تو صوبائی حکمرانوں کو ہی نہیں بلکہ ان کی پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو بھی نیب برا لگنے لگا۔ یہ وہ نیب ہے جس کے چیئرمین کا تقرر قومی اسمبلی میں بیٹھے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے مشورے سے کیا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جس ادارے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو اس قدر شکایات ہیں تو اس کے چیئرمین کی تقرری کے لیے کیوں کردار ادا کیا؟ ایسا کرکے نیب کی حیثیت اور اس کے اختیارات کو تسلیم بھی کیا گیا اور اس کے بارے میں احتجاج بھی کیا جارہا ہے۔ یہ دوہری پالیسی کس لیے ہے؟
سندھ حکومت، کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ، سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی، فش ہاربر اتھارٹی، بلدیہ عظمیٰ کراچی اور دیگر اداروں میں جو کچھ کیا اور کررہی ہے وہ بھی کرپشن ہی تو ہے اور اگر یہ بات غلط ہے تو سوال یہ ہے کہ سندھ کے محکمہ اینٹی کرپشن کو یہ بدعنوانیاں نظر کیوں نہیں آتی شاید اس لیے کہ کہ ’’یہ گھر کی بات ہے۔‘‘
افسوس اس بات پر ہے کہ کرپشن کے خلاف کارروائی کرنے پر نیب کے خلاف احتجاج کرنے والی حکومت اب بھی مختلف اداروں میں کرپشن کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔ روزنامہ جسارت کی جمعہ کی ایک خبر کے مطابق کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کو بجلی فراہم کرنے کی غرض سے 45 میگاواٹ استعداد کا پاور اسٹیشن قائم کرنے کے لیے پراجیکٹ بنایا گیا جس کی لاگت 50 ارب روپے رکھی گئی ہے اس پراجیکٹ کی بے قاعدگی کی سب اہم نکتہ یہ ہے کہ اس منصوبے کی وفاق سے منظوری ہی نہیں لی گئی جبکہ یہ منصوبہ پرائیویٹ پبلک پارٹیسشن کے تحت ہونا چاہیے مگر اسے سندھ گورنمنٹ ازخود بی او او کی بنیاد پر کرانا چاہتی ہے جس کی اجازت سیپرا اتھارٹی نے دینے سے انکار کردیا ہے اور یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ سیپرا کے پاس اس طرح کے پراجیکٹ کی منظوری کا اختیار ہی نہیں ہے ۔ ایک اور اہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پراجیکٹ کا ٹھیکہ جس کمپنی کو دینے کی کوشش کی جارہی ہے وہ پیپلز پارٹی کی اہم ترین شخصیت کے دوست کی ہے وہی دوست جس نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے تبادلے کے لیے کوشاں ہے۔ مذکورہ فرم کو پاور پلانٹ کے لیے بنک سے قرضہ حاصل کرنے کی بھی سہولت دی جارہی ہے لیکن اس قرضے کی گارنٹی سندھ حکومت دے گی۔ اگر منصوبے کے تحت ایسا کچھ کردیا گیا تو یہ بھی سنگین بے قاعدگی اور سندھ کے خزانے کو اربوں روپے کا ٹیکا لگانے کے برابر ہوگا۔
روزنامہ جسارت اس معاملے کو آشکار کرکے اپنی ذمے داری پوری کرچکا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ دیگر حکام کیا کرتے ہیں…؟

حصہ