اسلام کا سرچشمۂ قوت

81

دوسری اور آخری قسط
مولاناؒ نے بڑھتی ہوئی بے حسی اور مسلمانوں پر اہل کفر کے بڑھتے ہوئے غلبے کی تین بڑی بڑی وجوہات بتائی ہیں ان میں سر فہرست ’’جہالت‘‘ ’’افلاس‘‘ اور ’’مشنری مدارس‘‘ کا پایا جانا ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے جتنے بھی مسلمان ممالک ہیں ان کے حکمرانوں کی اس بات پر کوئی توجہ ہی نہیں ہے کہ ان کے ممالک میں بڑے بڑے تعلیمی مدارس ہوں جس میں نہ صرف ان کے اپنے ممالک کے لوگ اعلیٰ دینی و دنیوی تعلیم حاصل کر سکیں بلکہ وہ اسلامی و غیر اسلامی ممالک جن کے اپنے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے نہیں ہیں وہ بھی اسلامی ممالک میںآکر تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکیں۔
بد قسمتی سے اس مرض میں مسلمانوں کے سارے ہی ممالک شامل ہیں۔ مسلمان ممالک میں نہ صرف جدیدتعلیمی اداروں کی بہت زیادہ کمی ہے بلکہ دینی ادارے بھی اسلام کی جامع تعلیم دینے سے محروم ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف مسلمان ترقی کی دوڑ میں دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ وہ دین کے صحیح تقاضوں کو سمجھنے سے بھی قاصر ہیں۔
اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں انسان کی زندگی کے ہر ہر پہلو کے مسائل کا حل موجود ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر نہ صرف اس زمین کو جنت نظیر بنایا جا سکتا ہے بلکہ اپنی اخروی زندگی بھی سنواری جا سکتی ہے لیکن بد قسمتی سے جو تھوڑے بہت دینی تعلیمی ادارے مسلم ممالک کے طول و عرض میں موجود ہیں وہ ایک دوسرے کو ایک دوسرے سے توڑنے کی تعلیم تو دیتے نظر آتے ہیں ، فرقہ واریت ابھار نے کا سبب تو بنتے ہیں لیکن آپس میں جوڑنے اور دین کے صحیح تقاضوں کو اپنے طالب علموں تک منتقل کرتے نہیں دکھائی دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سارے مذاہب اور دشمن طاقتیں جو ہمارے اندر مذہب سے دوریاں پیدا کرنا چاہتی ہیں وہ ہماری ان کمزوریوں سے پورا پوارا فائدہ اٹھاتی ہیں اور ہمیں آپس میں الجھا کر دین سے بیگانہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ اگر ہمارے حکمران جہالت کے یہ اندھیارے ہم سے دور کرنے اور تعلیم کو سہل بنانے میں کر دار ادا کریں تو دشمن کے اس شیطانی حملے سے مسلم قوم کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
مولاناؒ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے بیشتر ممالک اور خاص طور سے جہاں جہاں بھی مسلمان ہیں وہ غربت اور افلاس کا شکار ہیں۔ افلاس مسلمانوں کی کمزوری اور غیر مسلموں کے لیے ہمارے خلاف ایک خطرناک ہتھیا رہے۔ جو شخص با اعتبار ایمان و یقین نحیف ہو اور اس پر ستم بالائے ستم یہ ہو کہ وہ مفلس بھی ہو اسے صراط مستقیم سے آسانی کے ساتھ بھٹکایا جا سکتا ہے چنانچہ مشنری ادارے ایسے افراد کو کسی بھی قسم کا لالچ دے کر ان کو دین سے دور لیجانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
یہ بات اس وقت کی ہے جب برصغیر انڈ و پاک میں عیسائیوں کے بڑے بڑے ادارے مسلمانوں کو بہت تیزی کے ساتھ عیسائی بنانے کی تگ و دو میں مصروف عمل تھے۔ اس زمانے میں تو صرف چند چھوٹی چھوٹی مہم جوئیاں ہی ہوا کرتی تھیں آج کے دور میں تو یہ کام اور بھی بڑے پیمانے پر ہونے لگا ہے اب تو قرضوں کی جکڑ بندیوں کا یہ عالم ہے کہ پورے پورے ممالک اس معاملے میں کود پڑے ہیں اور وہ مسلمان ممالک جن کے پاس وسائل اور مال و دولت کی فراوانی ہے ان کو بھی بیشمار مصلحتوں میں گرفتار کرکے ان کے وسائل پر قبضہ حاصل کرتے جا رہے ہیں لیکن ان ممالک کے حکمرانوں کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہے کہ ان کے اور ان کی قوم کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے، انھیں اگر غم ہے تو بس یہ ہے کہ وہ اور ان کے خاندان والوں پر کوئی آنچ نہ آئے۔ اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ افلاس صرف وسائل اور مال و دولت کی قلت کا ہی نام نہیں ہے بلکہ افلاس ذہن کی سوچوں کا غیروں کی سوچوں کا غلام ہوجانے کا نام بھی ہے۔
دینی تعلیمی اداروںکی تو قلت ہے ہی لیکن دنیوی تعلیمی اداروں کا نہ ہونا بھی ایک بہت بڑا ناسور ہے جس نے مسلم دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکر کھڑا کر دیا ہے۔ مسلمان ممالک کے بچے مجبور ہیں کہ وہ ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کریں جس میں ان کے بہک جانے کے سو فیصد امکانات مو جود ہیں۔ ظاہر ہے جب وہ مسٹروں سے تعلیم حاصل کریں گے تو وہاں سے مولوی بن کر نکلنے سے تو رہے۔ پھر مشکل در مشکل یہ کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل بھی کرلیں اور اپنے دین و ایمان کو بچا نے میں کامیاب بھی ہو جائیں تو ان کی تعلیم کے مطابق مسلم ممالک میں ایسے اداروں کا فقدان جن میں وہ اپنی خدمات انجام دے سکیں، انھیں مجبور کر دیتا ہے کہ وہ اپنے روز گار کے مواقع دیار غیر میں ہی تلاش کریں۔ چنانچہ دنیا کے سیکڑوں ممالک میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان رہنے اور بسنے پر مجبور ہیں اور اس تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
اب قارئین خود ہی فیصلہ کر سکتے ہیں ان ساری خرابیوں کا واحد ذمہ دار کون ہے؟ جہالت، مفلسی اور تعلیمی اداروں کا فقدان ہر لحاظ سے ہماری اپنی ہی کمزوری ہے اور اس کو کوئی بھی دور نہیں کر سکتا سوائے اس کے اسے ہم ہی دور کریں لیکن اس کے بر عکس ہم دوسروں پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں جبکہ دنیا ہماری انھیں کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کرہمیں اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
مولاناؒ کی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی کو بیچ منجھدھار میں لاکر نہیں چھوڑ دیتے بلکہ وہ ایسی تمام باتوں کا ذکر کرنے کے بعد ان کمزوریوں اور خرابیوں کا حل بھی ضرور نکالتے ہیں تاکہ جہاں مسلمانوں کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہووہیں انھیں ان خرابیوں کو دور کرنے کا شعور بھی آجائے۔
قارئین کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ مولاناؒ کی یہ تحریریں پاکستان بننے سے کافی عرصہ قبل کی ہیں اور اس وقت مشنری اداروں کی جانب سے اس بات کی سر توڑ کوشش کی جارہی تھی کہ مسلمان اپنا مذہب تبدیل کرکے انگریزوں کی غلامی اختیار کر لیں۔ فی زمانہ تبدیلی ٔمذہب کی مہمات تو شاید اتنی نہیں ہوں لیکن غلام بنانے کی مہمات آج تک جاری ہیں چانچہ طاقتور ممالک کی جانب سے اسلامی ممالک کو زیر تسلط لانے کی سعی و جہد اس سے بھی کہیں زیادہ شدت سے جاری ہے جو کبھی مرتدبنانے کی حد تک محدود تھی۔ دنیا کے جتنے بھی کمزور ممالک ہیں بالخصوص مسلم ممالک ان پر طاقتور ممالک کا تسلط دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ۔ امریکہ، روس اور چین اس سلسلے میں بہت نمایاں نظر آتے ہیں۔ کوئی پیار ہی پیار میں انگلی پکڑتے پکڑتے پہنچا پکڑنے کے چکر میں ہے اور کسی ملک کو اپنی طاقت پر اتنا گھمنڈ ہے کہ وہ راتوں رات فیصلہ مانگتا ہے کہ بول تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ قرضوں کے ہتھیار چلا کر اگر کام نہیں نکلتا تو انگلی ٹیڑھی کر لی جاتی ہے ۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ خود سر ممالک میں آپس کے اختلافات سے بھر پور فائدہ اٹھا تے ہوئے ان میں جارح گروہوں کو اتنا طاقتور بنا دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی افواج کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں اور اس طرح ہر دو پہلوؤں سے مقصد براری کی جاتی ہے۔
مولاناؒ اس کاحل یہ بتاتے ہیں کہ افراد میں صحیح مذہبی شعور بیدار کیا جائے اور اس کے لیے ملک کے طول و عرض میں ایسے تربیت تافتہ لوگ تعینات کئے جائیں جو اس بستی کے لوگوں کی ذہنی تربیت کر سکیں اور ان کے ایمان و یقین کو اتنا مضبوط بنا سکیں کہ وہ کسی کے بہکائے میں نہ آسکیں۔
اگر ہم اس وقت کے غلام ہندوستان سے ہٹ کر آج کے پاکستان میں غور کریں تو انؒ کے کہنے کا مقصداس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا کہ ملک کے طول و عرض میں ایسے مدارس قائم کئے جائیں جو لوگوں کو سچا اور پکا مسلمان بنا سکیں اور ان میں اسلام کی حقیقی روح پھونک سکیں۔
تر جیہات میں یہ بات شامل تھی کہ اس سے قبل کہ ہم غیر مسلموں کو مسلمان بنائیں، پہلے مسلمانوں کو مسلمان بنانے پر توجہ دیں اور دوسرے کام کو بعد کے لیے رکھ دیں۔
وہ ایسے مبلغین کو غیر ضروری خیال کرتے تھے جو کچھ وقت کے لیے آئیں اور چلے جائیں بلکہ وہ مستقل بنیاد پر تبلیغ کے کام کو اولیت دیتے تھے اور خواہش رکھتے تھے کہ بڑے بڑے تعلیمی مدا رس ہوں جن سے ایسے افراد تیار ہو کر نکلیں جو دین کے تقاضوں کو اس کی روح کے مطابق پورا کر سکتے ہوں۔
جہالت کے ساتھ مفلسی اور لاچارگی انسان میں بگاڑ پیدا کرنے کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔ ایسے لوگوں کو اگر مناسب ماحول، اچھے استاد اور احباب اور ٹھکانے دستیاب نہیں ہوں تو انھیں آوارگی اور غلط راستوں پر چل نکلنے سے اگرروکنا ناممکن نہیں تو از حد دشوار ضرور ہوجاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ایسے بچوں کو کو جو یا غربت کا شکار ہوں، یتیم ہو گئے ہوں، ان کے والی وارث نہ ہوں یا ہوں تو ان کی کفالت کے اسباب نہیں رکھتے ہوں، ان کے لیے ایسے اداروں کا ہونا بہت ضروری ہے جہان انھیں پناہ مل سکے۔
مولاناؒ نے اس کا حل یہ بتایا کہ محتاج خانے یا یتیم خانے تعمیر کئے جائیں تاکہ ایسے افراد کو اچھا ٹھکانہ بھی مل سکے اور ان کی اچھی تربیت بھی ہو سکے۔
اس زمانے میں شاید یہ ایک تجویز ہی رہی ہو لیکن جب مولانا کو موقع ملا اور پاکستان جیسی نعمت مسلمانوں کو میسر ہوئی تو ’’الخدمت‘‘ کی صورت میں مولانا نے ایک ایسا ادارہ بنا کر دکھا دیا جو لوگوں میں تعلیم بھی عام کر رہا ہے، ہسپتالوں کی صورت میں دکھی انسانیت کے دکھوں کا مدا وا بھی کر رہا ہے، بیٹھک اسکولوں کے ذریعے غریب بچوں کو تعلیم بھی فراہم کر رہا ہے اور کم فیسوں کے عوض اعلیٰ تعلیم کے لیے ’’عثمان پبلک اور زبیر پبلک اسکول‘‘ جیسے ادارے بھی ملک کے طول و عرض میں کام کر رہے ہیں اسطرح بے بس انسانوں کی بے بسی میں ان کو سہارا فراہم کر نے کا عملی مظاہرہ اپنی مثال آپ ہے۔
جس طرح کسی ’’جن‘‘ کی زندگی کسی طوطے مینا میں ہوتی اسی طرح آج کل کے زمانے میں قوموں کی خوشحالی اور بد حالی اقتصادی عروج و زوال سے وابستہ ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ اقتصادی بد حالی اتنی بری بیماری ہے کہ اس کی زد میں آکر روس جیسا ملک بھی بکھر جانے پر مجبور ہو جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ مسلم ممالک اپنے آپ کو اقتصادی لحاظ سے مضبوط کریں تاکہ وہ اپنے ملک کے عوام میں خوشیاں و خوشحالی بانٹ سکیں۔
اقتصادی خوشحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس معاملے پر حکمران خود غور نہیں کریں گے لیکن بد قسمتی سے دنیا کے بیشتر ممالک اور خاص طور سے پاکستان کے حکمران اس مسئلے کی جانب کم ہی توجہ دیتے نظر آتے ہیں۔
مولاناؒ نے اس جانب بھی توجہ دی ہے لیکن اُس وقت کے مسلمان اپنی سلطنت و جاہ و جلال سے نہ صرف محروم ہو کر رہ گئے تھے بلکہ وہ ہندؤں اور انگریزوں کے زیر عتاب اس بری طرح آگئے تھے کہ بڑی بڑی جاگیروں، صنعتوں اور زرعی زمینوں والے بھی ہر جانب سے جکڑے نظر آتے تھے۔ یہ تو ہے اس دور کی بات، مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی صورت حال ہندوستان کی صورت حال سے بہت زیادہ مختلف نظر نہیں آتی۔ جو پاکستان کے مسلمان ہیں وہ اپنے ملک کی ناانصافیوں کا تو شکار ہیں ہی، ساتھ ہی ساتھ حکمرانوں کی نااہلیوں کی وجہ سے وہ بیرونی جکڑ بندیوں میں بھی اس بری طرح پھنس چکے ہیں کہ وہ اور آہستہ آہستہ پھر سے اسی دور غلامی کی جانب بڑھتے جا رہے ہیں جس سے انھوں نے بیشمار قربانیں دے کر نجات حاصل کی تھی۔
مولاناؒ کے اس وقت کے نقطۂ نظر کو اگر سامنے رکھا جائے تو اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ اگر اقتصادی صورت حال کو درست سمت کی جانب رواں نہ رکھا گیا تو صورت حال بہت خرا ب ہو سکتی ہی بلکہ ممکن ہے کہ ہم اپنا تشخص برقرار رکھنے میں ہی ناکام ہو جائیں۔
مولاناؒ اس بحث کا سارا نچوڑ اس خوبصورت پیراگراف کے کوزے میں یوں بند کرتے ہیں۔
’’پس اے معماران حرم! جس طرح ایک عمارت تعمیر کرنے کے لیے اچھے ساز و سامان سے زیادہ معماری کی اعلیٰ قابلیت درکار ہوتی ہے اسی طرح ہمیں مفید تدبیروں اور کارآمد تجویزوں سے زیادہ کام کرنے کی صلاحیت درکار ہے۔ دوا خواہ کتنی ہی مفید اور کارگر ہو لیکن اگر طبیب میں علاج کرنے کی قابلیت نہ ہو تو وہ مریض کے لیے کچھ بھی مفید نہیں ہو سکتی۔ پس اگر ہماری قوم کے ارباب حل و عقد وقت کی نزاکتوں کو ٹھیک ٹھیک محسوس کرتے ہیں تو انھیں تمام دوسرے ملحوظات کو نظرانداز کرکے سب سے پہلے تنظیم قوائے ملی کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور جلد سے جلد اس طوائف الملوکی کا خاتمہ کردینا چاہیے جو اس وقت ہماری تمام قومی تحریکوں میں جاری و ساری ہے‘‘۔

حصہ