بہترین شخص

46

 ڈاکٹر سید حسنین احمد

معاشرے میں بہترین شخص کا مصداق کسے قرار دیا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب ظاہر ہے، ہر شخص اپنے ذوق، نقطۂ نظر اور سوچ کے مطابق الگ الگ دے گا، اہلِ علم اور ارباب دانش کی نظر میں ہوسکتا ہے اس کا مستحق وہ ہو جس نے علم ودانش کی سنگلاخ وادیوں میں آبلہ پائی کی ہو اور معرفت وحکمت کی بلند وبالا چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہوا ہو۔ جبکہ مادیت کے متوالوں اور اسباب ووسائل کے دیوانوں کی نگاہیں اس ٹائٹل کے حوالے سے ان افراد پر مرکوز ہوجائیں گی جنہوں نے مال ودولت کی ریس میں بہتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہو، جن کا عشرت کدہ ان کے بہت سے جاننے والوں کے لیے رشک وحسد کا مرکز ہو اور بینک بیلنس نہ صرف عزیز واقارب؛ بلکہ انکم ٹیکس والوں کے لیے بھی مرکزِ توجہ بنا ہوا ہو، اس کے برعکس شہرت وناموری کو سب کچھ سمجھنے والے یہ ٹائٹل اسے دینا پسند کریں گے جس کا ڈرائنگ روم تمغے اور انعامات سے بھرا ہوا ہو اور قریہ وشہر پرستاروں کی بھیڑ سے اٹا پڑا ہو، ہوسکتا ہے بعض لوگوں کا ذہن اس کے لیے ان سوشل ورکروں کی طرف جائے جو اپنے لیے نہیں؛ بلکہ دوسروں کے لیے جیتے ہیں، ان سب آرا کا المیہ یہ ہے کہ یہ سب محدودیت کا شکار اور زندگی کی بس ایک خاص جہت کی آئینہ دار ہیں؛ اس لیے کہ ہو سکتا ہے ان حوالوں سے بہتر ین سمجھا جانے والا شخص زندگی کے وسیع تناظر میں بدترین شخص ثابت ہو۔
اس سوال کا شاندار اور جامع جواب وہ ہے جو رسولؐ کی جانب سے دیا گیا، آپؐ کی نظر میں ’’بہتر ین شخص‘‘ کے ٹائٹل کا مستحق وہ ہے جس کا سلوک اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر ین ہو۔ (سنن ترمذی)
بظاہر یہ بات کچھ عجیب سی لگتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید ازدواجی معاملات کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے دی گئی ہے۔ لیکن سنجیدگی سے اس چیز کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ بہترین شخص کے انتخاب کے لیے گھروالی کے ساتھ سلوک سے بہتر کوئی معیار نہیں ہے، یہ اتنی جامع اور وسیع کسوٹی ہے جس پر کسی کو بھی پرکھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ کیا واقعی وہ بہترین شخص ہے یا اس نے شرافت کا محض مکھوٹا لگایا ہے؛ اس لیے کہ لوگ بظاہر جیسے نظر آتے ہیں ویسے ہوتے نہیں ہیں؛ بلکہ ظاہر تو کبھی کبھی اتنا پرفریب ہوتا ہے کہ اس سے اچھے خاصے جہاں دیدہ اور تجربے کار لوگ بھی دھوکا کھاجاتے ہیں؛ چنانچہ بہت سے لوگ دینداری کا لبادہ اس مہارت کے ساتھ اوڑھتے اور تقویٰ وطہارت کی مصنوعی کریم سے اپنی صورت کو اس قدر پرکشش اور چمکدار بنا لیتے ہیں کہ لوگ ان کی شرافت ودینداری کی قسمیں کھانے میں بھی نہیں جھجکتے؛ لیکن ان کی عائلی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلے گا کہ ظاہر ی شرافت ودینداری سب گھر سے باہر ہے، گھر کے اندر یہ شخص انتہائی بدتمیز، خودغرض اور شقی القلب ہے، باہر شرافت ومروت کا دم بھر نے والا گھر میں انتہائی وحشی ہے اور ہر دن ظلم وبربریت کی ایک نئی داستان رقم کرتا رہتا ہے، اسے نہ اللہ و رسول کے احکام وتعلیمات کی پرواہ ہے اور نہ ہی اسوۂ رسولؐ سے گھر کو منور کرکے اسے جنت کا ایک ٹکڑا بنا نے کی فکر، جہاں اضطراب کے بجائے سکون کا ڈیرا ہو، نحوست کے بجائے سعادت کا بسیرا ہو، تنگی کے بجائے فراخی، نفرت کے بجائے محبت اور کراہت کی تیرگی کے بجائے انسیت کے دیپ جھلملاتے ہوں۔
رسولؐ نے بہترین شخص ہونے کے لیے جو معیار متعین فرمایا ہے، اس کی روشنی میں اگر حیاتِ طیبہ کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ آپؐ کی ذات اس حوالے سے بھی عالمِ انسانیت کے لیے مثالی نمونہ ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اسے اپنی زندگی میں اتاریں اور اس سے اپنی عائلی زندگی کو سنواریں۔
صفیہؓ ایک سفر میں آپؐ کے ساتھ تھیں، انہوں نے اس بات پر رونا شروع کردیا کہ وہ جس اونٹنی پر سوار تھیں وہ بہت آہستہ چلتی تھی، آپؐ ان کے پاس گئے اپنے دست مبارک سے ان کے آنسو پوچھے اور دلاسہ دیا۔ (سنن نسائی) آپؐ بیویوں کی تعریف میں بھی کمی نہیں کرتے؛ بلکہ برملا اس کا اظہار کیاکرتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ فرمایا: خدیجہ سے مجھے شدید محبت ہے۔ (مسلم) عائشہؓ کے بارے میں فرمایا: عائشہؓ کی فضیلت دیگر عورتوں پر ایسی ہی ہے جیسے ثرید کی دیگر کھانوں پر۔ (بخاری آپؐ پلیٹ میں اس جگہ سے کھانا کھاتے تھے، جہاں سے عائشہؓ کھاتی تھیں۔ (مسلم) آپ اپنی بیویوں کی دلجوئی کا اس حد تک خیال رکھتے تھے کہ جب ایک ایرانی پڑوسی نے آپ کی پسندیدہ ڈش ’’مرق‘‘ بنایا اور آپ کو دعوت دی تو آپ نے اس دعوت کو قبول نہیں فرمایا۔ اس لیے کہ اس نے آپ سے تنہا آنے کے لیے کہا تھا، اورآپؐ کو یہ گوارہ نہ تھا کہ شریکِ حیات کے بغیر دعوت میں جائیں، لہٰذا جب اس نے آپ کے ساتھ عائشہؓ کو بھی دعوت دی تو آپؐ نے دعوت قبول فرمائی اور تشریف لے گئے۔ (مسلم) آپؐ ازواج مطہرات کا نہ صرف حددرجہ خیال رکھتے تھے؛ بلکہ ان کے مزاج شناس تھے اوران کے چشم وابرو کے اشارے کو بھی اچھی طرح سمجھتے تھے؛ چنانچہ ایک مرتبہ عائشہؓ سے فرمایا: میں یہ جان جاتاہوں کہ کب تم مجھ سے ناراض ہو اور کب خوش؟ انہوں نے دریافت کیا: وہ کیسے یارسول اللہ؟ آپ نے فرمایا جب تم ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: رب ابراہیمؑ کی قسم اور جب خوش رہتی ہو تو کہتی ہو: رب محمد کی قسم۔ (مسلم)

حصہ