اسلام بیزار طبقہ اور ہماری ذمے داری

51

مولانا محمد سلمان

اسلامی تعلیمات پر حملہ اور مسلمانوں کی تصویر بگاڑنے والے افراد، خواہ مسلم نام کے حامل ہوں اور مسلم خاندانی پس منظر رکھتے ہوں یا باضابطہ غیرمسلم پس منظر اور غیرمسلم نام کے حامل ہوں، ان دونوں قسم کے لوگوں کی زہرناکی تقریباً یکساں ہے؛ بلکہ بسا اوقات مسلم نام والے زیادہ بڑے نقصان کا سبب بن جاتے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ مسلم نام کے ساتھ کافرانہ کردار، مسلمانوں میں اشتعال پیدا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ماضی قریب میں ہمارے یہاں، اس گھناؤنے کردار کے حوالے سے، سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین اور اب طارق فتح جیسے لوگ زیادہ جانے گئے یا بدنام ہوئے۔ جب کہ اسی دور میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں میں بہت سے لوگوں نے یہی کردار ادا کیا۔ مثلاً اسلام کو ایک برائی قرار دینے والا امریکی پادری فرینکلن گراہم نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں گستاخی کرنے والا پادری جیری فال ویل اور اسی قسم کی ہفوات بکنے والا وٹیکن کا پوپ بینڈیکٹ شانزدہم وغیرہ۔

اس سلسلے میں قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس قسم کے لوگوں کی فتنہ انگیزی کے جواب میں عام طور پر ہمارا طرز عمل یہ رہا ہے کہ ہم وقتی کارروائیوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ مثلاً احتجاج کرتے ہیں، حکومتوں سے اْن پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور ان سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور اس میں کسی شبہے کی گنجائش نہیں کہ یہ اقدامات ہماری ایمانی غیرت کا تقاضا بھی ہیں اور اس فتنے کے وقت کی ضرورت بھی؛ لیکن اسی کے ساتھ یہ بات بھی تسلیم کرنے میں تامل نہیں ہونا چاہیے کہ یہ اقدامات اصل مسئلے کے حل کے لیے قطعی طور پر ناکافی ہیں اور اس کی وجہ سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ ہمارے یہ اقدامات وقتی اور عارضی ہوتے ہیں؛ جب کہ یہ مسئلہ مستقل اور دائمی ہے۔
دراصل یہ حق وباطل کی ایک رزمِ مسلسل ہے جس کا آغاز اسی وقت ہوگیا تھا جب اللہ کی طرف سے حق اپنی آخری اور کامل ومکمل شکل میں اسلام کے نام سے آیا، اس وقت اسلام کی مخالفت کا ایک سلسلہ تو کفار ومشرکین کی جانب سے براہ راست شروع ہوا؛ لیکن ایک دوسرا سلسلہ یہود ونصاریٰ کی جانب سے شروع ہوا جو اس قدر کھلا اور سیدھا مقابلہ نہیں تھا؛ بلکہ آج کل کی زبان میں بڑی حد تک پراکسی وار (غیرراست جنگ) کی حیثیت رکھتا تھا؛ لیکن دنیا کے مزاج کے مطابق یہی زیادہ خطرناک اور دور رس تھا، یہود ونصاریٰ نے ابتدائی دور میں عمومی طور پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف راست جنگ سے گریز کیا؛ مگر اسلام اور پیغمبراسلام کے خلاف پروپیگنڈہ اور مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا، انھوں نے اسی دور سے اسلامی تعلیمات کو نشانہ بنانے، قرآن کے بارے میں شک پیدا کرنے اور نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شخصیت کو مجروح کرنے کی کوشش ایک مہم کے طور پر جاری رکھی، اس مہم نے تاریخ کے ایک موڑ پر تحریکِ استشراق کی شکل اختیار کی اور اب جہاں کہیں بھی اس ذہنیت کے افراد یا تحریکات سامنے آتی ہیں وہ اسی تحریک استشراق کے برگ وبار اور اسی کلی کے جزئیات ہیں۔
اب ظاہر ہے، ایک مسلسل تحریک کا مقابلہ وقتی اقدامات سے تو نہیں ہوسکتا؛ اس لیے ضرورت ہے کہ اس میدان میں منصوبہ بندی کے ساتھ جہدمسلسل کا آغاز کیا جائے۔
اس موقع پر ضروری ہے کہ تحریک استشراق پر ایک سرسری نظر ڈال لی جائے۔ استشراق کے لفظی معنی تو ہیں: مشرق کو جاننے کی طلب یا شرق شناسی۔ اصطلاحی اعتبار سے استشراق کی مختلف تعریفات کی گئی ہیں جن کا آسان خلاصہ یہ ہے کہ اہل مغرب یعنی یورپین لوگوں کا، مشرق کے عقائد، تاریخ، فنون اور تہذیب وثقافت کو جاننا اور اس کا مطالعہ کرنا، جس میں مرکزیت اسلام کے مطالعے کو حاصل ہے۔ اسی سے لفظ مستشرق نکلا ہے، جس کا مفہوم ماہر علوم شرقیہ یا عالم مشرقیات ہے۔ تحریک استشراق کا آغاز کب ہوا؟ یا سب سے پہلے مستشرق کا لفظ کب اور کس کے لیے استعمال ہوا؟ اس میں مؤرخین کی آرا مختلف ہیں؛ لیکن اکثر حضرات کی رائے میں اس تحریک کا موجودہ مفہوم میں آغاز دسویں صدی عیسوی میں ان یورپی راہبوں سے ہوا جنھوں نے مشرقی علوم وفنون کے حصول کے لیے اندلس کا سفر کیا، جن میں جربرٹ آف اورے لیک، پطرس المحترم اور ریمنڈ مارٹن کے نام شامل ہیں؛ لیکن ہمارے لیے اس وقت اس تاریخی بحث سے زیادہ اہم اس تحریک کے مقاصد اور محرکات ہیں۔
تحریک استشراق کے مقاصد ومحرکات مؤرخین نے اپنے اپنے انداز سے بیان کیے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ استشراق کے محرکات وعوامل پانچ ہیں:
1۔ مذہبی: یہ تحریک استشراق کا اصل محرک ہے کہ اسلام کا چہرہ مسخ کیا جائے اور اسلامی تعلیمات کے بارے میں تشکیک پیدا کرکے مسلمانوں کو بھی اسلام سے دور کیا جائے اور عیسائیوں کو بھی اسلام کی طرف آنے سے روکا جائے، اس نوع کے مستشرقین میں اہم نام یہ ہیں: گولڈ زیہر، نولڈیکے، رچرڈبیل، ریجس بلیشے اور ولہاؤزن وغیرہ۔
2۔ استعماری: انیسویں صدی میں عالم اسلام کا اکثر حصہ مغربی استعمار کے ماتحت ہوگیا تھا، اپنے اس غلبے کو برقرار رکھنے کے لیے مشرقی واسلامی علوم وفنون کا استعمال کیا، نیز اس کے لیے قدیم قومیتوں کو ابھارا گیا جیسے مصر میں فرعونیت اور لبنان، فلسطین اور سوریا کے علاقوں میں فینیقیت تاکہ اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کیا جاسکے۔
3۔ تجارتی: اس میں عالم اسلام کے قدرتی وسائل پر قبضے کی کوششیں شامل ہیں۔
4۔ سیاسی: اس مقصد کے لیے عرب ملکوں میں مغربی ملکوں کے سفارت خانوں کے اندر اسلامی ومشرقی علوم وفنون کے ماہرین کو سکریٹری یا کلچرل اتاشی کے طور پر رکھا گیا؛ تاکہ وہ وہاں فتنہ انگیزی کرسکیں۔
5۔ علمی: یہ محرک سب سے کم ہے؛ لیکن بہرحال کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اپنے علم میں اضافے کی خاطر مشرقی واسلامی علوم وفنون کو حاصل کیا۔ اس جگہ یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ مقاصد کے اختلاف کے باوجود مستشرقین کی محنت سے بے شمار قدیم اسلامی علمی نوادر ومخطوطات زیور طبع سے آراستہ ہوئے اور ان پر بے شمار تحقیقی کام ہوئے؛ لیکن مجموعی طور پر اس تحریک کا رْخ اسلام مخالف ہی رہا۔
اس تحریک کے مقاصد میں بنیادی طور پر یہ چیزیں شامل ہیں:
1۔ مسلمانوں کو اپنے نبی، قرآن، شریعت اور فقہ اسلامی کے بارے میں شبہات میں مبتلا کرنا۔
2 ۔ مسلمانوں کا اپنے تہذیب وثقافت سے اعتماد اٹھانا۔
3۔ عقائد و افکار میں کمزوری پیدا کرنا۔
4۔ اخوتِ اسلامی کی روح کو کمزور کرنا۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے درج ذیل نکات پر بنیادی حیثیت سے کام کیاگیا:
1۔رسولؐ کی نبوت کا انکار: اس کے لیے آپ کی شخصیت کو ہر طرح مجروح اور بدنام کرنے کی کوشش منظم انداز میں کی گئی اور آج تک جاری ہے۔
2۔ قرآن کریم کے کتاب الٰہی ہونے کا انکار: اس پر بھی تفصیل سے محنت کی گئی؛ تاکہ کسی طرح قرآن کے کتاب الٰہی ہونے کو مشکوک بنایا جاسکے۔
3۔ اسلام کے دین سماوی ہونے کا انکار: اس کے لیے یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی کہ اسلام یہودیت وعیسائیت سے مستفاد ہے۔
ان تین مقاصد کے لیے وحی الٰہی کا بھی انکار کیا گیا یعنی یہ کہ آسمان سے کسی فرشتے کا وحی لے کر آنا، ایک وہم ہے جو بعض بیماریوں کا نتیجہ ہے۔ اس پر مستقل کتابیں لکھی گئیں۔
4۔حدیث نبوی کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرنا؛ تاکہ اس پر سے مسلمانوں کا اعتماد اٹھ جائے۔
یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ اکثر مستشرقین نے یہ کام ایک منصوبے کے تحت کیے اور بعض اپنی ناقص معلومات کی بنا پر ان مقاصد کے لیے استعمال ہوئے۔
یہ تحریک استشراق پر ایک سرسری نظر ہے جس سے اس فتنے کی سنگینی کا ہلکا سا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، ایک نہایت اہم بات یہ کہ ان مستشرقین کا کام عموماً چوں کہ مغربی زبانوں میں ہے؛ اس لیے ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لیے بھی اسلام کے بارے میں معلومات کا ذریعہ اکثر وبیشتر مستشرقین ہی کی کتابیں ہیں؛ اس لیے ان کی معلومات بھی اسلام کے بارے میں ناقص اور غلط فہمیوں سے پْر ہیں، جس کے نتیجے میں اس طبقے کے زیادہ کج فکر لوگ سلمان رشدی یا طارق فتح بن جاتے ہیں اور عام لوگ جدت پسند ہوجاتے ہیں۔
اب اندازہ لگایا جائے کہ اس درجہ منظم تحریک جس کی پشت پر ہر دور میں حکومتوں کی طاقت اور وسائل رہے ہیں، اس کا مقابلہ کس درجہ منظم انداز میں کرنے کی ضرورت ہے۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ اس موضوع پر کوئی کام نہ ہوا، حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی کے نصف اخیر میں استشراق اور مستشرقین پر خاصا کام ہوا ہے، جس کا اندازہ کرنے کے لیے عربی میں شیخ مصطفی سباعی کی ’’الاستشراق والمستشرقون‘‘، دکتور عبدالقہار داؤد عبداللہ العانی کی ’’الاستشراق والدراسات الاسلامیہ‘‘ اور اردو میں ’’اسلام اور مستشرقین‘‘ (مرتبہ سید صباح الدین عبدالرحمن مرحوم ۷/جلدیں) اور ’’اسلام اور مستشرقین‘‘ مرتبہ ڈاکٹر حافظ محمد زبیر کا مطالعہ مفید ہوگا۔
اسی کے ساتھ وقتاً فوقتاً اٹھنے والے ان فتنہ گروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی سے بھی گریز نہ کیا جائے؛ بلکہ اس پر روک لگانے کے لیے اپنے اپنے ملکوں میں قانون سازی کی بھی کوشش کی جائے۔

حصہ