افکار سید ابوالا علی مودودیؒ

33

خلفائے راشدین کے نزدیک حکومت کا تصوّر

حضرت ابوبکرؓ کی پہلی تقریر جو انہوں نے مسجدِ نبوی میں عام بیعت کے بعد کی، اْس میں وہ کہتے ہیں: میں آپ لوگوں پر حکمراں بنایا گیا ہوں حالانکہ میں آپ کا سب سے بہتر آدمی نہیں ہوں۔ اْس ذات کی قَسَم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے یہ منصب اپنی رغبت اور خواہش سے نہیں لیا ہے نہ میں یہ چاہتا تھا کہ کسی دوسرے کے بجائے یہ مجھے ملے۔ نہ میں نے کبھی خدا سے اِس کے لیے دْعا کی۔ نہ میرے دل میں کبھی اِس کی حِرص پیدا ہوئی۔ میں نے تو اسے بادلِ ناخواستہ اِس لیے قبول کیا ہے مجھے مسلمانوں میں فتنۂ اختلاف اور عرب میں فتنۂ اِرتداد برپا ہوجانے کا اندیشہ تھا۔ میرے لیے اِس منصب میں کوئی راحت نہیں ہے بلکہ یہ ایک بارِ عظیم ہے جو مجھ پر ڈال دیا گیا ہے، جس کے اْٹھانے کی طاقت مجھ میں نہیں ہے، اِلّا یہ کہ اللہ ہی میری مدد فرمائے۔ میں یہ چاہتا تھا کہ میرے بجائے کوئی اور یہ بار اْٹھا لے۔ اب بھی اگر آپ لوگ چاہیں تو اصحابِ رسول اللہ میں سے کسی اور کو اِس کام کے لیے چْن لیں، میری بیعت آپ کے راستے میں حائل نہ ہوگی۔ آپ لوگ اگر مجھے رسول اللہ کے معیار پر جانچیں گے اور مجھ سے وہ توقعات رکھیں گے جو حضورؐ سے آپ رکھتے تھے تو میں اس کی طاقت نہیں رکھتا، کیونکہ وہ شیطان سے محفوظ تھے اور اْن پر آسمان سے وحی نازل ہوتی تھی۔ اگر میں ٹھیک کام کروں تو میری مدد کیجیے، اگر غلط کام کروں تو مجھے سیدھا کردیجیے۔ سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔ تمھارے درمیان جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک کہ میں اْس کا حق اْسے دِلواؤں، اگر خدا چاہے۔ اور تم میں سے جو طاقتور ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اْس سے حق وصول کرلوں اگر خدا چاہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی قوم اللہ کی راہ میں جدوجہد چھوڑ دے اور اللہ اْس پر ذلّت مسلّط نہ کر دے اور کسی قوم میں فواحش پھیلیں اور اللہ اْس کو عام مصیبت میں مبتلا نہ کردے۔ میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور رسول کا مطیع رہوں اور اگر میں اللہ اور رسول کی نافرمانی کروں تو میری کوئی اطاعت تم پر نہیں ہے۔ میں پیروی کرنے والا ہوں، نئی راہ نکالنے والا نہیں ہوں۔ (الطبری، ابنِ ہشام ، السیرۃ النّبویّہ )
(خلافت و ملوکیت)
*۔۔۔*۔۔۔*
انتخابی خلافت۔۔۔ سیدنا عثمان وعلیؓ
حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جب کچھ لوگوں نے حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانا چاہا تو انہوں نے کہا ’’تمہیں ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ یہ تو اہلِ شْوریٰ اور اہلِ بدر کے کرنے کا کام ہے۔ جس کو اہلِ شوریٰ اور اہلِ بدر خلیفہ بنانا چاہیں گے وہی خلیفہ بنے گا۔ پس ہم جمع ہونگے اور اِس معاملے پر غور کریں گے۔‘‘ (ابن قْتَیبہ ، الامامۃ والسیاسۃ)
طبری کی روایت میں حضرت علیؓ کے الفاظ یہ ہیں کہ میری بیعت خفیہ طریقے سے نہیں ہو سکتی۔ یہ مسلمانوں کی مرضی سے ہی ہونی چاہیے۔ (الطبری)
حضرت علیؓ کی وفات کے وقت لوگوں نے پوچھا کہ ہم آپ کے صاحبزادے حضرت حسنؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں؟ آپ نے جواب دیا: میں نہ تم کو اِس کا حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں، تم لوگ خود اچھی طرح دیکھ سکتے ہو۔ (الطبری، المسعودی)
ایک شخص نے عین اْس وقت جب کہ آپ اپنے صاحبزادوں کو آخری وصیّت کر رہے تھے، عرض کیا کہ امیرالمومنین، آپ اپنا ولی عہد کیوں نہیں مقرر کر دیتے؟ جواب میں فرمایا: میں مسلمانوں کو اْسی حالت میں چھوڑوں گا جس میں رسول اللہ نے چھوڑا تھا۔ (ابن کثیر، المسعودی)
اِن واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خلافت کے متعلق خلفائے راشدین اور اصحابِ رسولؐ کا متفق علیہ تصوّر یہ تھا کہ یہ ایک انتخابی منصب ہے جسے مسلمانوں کے باہمی مشورے اور اْن کی آزادانہ رضامندی سے ہی قائم ہونا چاہیے۔ مورْوثی یا طاقت سے برسرِ اقتدار آنے والی اَمارت، اْن کی رائے میں خلافت نہیں بلکہ بادشاہی تھی۔ صحابہ کرامؓ خلافت اور بادشاہی کے فرق کا جو صاف اور واضح تصوّر رکھتے تھے اْسے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ اِن الفاظ میں بیان کرتے ہیں: اَمارت (یعنی خلافت) وہ ہے جسے قائم کرنے میں مشورہ کیا گیا ہو۔ اور بادشاہی وہ ہے جس پر تلوار کے زور سے غلبہ حاصل کیا گیا ہو۔ (طبقات ابنِ سعد)
(خلافت و ملوکیت)

حصہ