چھینک کے آداب

35

مولانا عبداللطیف قاسمی

جب اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو پیدا فرمایا اورآپ کے اندر روح پھونکی، تو آدمؑ کو فوراً چھینک آئی اور سب سے پہلے آدمؑ نے اللہ کی توفیق سے چھینک پر ’’الحمدللہ‘‘ فرمایا۔ چھینک آنا اچھی بات ہے، چھینک انسان کی صحت کی علامت ہے، نزلے کے وقت نیز عام اوقات میں بھی جب چھینک آتی ہے تو انسان کا دماغ، کان اور ناک کے راستے صاف ہوتے ہیں، آنکھوں میں ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے، سر کا بوجھ کم ہوجاتا ہے، جب نومولود بچہ چھینکتا ہے تو والدین اور معالجین چھینک کو بچے کی تندرستی کی علامت سمجھ کر خوش ہوجاتے ہیں، غرض کہ چھینک انسان کی نشاط وچستی کا سبب ہے، جس سے انسان کو اعمال و طاعات نیز دنیوی کاموں میں نشاط پیدا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتے ہیں۔ (بخاری) (کیونکہ اعمال میں چستی ونشاط کا سبب ہوتی ہے)۔
دینِ اسلام کی خوبی اورکمال یہ ہے کہ اسلام انسان کو کامل واکمل بنانے کے لیے ہر چھوٹے اور بڑے ادب سے اس کو آراستہ ومزین کرتا ہے؛ چنانچہ اسلام نے انسانی ضروریات میں سے ہر ضرورت سے متعلق بہترین آداب وتعلیمات کو پیش کیا ہے۔ من جملہ ان کے چھینک ہے، جسے ہم معمولی چیز سمجھتے ہیں، اس کے آداب کو بھی بیان کیا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم چھینک کے آداب کو معلوم کریں اور ان پرعمل کریں۔
چونکہ چھینک اللہ کی نعمتِ صحت وتندرستی کی علامت، چستی اور نشاط کا سبب ہے؛ اس لیے چھینک آنے پر الحمدللہ کے ذریعے اللہ کا شکر ادا کرنے کو مستقل عبادت قرار دیا گیا ہے۔
رسولؐ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی چھینکے تو الحمدللہ کہے۔ (بخاری)
سب سے پہلے انسان ہمارے دادا آدم علیہ السلام کو جب چھینک آئی تو اللہ نے آپ کی زبان سے الحمدللہ کو جاری فرما کر ساری انسانیت کے لیے ایک ادب قراردیا، شریعت اسلامیہ نے بھی اس کو ادب؛ بلکہ مستقل سنت قرار دیا ہے۔
چھینک کے آداب
۱۔ کسی شخص کو چھینک آئے تو الحمدللہ کہے۔ (بخاری)
2۔جب چھینکنے والا اپنی چھینک پر الحمدللہ کہے، تو سننے والا اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہے۔ (بخاری)
3۔یرحمک اللہ کے جواب میں چھینکنے والا یَھدِیکْمْ اللہَْ ویْصلِحْ بَالَکْم، یا یَغفِرْاللہْ لَنَا وَلَکْم کہے۔ (بخاری)
4۔چھینکنے والا چھینک کے وقت اپنے چہرے کو کپڑے یا کم ازکم ہاتھ سے ڈھانک لے (تاکہ چھینک کے وقت ناک اور منہ سے نکلنے والی ریزش سے کسی کو تکلیف نہ ہو، نیز کھانے پینے کی چیزوں میں ناک اور منہ کی رطوبات نہ گریں)۔
5۔چھینک کے وقت اپنی آواز کو پست رکھے۔
آپ علیہ السلام چھینک کے وقت اپنے چہرے کو کپڑے یا ہاتھ سے ڈھانک لیتے تھے اور آوازکو پست کرلیا کرتے تھے۔ (ابوداؤد)
6 ۔ عورتیں چھینک کر الحمدللہ کہیں تو محرم مردوں کے لیے یرحمک اللہ کہنا ضروری ہے، نیز محارم مرد کی چھینک کا جواب دینا بھی ضروری ہے۔ (ہندیہ)
چھینک کا جواب
مسلمان بھائی چھینک کر الحمدللہ کہے تو اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا یہ اس کا شرعی حق ہے۔
مندرجہ ذیل مواقع میں چھینک کا جواب ضروری نہیں:
1۔آدمی چھینک کر الحمدللہ نہ کہے۔ (بخاری)
آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمدللہ کہے تو تم جواب دو اگر وہ الحمدللہ نہ کہے تو اس کا جواب مت دو، لہذا جو شخص اپنی چھینک پر الحمدللہ نہ کہے وہ جواب کا مستحق نہیں ہے۔
2۔جب آدمی تین مرتبہ سے زیادہ چھینکے، تو جواب دینا ضرروری نہیں ہے، چاہے تو جواب دے؛ چاہے تو جواب نہ دے۔ (ابوداؤد)
3۔غیر مسلم کی چھینک کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا جائزنہیں ہے۔
4۔جمعہ وعیدین کے خطبات کے وقت میں جواب نہ دے۔ (عمدۃ القاری)
5۔اگرکوئی شخص بیت الخلا میں چھینک کر الحمدللہ کہے تو اس کا جواب بھی لاز م نہیں۔ (عمدۃ القاری)
مسئلہ: اگرکسی شخص کو نماز میں چھینک آگئی اور اس نے بے اختیار الحمدللہ کہہ دیا تو نماز فاسد نہیں ہوگی، جو نمازی چھینکنے والے کے جواب یرحمک اللہ کہے، اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ (ھدایہ)

حصہ