ایک حساس ماں کا اولاد کے نام خط

45

اولاد کی ازدواجی زندگی کی شروعات سے پہلے ان کی ذہنی طور پر تیاری کے لیے ایک رہنما تحریر

( فائزہ قمر ( نیویارک

شادی صرف ایک دن کی تقریب کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک گھر بنانے اور ایک نسل کی آبیاری کا نام ہے۔ گھر سب سے پہلی تربیت گاہ ہے جہاں دین اور اخلاق سکھایا جاتا ہے۔ گھر میں اسلامی اقدار کا پاس و لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ اس ماحول کو شوہر اور بیوی مل کر بناتے ہیں۔ مرد اور عورت دونوں کا دائرہ کار الگ ہونے کے باوجود کچھ چیزیں مشترک بھی ہیں ۔ اس لیے دونوں کی ضروریات کا لحاظ کرتے ہوئے میں نے اپنے بیٹے اور بیٹی کی شادی سے پہلے شادی کے بعد کی زندگی کے لیے ایک لائحہ عمل سوچا اور اس کو لکھ لیا تا کہ دونوں کو سکھانے کے ساتھ اس پر خود بھی عمل کروں کیوں کہ قانون بنا کر قانون نافذ کرنے والے غائب ہوجائیں تو کبھی بھی قانون کی حکمرانی نہیں ہوسکتی۔ اس لیے سب سے پہلے اپنے آپ کو اور اپنے شوہر کو بھی میں نے اس کام میں شریک کرلیا۔
(1) سب سے پہلے یہ بات طے کی کہ گھر کا کوئی فرد بھی گھر نہیں چھوڑے گا، جب تک قرآن کا کم از کم ایک رکوع ترجمے سے نہ پڑھ لے تا کہ قرآن سے مضبوط تعلق ہو۔
(2) نماز کی پابندی سفر و حضر میں ہر جگہ لازمی ہوگی کیوں کہ مومن اور کافر میں فرق صرف نماز کا ہے۔
(3) ازدواجی زندگی میں شوہر اور بیوی دونوں کو نہ صرف اپنے والدین کا بلکہ دوسرے کے والدین کا بھی احترام کرنا ہوگا۔ ماں باپ کی نافرمانی کرنا یا ان کا دل توڑنے کا خیال تک دل میں نہیں آنا چاہیے۔ ان سے بدتمیزی سے بات کرنا اپنی ڈکشنری سے نکال دو۔ ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ اللہ جس گناہ کی سزا دینا چاہتا ہے، قیامت کے دن کے لیے ٹال دیتا ہے لیکن ماں باپ کی نافرمانی کی سزا اسی زندگی میں موت سے پہلے ہی دے دیتا ہے۔ (رواہ الحاکم) نرمی ہر چیز کو حسین بنادیتی ہے اور نہ جانے یہ بوڑھے شجر کب تک ہیں۔



(4) اپنے گھر والوں کی توقیر خود بڑھانا ہے۔ بڑوں کی عزت اور چھوٹوں کے ساتھ رحمت کو اپنے اخلاق کا حصہ بنائو۔ اپنے بزرگوں سے اور آپس میں بھی کوئی اونچی آواز سے بولنے کا مجاز نہیں ہے۔ زبان کبھی بھی خراب استعمال نہ کی جائے۔ گالی گلوچ تو دور کی بات ہے، لہجہ بھی خراب نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں کہ قرآن کہتا ہے کہ سب سے بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے۔
(5) سچ، دیانت اور امانت… یہ زندگی کے ہر لمحے پر حاوی ہونا چاہیے۔ ایک لمحے کے لیے بھی اس سے غفلت نہیں برتنا۔
(6) شوہر اور بیوی کا رشتہ محبت اور الفت کا ہے چناں چہ بحث و تکرار اور جھگڑے فساد سے بچنا ہے۔ عفو ودرگزر اور صلح جوئی کو عادت بنالو تا کہ ازدواجی زندگی میں ایک دوسرے کو معاف کرنے میں آسانی ہو۔ پیاری بیٹی ڈھل جانے میں بڑا سکون ہوتا ہے۔ انا پرستی سے بہت سے نقصانات ہوتے ہیں۔ بیٹے یہ بات تمہارے لیے کافی ہے۔ گھر کو بگاڑ سے بچانے کے لیے۔ معافی مانگنے سے کوئی چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ اسی میں بڑائی ہے اور معاف کرنا اللہ کی صفت ہے۔ جھگڑے کا حل نکالے بغیر کبھی نہ سونا۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ایک دوسرے کے لیے وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا جائے۔ بعض اوقات حق پر ہوتے ہوئے بھی اپنے حق سے دستبرداری سے جھگڑے ختم ہوجاتے ہیں اور جنت کے وسط میں گھر بھی حاصل کرسکتے ہیں کیوں کہ پیارے نبیؐ کا فرمان ہے ’’میں جنت کے وسط میں ایک گھر کا ضامن ہوں، (اس شخص کے لیے) جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے‘‘۔ (سنن ابی دائود 1396) لہٰذا لڑائی کو کبھی طول نہ دینا۔ لازم ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی عزت کریں کیوں کہ وہ ایک دوسرے کے شریک حیات ہیں۔
(7) اچھی بیوی وہ ہے کہ شوہر اس کو دیکھے تو خوش ہوجائے۔ کوئی بات کہے تو مان لے۔ اپنے نفس اور شوہر کے مال میں جس تصرف کو وہ ناپسند کرتا ہے، اس کا ارتکاب کرکے اس کی مخالفت نہ کرے۔ (نسائی)
(8) اچھا شوہر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو، بیوی کی عزت کرے، اس کو تحفظ دے۔ خبردار! عورت کا مقام گھر ہے، وہ اپنا گھر چھوڑ کر آرہی ہے۔ یہ تنگی ترشی بھی برداشت کرلیتی ہے، بدلے میں صرف عزت اور تحفظ چاہتی ہے۔ تم قوام ہو، تم کو گھر چلانا اور بسانا بھی ہے۔ عورت کو محبت اور عزت دو تا کہ وہ آنے والی نسل کی تربیت میں تمہاری معاون و مددگار ہو۔
(9) حجاب و پردے کا لحاظ دونوں کو رکھنا ہے۔ بیوی کی سہیلیاں بیوی کی ہیں، تمہاری نہیں، شوہر کے دوست، شوہر کے ہیں، تمہارے نہیں لہٰذا روز اول سے حجاب کی حدودمقرر کی جائیں۔ وہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں۔ شوہر ہر گز ہرگز بیوی کو نامحرموں کے سامنے آنے پر مجبور نہ کرے اور بیوی کو بھی بتادے بلکہ جتا دے کہ لباس ساتر ہو اور غیر مردوں کے ساتھ بیٹھ کر ہنسی مذاق کرنے سے گریز کرے۔ کیوں کہ اس میں ذرا سی ڈھیل گھر میں بہت سے فتنے پیدا کردے گی۔



(10) شادی ایسا بندھن ہے جس میں مرد اور عورت دونوں اپنی بہت سی خواہشات کی قربانیاں دے کر گھر بساتے ہیں مگر اب معاشرے کا چلن بدل گیا ہے کہ جو خواہشات گھر میں پوری نہیں ہوئیں، اب وہ شوہر کے گھر پوری ہونی چاہییں۔ یہ غلط خیال دل سے نکال دو۔ اپنی چادر دیکھ کر پیر پھیلانا سیکھو۔ سیدنا عیسیٰؑ کے بقول اللہ کی بندگی اور دولت کی بندگی ایک ساتھ نہیں ہوسکتی‘‘۔ اسراف کی وجہ سے لوگوں کی زندگی میں قناعت ختم ہوتی جارہی ہے۔ قناعت کرنے والے کبھی مصیبت کا شکار نہیں ہوتے۔ دونوں اپنی خواہشات کی قربانی دینا سیکھیں۔ اس کے بغیر گھر نہیں سنورتے۔
(11) پیارے بچو! اپنے رہن سہن، آداب، رسوم و رواج، لباس حلیہ اپنی پسند کا نہیں، اپنے ربّ کی پسند کا بنالو۔ پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ خود بھی پاکیزہ اور صاف رہو، گھر کو بھی رکھو۔ ہر چیز کو جہاں سے نکالو، اسی جگہ پر رکھو۔ کمرے سے نکلنے سے قبل اپنا بستر سلیقے سے بنائے بغیر کمرے سے نہ نکلو۔ جھوٹے برتنوں کا سنک میں ڈھیر نہ لگائو۔ شوہر اور بیوی دونوں خیال رکھیں گے تو بچے خود اس اچھی عادت کو اختیار کریں گے۔ یہ کام لڑکے اور لڑکی دونوں کو کرنا ہے۔ گھر کے کسی کام میں مرد اور عورت دونوں کو عار نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں ایک دوسرے کے معاون و مددگار بنیں۔
(12) ناجائز کمائی رفتہ رفتہ آدمی کے دل سے حیا اور ضمیر کو ختم کردیتی ہے۔ یہ خیال ہر وقت رہے کہ حرام سے پلنے والا گوشت تو آگ کے لیے بنا ہے۔ مال ایک امانت ہے۔ اس کو دیانت سے خرچ کرو۔ حلال ذرائع سے حاصل کرو اور جائز کاموں میں خرچ کرو۔ کیوں کہ جواب دینا ہے کہ کہاں سے کمایا کہاں خرچ کیا۔ ہمیشہ پیسوں کے چار حصے کرنا۔ ایک حصہ اللہ کی راہ میں، ایک اپنی ضرورت پر، ایک حصہ پس انداز کرنا (تاکہ بوقت ضرورت کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے) اور ایک حصہ اپنی ماں کے ہاتھ پر رکھ دینا کیوں کہ اس کی محنتوں کی وجہ سے آج تم کمانے کے لائق ہوئے ہو۔ بیٹی تم بھی اپنے شوہر کے اس کام میں اس کا ہاتھ بٹانا۔ حرص و بخل کو پاس نہ بھٹکنے دینا۔ اللہ نے سورۃ النساء میں کنجوسی کرنے والوں کو عذاب کی وعید سنائی ہے۔
(13) آج کل باہر کھانے کا بڑا چلن ہوگیا ہے۔ جب پوچھو ’’کہاں جارہے ہیں؟‘‘ جواب ملتا ہے ’’Dining out‘‘۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ باہر سے کھانا کھانے کے کتنے نقصانات ہیں، مل کر اطمینان سے کھانا کھانے کی برکت سے محروم ہوجاتے ہیں، بجٹ خراب ہوجاتا ہے، صحت دائو پر لگ جاتی ہے۔ دن بھر دفتری مصروفیات کی وجہ سے ٹائم نہیں ہوتا تو کم از کم رات کا کھانا تو سب کو مل کر کھانے کی عادت ڈالنا چاہیے۔ اس سے گھر والوں میں الفت اور ایثار کی خصوصیات پیدا ہوتی ہیں۔



(14) گھر آئے مہمان کا استقبال خوش دلی سے کرو۔ ایسے میں کمرے میں بند ہو کر نہ بیٹھو کہ یہ میرے والدین یا میری ساس سسر کے مہمان ہیں۔ فوراً کمرے سے نکلو، سلام کرو۔ ان کے آنے سے پہلے اور جانے تک ان کی خدمت کے لیے حاضر رہو۔ کیوں کہ مہمان کی عزت اللہ کی عزت ہے۔ کبھی شکایت نہ ملے کہ کوئی مہمان آیا اور تم دونوں نے اس کی توقیر نہ کی ہو۔ رشتے داروں کو ٹائم دو (صلہ رحمی)۔ کیوں کہ رحم (رشتے داری) رحمن کی (رحمت کی) ایک شاخ ہے، جو اس کو کاٹ دے گا وہ رحمن سے کٹ جائے گا۔ کیا اتنا بڑا نقصان برداشت کرسکتے ہو؟۔
(15) آج کل جو مسائل کھڑے ہورہے ہیں، مثلاً کزن سے شادی کے، کفو کے ٹوٹنے کے، دین کو اہمیت دیے بغیر غیر مسلموں سے شادیوں کا چلن، پہلے نہیں تھے۔ رشتے آسانی سے ہوجاتے تھے۔ آج مغرب سے متاثر ہو کر اپنی تہذیب و تمدن کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔ ہمیں نفسانی خواہشات سے بالاتر ہو کر اپنی آنے والی نسلوں کے بارے میں سوچنا ہے کہ ہم ان کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ دین سے بے بہرہ یا دین کے لیے جان قربان کرنے والا۔
(16) ایک سب سے اہم بات… آنکھ، کان اور دل سے سب کی جواب دہی ہوگی لہٰذا ان کے اوپر پورا قابورکھو۔ فحش کتب، فلموں اور گفتگو سے اجتناب برتنا ہوگا۔ موسیقی کے بجائے تلاوت سنو، اس سے قرآن سے تعلق بڑھے گا۔ کسی کی عیب جوئی، غیبت، چغلی… چاہے کسی میں وہ برائی موجود ہو تب بھی اپنے نامہ اعمال میں برائیاں نہ جمع کرنا۔ ان برائیوں سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو، انہی جیسے ہوجائو گے۔ بُروں کی صحبت سے بچو۔ کیوں کہ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے۔
گھر بنانا بہت مشکل کام ہے مگر بگاڑنا ایک لمحے کا کام ہے۔ مشکلات اور مسائل آتے ہیں، ان کا ہمت سے مقابلہ کرنا چاہیے۔ اپنے ربّ سے رہنمائی کی دُعا کرتے رہو۔ اپنے رب کی کتاب سے اور اس کے نبیؐکے اسوہ حسنہ سے مدد لو۔ کبھی ناکام نہ رہو گے۔ زندگی میں آرام و سکون پاجائو گے۔ سب سے اچھا رنگ، اللہ کا رنگ ہے۔ اپنے آپ کو اس میں رنگ ڈالو۔ ان نصیحتوں پر چلتے ہوئے بہت سی مشکلات پیش آئیں گی۔ تمہاری مخالفت کی جائے گی۔ ممکن ہے کہ تم خود کو بھری دنیا میں تنہا محسوس کرنے لگو۔ لیکن میرے بچو! حق پر چلنے والوں پر ایسا وقت آتا ہے کہ وہ تنہا رہ جاتے ہیں۔ ان پر مایوسی کا حملہ ہوتا ہے۔ تم کبھی مایوس مت ہونا۔ مایوس ہونا کفار کا کام ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ کسی مسئلے کا حل نہ ہو۔ بس صبر کا دامن نہیں چھوٹنا چاہیے۔ صبر نصیب نہیں ہوگا مگر بڑے نصیب والو کو۔ تم اپنے دین کی رسی تھام لو، کبھی ناکام نہیں رہو گے۔ یہ میرے تجربات کا نچوڑ ہے۔ مجھے ان اصولوں کو اپنا کر بہت فائدہ ہوا۔ امید ہے کہ تم اپنی ماں کو مایوس نہیں کرو گے۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔

حصہ