تبدیلی ضروری ہے

30

سمیرا ناز

گھر میں استعمال ہونے والی اشیا کی طرف توجہ اسی وقت دی جاتی ہے جب وہ قابل استعمال نہیں رہتیں۔ لیکن یہ رویہ درست نہیں ہے اور صحت کے مسائل کا سبب بنتا ہے، ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کو ایک مقررہ وقت کے بعد ضرور تبدیل کردینا چاہیے کیوں کہ ان کے مسلسل استعمال سے مضر اثرات ہوسکتے ہیں۔
کنگھی اور کھنگے:۔ گھر میں انہیں خرید کر یاد نہیں رکھا جاتا کہ کب خریدا گیا، لیکن سال میں ایک دفعہ انہیں ضرور تبدیل کرنا چاہیے۔ ایک ماہ میں انہیں دھونا اور جراثیم سے پاک کرنا بھی لازم ہے، ورنہ یہ مختلف قسم کے انفیکشن کا باعث بن کر ضرر رساں ہوجاتے ہیں۔
ٹوتھ برش:۔ ان کے ٹوٹنے کا انتظار نہ کریں بلکہ ہر 3 سے 6 ماہ کے بعد انہیں ضرور تبدیل کرلیں، ورنہ جراثیم ان میں اپنے گھر بنالیتے ہیں۔
تکیے:۔ تکیے بھی تبدیلی چاہتے ہیں، ہر دو سال میں اپنے تکیے تبدیل کریں، اس بات کا انتظار نہ کریں کہ تکیے کی شکل اور حالت زبان حال سے اپنے بدلنے کے بارے میں کہنے لگے، سر اور کندھوں کے آرام اور صحت کے لیے تکیے ہر دو سال میں بدل لینے چاہییں۔



دیگچیاں:۔ عموماً گھروں میں دیگچیاں خرید کر انہیں عمر بھر استعمال کرنے کا خیال ہوتا ہے۔ آج کل سائنسی تحقیقی بتاتی ہے کہ دیگچیاں تہہ کے رنگ اور پالش خراب ہونے کے بعد بدل لینی چاہیے۔ اسی سوچ کے تحت پہلے زمانے میں دیگچیوں پر قلعی کرائی جاتی تھی، لیکن اب قلعی کا رواج نہیں ہے، خاص طور سے سلور کی دیگچیاں ایک وقت کے بعد کھانوں میں کیمیکل تبدیلی کا باعث بن جاتی ہیں، سلور کی دیگچیاں اگر جگہ جگہ سے مستقل سیاہ ہونے لگیں تو انہیں ضرور بدل لینا چاہیے۔
جوتے:۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ گھر میں پہننے والے جوتے اور چپلیں سالوں سال تبدیل نہیں کی جاتیں، یہ ٹھیک نہیں ہے، اگر انہیں تبدیل نہیں کریں گے تو کم از کم ایک ماہ میں ایک دفعہ اچھی طرح دھولیں۔ ماہرین کے مطابق ہر 6 ماہ بعد جوتے ضرور بدلنے چاہییںکیوں کہ یہ پائوں میں انفیکشن کا باعث ہوتے ہیں۔
کچن میں استعمال ہونے والی صافیاں اور اسپنچ:۔ صحت کا تقاضا ہے کہ باورچی خانے میں برتن دھونے والا کپڑا یا اسپنچ ہر ماہ بدل لیں، صافیاں بھی ہفتہ وار دھلائی میں ڈالیں کیوں کہ یہ کھانے پینے کی چیزوں میں جراثیم پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔

حصہ