پولیو چند گھنٹوں میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے‘ ماہرین

46

مہلک مرض بہت تیزی سے ایک سے دوسرے میں منتقل ہوکر متاثرہ شخص کو زندگی بھر کے لیے معذور بنا دیتا ہے‘ پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہ پینے والے افراد میں متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے

’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ پر عمل کرکے بیماری سے بچا جا سکتا ہے‘ وائرس سے متاثر 200 بچوں میں سے صرف ایک معذور ہو سکتا ہے‘ ڈاکٹر ذکیہ خالد، ڈاکٹر محمد زبیر اور ڈاکٹر احمد علی شیخ پر مشتمل پینل سے خصوصی گفتگو

انٹر ویو : جہانگیر بدر

قارئین! ہم نے پو لیو مائلیٹس کے حوالے سے 3 مستند ڈاکٹرز سے ایک مشترکہ انٹرویو لیا۔ ان کا تعلق تیزی سے پھیلنے اور ایک سے دوسرے کو لگنے والی بیماروں پر تحقیق، علاج معالجے اور ان بیماریوں کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے چلائی جانے والی مہمات کی نگرانی سے ہے۔ ان ڈاکٹر ز کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے ۔
انٹرویو میں پینل ہیڈ ڈاکٹر ذکیہ خالد نے 1993ء میں سندھ میڈیکل کالج کراچی سے ایم بی بی ایس کیا۔ 1999ء میں سی ایس ایس کمیشن کا امتحان پاس کرکے حکومت سندھ میں صحت کے شعبے میں اہم ذمے داری سنبھالی۔ ان کی خدمات کا دائرہ بیماریوں کے بچاؤ کے شعبے سے ہے۔ طویل عرصے سے اسی شعبے میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ڈاکٹر محمد زبیر اپنے تعلیمی کیرئیر میں پوزیشن ہولڈر رہے۔ ڈی جے کالج کراچی سے انٹر اور سندھ میڈیکل کالج کراچی سے ایم بی بی ایس کیا۔ 1991ء میں کمیشن کا امتحان پاس کرکے سندھ حکومت میں سروس جوائن کی۔ اسسٹنٹ پروفیسر بھی رہے۔ گزشتہ 2 سال سے ڈسٹرکٹ سروسز ڈپارٹمنٹ سے وابستہ ہیں۔
ڈاکٹر احمد علی شیخ نے 1992ء میں چانڈکا میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ 1993ء میں کمیشن کا امتحان پاس کرکے پنو عاقل کے تعلقہ اسپتال میں ذمے داری سنبھالی۔ ان دنوں سینئر پریوینٹو میڈیکل آفیسر کی اہم ذمے داری بھی سنبھالے ہوئے ہیں ۔ اس کے ساتھ محکمہ صحت سندھ میں سینئر سرویلنس میڈیکل آفیسر اور ڈسٹرکٹ ویسٹ کراچی میں پولیو ٹریننگ پروگرام کے ماسٹر ٹرینر بھی ہیقارئین کرام! پولیو کا عالمی دن 24 اکتوبر کوہر سال منایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ جسارت نے انسداد پولیو کے موضوع پر خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا ہے ۔ پاکستانیوں کے لیے یہ بیمار ی ایک چیلنج کا درجہ رکھتی ہے۔ پوری دنیا میں اس موذی مرض کا جڑ سے خاتمہ کیا جا چکا ہے لیکن بدقسمتی سے دنیا میں صرف 2 ممالک ہیں، اب ان میں نائیجیریا بھی شامل ہوگیا ہے جہاں آج بھی پولیو کے مریض سامنے آرہے ہیں۔ ان 2 ممالک میں پہلے نمبر پر ہمارا جان سے زیادہ پیارا وطن پاکستان اور دوسرے نمبر پر ہمارا پڑوسی ملک افغانستان ہے۔ پاکستان میں اس بیماری کو اب تک جڑ سے کیوں ختم نہیں کیا جا سکا ۔یہ ایک علاحدہ بحث ہے۔ ہم نے آپ کی آگاہی کے لیے اس موذی مرض کے 3 مستند معالجین ڈاکٹر ذکیہ خالد، ڈاکٹر محمد زبیر اور ڈاکٹر احمد علی شیخ کے سامنے پولیو اور انسداد پولیو پر نہایت اہم سوالات اٹھا ئے۔ اس حوالے سے ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر ہے۔
ہمارا پہلاسوال پینل ہیڈ ڈاکٹر ذکیہ خالد سے ہے ۔



سوال: پولیو کا مرض آخر ہے کیا جو مریض کو ساری زندگی کے لیے اپاہج بنادیتا ہے اور بعض حالتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے؟
ڈاکٹر ذکیہ خالد (پینل ہیڈ) : یہ موذی بیماری پولیو مائلیٹس کہلاتی ہے۔ یہ ایک سے دوسرے میں تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے جو کہ مخصوص وائرس سے پھیلتا ہے ۔اعصابی نظام اور جسم کے پٹھوں پر بری طرح اثر اندازہوتا ہے۔ بعض حالتوں میں یہ مرض چند گھنٹوں کے اندر مریض کی جان لے لیتا ہے ۔
سوال۔ جیسا کہ آپ نے بتایا کہ یہ تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے، یہ ایک شخص سے دوسرے میں کس طرح منتقل ہوتا (پھیلتا) ہے؟
ڈاکٹر ذکیہ خالد: پولیو وائرس دراصل آنتوں میں پرورش پاتا ہے۔ پاخانے سے خارج ہوتا ہے۔ فضلے میں پائے جانے والے پولیو وائرس سے آلودہ ہوکر غذا منہ کے ذریعے دوسرے فرد میں داخل ہوکر اسے بھی پولیو کامریض بنادیتی ہے۔ ایک مرتبہ مرض ہوجانے کے بعد اس کا کوئی علاج نہیں ہے، جس کے باعث پولیو کا مریض باقی زندگی کے لیے اپاہج ہوجاتا ہے اور بعض صورتوں میں اس کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
سوال: مرض کی ابتدائی علامات کے بارے میں کچھ بتایئے جس سے اس کی شناخت کی جا سکے؟
ڈاکٹر محمد ز بیر: جی ہاں! دیگر امراض کی طرح پولیو کی بھی عموماً ابتدائی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں۔ ابتدا میں سب سے پہلے جسم کے اعضا میں درد ہوتا ہے، گردن میں اکڑن پیدا ہو جاتی ہے، متلی ہوتی ہے، سر درد، بخار رہتا ہے اور تھکن بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اس مرض کی سب سے اہم علامت دیگر اعضا کے ساتھ بالخصوص ٹانگوں میں درد یا فالج کا حملہ ہوتا ہے جو مستقل بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ پولیو کا حملہ کسی بھی شخص پر ہوسکتا ہے لیکن 5 سال سے کم عمر کے وہ بچے اس وائرس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جنہیں پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہ پلائے گئے ہوں۔
سوال: جیسا کہ ڈاکٹر ذکیہ نے بتایا کہ یہ ایک سے دوسرے میں بہت تیزی سے پھیلنے والا مہلک مرض ہے، اس بات کو کسی مثال سے سمجھائیں؟
ڈاکٹر زبیر: اسے اس طرح سے سمجھیں کہ ایک بچہ افغانستان سے چلتا ہے اور کراچی پہنچتا ہے۔ اس دوران وہ جہاں سے گزرتا ہے، فضلہ بھی خارج کرتا ہے۔ چونکہ پولیو کا وائرس اسکی آنتوں میں ہوتا ہے، جو فضلے کے ساتھ خارج ہوکر تیزی سے پھیلتا ہے اور منہ یا نزلے و زکام کے ذریعے کسی دوسرے میں منتقل ہوکراس کے سارے جسم کے اعضا کو کمزور کرکے ہمیشہ کے لیے اپاہج بنا دیتا ہے۔ یہ مریض اس مہلک مرض کی شدت سے مر بھی سکتا ہے۔



سوال: کراچی شہر پولیو وائرس سے کس حد تک متاثر ہے؟
ڈاکٹر احمد علی شیخ: پولیو سے حفاظت کا موثر ترین ہتھیار صفائی نصف ایمان کا طریقہ ہے۔ رفع حاجت کے بعد ہاتھ ضرور دھونے چاہییں۔ فضلے سے آلودہ پانی اور غذا کو بالکل استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنا چاہیے، آلودہ ہاتھوں سے کھانا پینا نہیں چاہیے اور خاص طور بچوں کو غلاظت سے دور رکھنا چاہیے۔
سوال: اگر کسی نے پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہ پیے ہوں یا ٹیکے نہ لگوائے ہوں تو کیا اس کے جسم میں پولیو کا وائرس داخل ہونے سے مریض یقینا معذور یا انتقال کرجاتا ہے؟
ڈاکٹر ذکیہ: ایسا نہیں ہے ۔ اگر 100 بچوں کو پولیو کا وائرس لگ جائے تو ایک یا ایک سے کم فیصد میں معذوری پیدا ہوتی ہے۔ اس وائرس کے بچوں کے پیٹ میں داخل ہونے کے بعد بھی 99عشاریہ 99 فیصد بچے معذوری سے بالکل محفوظ رہتے ہیں۔ یعنی پولیو کے وائرس زدہ 200بچوں میں سے صرف ایک بچہ معذور ہوتا ہے۔ یہ وائرس 72 فیصد کے پیٹ میں جانے کے بعد انہیں بخار تک نہیں ہوتا ہے ۔ 24 فیصد کو اس وائرس سے صرف کھانسی، نزلہ، زکام اور بخار ہوتا ہے۔ ان کو پتا ہی نہیں چلتا کہ ان پر پولیو جیسے مرض کا حملہ ہو تھا، جس سے وہ محفوظ رہے ۔ وائرس سے متاثرہ زیادہ سے زیادہ 5 فیصد افراد کو گردن توڑ بخار ہوتا ہے یہ وہ افراد ہو تے ہیں جن کی بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت بہت کم ہوتی ہے۔ یہ دواؤں سے عموماً جلد ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ اس وقت پولیوکے 5 کیس سامنے آئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ کہ پاکستان میں پولیو کا وائرس ایک ہزار افراد کے جسم میں داخل ہوا تھا، جن میں سے 5 بچے معذوری کے س

حصہ