بدلے ہوئے بہاول پور کی مسکراہٹ 

518
Akhtar Abbas
Akhtar Abbas

برسوں بعد بہاولپور جانے کی خوشی ہی کم نہ تھی کہ اسے اس قدر بدلا ہو دیکھ کر حیرت بھی حیران ہی رہ گئی، اس قدر صاف ستھرا شہر کہ لاہور کی یاد تازہ ہو گئی، کارپٹڈ سڑکیں اور بھی ڈیوائیڈرز کے ساتھ، ہر جگہ سڑکوں پر پودے، یہاں تک کہ بغداد الجدید سے حاصل پور تک اسی کلو میٹر کی دو رویہ سڑک پر ایک ہی دن میں دو بار سفر کر کے بھی یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ یہ وہی سڑک ہے جس پر ریت اڑا کرتی تھی اور ویرانی دیکھ کر ڈر لگا کرتا تھا۔ بہاول پور جسے کبھی ایک میڈیکل کالج اور ایک کجی مارکہ یونیورسٹی کا طعنہ دیا جاتا تھا، آج یہ چار میڈیکل کالجوں اور چار یونیورسٹی لیول کی تعلیم گاہوں سے آباد ہے، شہر میں داخل ہونے سے قبل دریائے ستلج کا پل ہے جس کے نیچے پانی کی جگہ خشک ریت بہتی ہے مگر اس سے ذرا پہلے ایک شان دار بائی پاس بن چکا ہے جو حاصل پور روڈ کو جا ملتا ہے اور اسی پر پانچ سو بستر کا نیا سول ہسپتال بنایا گیا ہے جس کے بارے میں نومولود بچوں کے شعبے کے نوجوان سربراہ ڈاکٹر انور بتا رہے تھے کہ آوٹ ڈور میں ایک ہزار سے زائد مریض روزانہ آنے لگے ہیں ڈاکٹر دیکھتے دیکھتے تھک جاتے ہیں، اسی شہر کو ایک بہاول وکٹوریہ ہسپتال کی تنگ دامنی کی شکایت کی جاتی تھی۔ ایک ماہ میں جنوبی پنجاب کے یہ تیسرے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کا وزت تھا، ملتان، ڈیرہ غازی خان کی تفصیل کسی اور دن کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔
ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ہی ویل کم چوک ہر طرح کے برانڈز کی جگمگاتی دکانوں سے پہچانا نہ جاتا تھا اور یہیں آفاق کے زونل آفس میں بہاولپور کے اہل علم اور فکر جمع تھے، جماعت اسلامی کی مقامی قیادت اور نوجوان ان میں نمایاں تھے اور میرے لیے انہوں نے ایک موضوع بھی چن رکھا تھا۔ سچ کہوں تو سید مودودی کا کہا ہوا لفظ مرجع الخلائق میرے ذہن میں کسی پکی سیاہی سے لکھا ہوا ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی اس لفظ کی شرائط کو پورا بھی کرے اور عوامی راہنمائی کے منصب پر نہ ہو، اسی شہر میں نرم خو ڈاکٹر وسیم اختر گزشتہ پچیس برس سے عوام کی محبتوں اور ووٹوں کا مرکز ہیں اور کمزور تنظیمی سیٹ اپ کے باوجود تین بارصوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ سیدی کی فکر اور راہنمائی کے سایے میں ہونے والے کام میں خدا نے خوب وسعت اور برکت دی اور ان کی تحریروں کو لاکھوں پڑھنے والوں کی زندگیاں بدلنے کا باعث بنایا۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط‘‘ میں بہت ہی دل پزیر انداز میں لکھا: ’’دنیا میں جو نظامِ زندگی بھی قائم ہے اُن کو اعلیٰ درجے کے ذہین اور ہوشیار لوگ چلا رہے ہیں اور ان کی پشت پر مادی وسائل کے ساتھ عقلی اور فکری طاقتیں اور علمی و فنی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک دوسرے نظام کو قائم کر دینا اور کامیابی کے ساتھ چلا لینا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ یہ بسم اللہ کے گنبد میں رہنے والوں کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ سادہ لوح خواہ کتنے ہی نیک اور نیک نیت ہوں اس سے عہدہ برا نہیں ہو سکتے اس کے لیے گہری بصیرت اور تدبر کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے دانش مندی اور معاملہ فہمی درکار ہے۔ اس کام کو وہی لوگ کر سکتے ہیں جو موقع شناس اور باتدبیر ہوں اور ان کی زندگی کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

حکمت ان کے سب اوصاف کے لیے ایک جامع لفظ ہے۔ اور اس کا اطلاق دانائی کے متعدد مظاہر پر ہوتا ہے۔ یہ حکمت ہے کہ آدمی انسانی نفسیاتی سمجھ رکھتا ہو اور انسانوں سے معاملہ کرنا جانتا ہو۔ لوگوں کے ذہنوں کو اپنی دعوت سے متاثر کرنے اور ان کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کے طریقوں سے واقف ہو۔ ہر شخص کو ایک ہی لگی بندھی دعا دیتا نہ چلا جائے بلکہ ہر ایک کے مزاج اور مرض کی صحیح تشخیص کر کے علاج کرے۔ یہ بھی حکمت ہے کہ آدمی اپنے کام کو اور اُس کے کرنے کے طریقوں کو جانتا ہو۔ یہ بھی حکمت ہے کہ آدمی اس وقت کے حالات پر نظر رکھتا ہو، مواقع کو سمجھتا ہو اور یہ جانتا ہو کہ کس موقعے پر کیا تدبیر کی جانی چاہیے۔ حالات کو سمجھے بغیر اندھا دھند قدم اٹھا دینا، بے موقع کام کرنا اور موقع پر چوک جانا غافل لوگوں کا کام ہے اور ایسے لوگ خواہ کتنے ہی پاکیزہ مقصد کے لیے کتنی ہی نیکی اور نیک نیتی کے ساتھ کام کر رہے ہوں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ان سب حکمتوں سے بڑھ کر بڑی حکمت یہ ہے کہ آدمی دین میں سمجھ اور معاملاتِ دنیا کی بصیرت رکھتا ہو۔ محض احکام اور مسائلِ شریعت سے واقف ہونا اور آنے والے حادثوں پر چسپاں کر دینا کسی مفتی کے لیے تو کافی ہو سکتا ہے مگر بگڑے ہوئے معاشرے کو درست کرنے اور نظام زندگی کو جاہلیت کی بنیادوں سے اکھاڑ کر ازسرِ نو قائم کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔‘‘
حاضرین کے سوال بھی اہم تھے اور اعتراضات بھی، میری درخواست یہ تھی کہ الیکشن کا میدان خالص حکمت عمل اور شخصی محنت کا طالب ہے، تنظیم کمزور بھی ہو تو شخصی ووٹ کام کرتا ہے، وہاڑی سے لیکر ملتان تک انفرادی کام کی بدولت جیت کی مثالیں بھی دیں اور الیکٹ بلز بننے کے عمل پر بھی روشنی ڈالی کہ جماعت کو ہر صورت میں اس طرف توجہ کی ضرورت ہے، میری گزارش تھی کہ ان تمام امیدواروں سے اب معذرت کر لینی چاہیے جو الیکشن لڑتے ہیں اور ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نظم کے حکم پر ایسا کر رہے ہیں ورنہ ان کا تو کوئی موڈ ہی نہیں تھا، ان کو نتیجہ بھی اپنی اسی ادھوری محنت اور یکسوئی سے محروم حکمت عملی کا ملتا ہے۔ میری دوسری گزارش یہ تھی کہ ہمیں اپنے نظام کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا وقت سر پر آن پہنچا ہے یہ اوپر سے نہیں نیچے سے کام پر مبنی ہو گا، یعنی کام کا فوکس ضلع نہیں وارڈ اور پولنگ اسٹیشن کی حدور میں بسنے والوں کو بنانا ہوگا۔ یہیں نظم بنے اور یہیں نئے لوگوں پر دعوتی اور سیاسی کام ہو، اس حوالے سے کئی ملکوں کی مثالیں بھی دیں، کئی سوال اٹھائے گئے اور ان میں سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ جب ہماری نیت اچھی، ارادہ عمدہ اور دعوت آفاقی اور اسلامی ہے تو مخالفت کیوں ہوتی رہی ہے اور ووٹ کیوں نہیں ملتا۔ میرا ماننا یہ ہے کہ اصل بات جو بنیادی سچ ہے جسے ماننے میں ہم آسانی محسوس نہیں کرتے وہ یہ ہے کہ ہم کروڑوں عوام تک اپنی محبت، سچائی اور اخلاص کو بتانے اور پہچانے میں ہی کمزور رہے ہیں، نہ ان کو بتا سکے اور نہ ہی قائل کر سکے،

یہاں تک کہ چار برسوں میں سراج الحق صاحب کے کہنے کے مطابق ایسے ایک سو ووٹ بھی نہیں بنا سکے اس سے قبل ڈاکٹر وسیم صاحب پورے آٹھ برس پانچ سو ارکان فی حلقہ کا ناکام رہ جانے والا تجربہ کر چکے ہیں، اصل میں سیاسی میدان خوہشوں سے نہیں لوگوں کے دلوں میں امید جگانے سے جیتا جاتا ہے، ہارے والے کے ساتھ جانے کا فیصلہ کبھی آسان نہیں ہوتا۔ جن جگہوں پر اور جب جب لوگوں تک سلیقے سے پہنچے ہیں۔ اپنی بات اور سوچ رکھی ہے وہاں وہاں عام لوگوں نے آگے بڑھ کر ساتھ دیا ہے۔ اس سوچ کی پزیرائی کی ہے اور اسے اپنے ہی دل کی آواز قرار دیا ہے، ابھی جے آئی یوتھ کے تجربے میں بھی اسی کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔ عوام کی اکثریت تک ہم صحیح طریقے سے پہنچ ہی نہیں پائے، بے شمار غلط فہمیاں بھی پھیلائی جاتی رہیں۔ اکثر یہی کہا گیا کہ ’’نیک لوگوں کا سیاست میں کیا کام۔ انہیں اللہ اللہ کرنا چاہیے‘‘۔ بہت سے لوگوں نے اس بات پر کان دھرے اور سال ہا سال سے ہمیں اچھا سمجھنے کے باوجود ووٹ ان کو دیے ہیں جو انہیں زیادہ پسند بھی نہیں ہوتے، ان کی کمیاں کمزوریاں بھی ان کے سامنے ہوتی ہیں مگر ان کے خیال میں اتنے تجربہ کار سیاست دانوں کا متبادل ان اچھے لوگوں کو کیسے بنا لیں۔ آپ لوگوں کو ابھی تک تو یہ بھی بتانے میں کامیاب نہیں ہوئے کہسینیٹر سراج الحق جو جماعت اسلامی کے موجودہ امیر اور قائد ہیں۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، صاحب فہم اور صاحبِ عمل قائد ہیں۔ دوبار صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور دونوں بار سینئر وزیر بنے۔ وزارت خزانہ برسوں ان کے پاس رہی۔ بطور سینئر وزیر انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ جس محبت، دیانت اور صلاحیت کے ساتھ کام کیا۔ اس کی گواہیاں دوسری سیاسی پارٹیوں کے قائدین بھی دیتے ہیں۔ وہ ایک امید اور یقین کا نام ہے۔ وہ جماعت اسلامی کے چوتھے امیر ہیں اور اپنی صلاحیت، خدمت اور وژن کی بنیاد پر پُرامید ہیں کہ جماعت اسلامی اس ملک کے عام عوام کی زندگیوں کو بہتر کر سکے گی، اداروں کی حالت بدل سکے گی۔ جب ذاتی مفاد پہلی ترجیح نہ ہو تو ہر بڑا کام کیا جا سکتا ہے۔ کرپشن کو مٹایا جا سکتا ہے، ظلم اور ناانصافی کے نظام کو بدلا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرمؐ کی ایک حدیث جو حدیثوں کی کتاب مستدرک حاکم میں درج ہے میری ہر سوچ کی راہ نما ہے: ’’فرمایا جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اسے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی کوئی فکر نہ ہو وہ مسلمانوں میں سے نہیں۔‘‘ اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ جماعت کا ہر کارکن اسی جذبے سے سرشار ہو کہ اللہ کے رسولؐ کی اس حدیث کی تعمیل کرے اور اہلِ پاکستان کی فلاح کی فکر کرے۔

یہ درسست ہے کہ ہمارے نمائندے عام طور پر روائتی منتخب ہونے والے یا جیتنے والے نہیں ہوتے۔ ہمیشہ معاشرے کے عام طبقات سے منتخب کردہ بہتر لوگ ہوتے ہیں۔ جنہیں جماعت دولت اور خاندان کی وجہ سے نہیں کردار کی وجہ سے آگے لاتی ہے۔ لگتا ہے اب اس طرف توجہ دینے کا وقت بھی آگیا ہے۔ محفل دیر تک چلی اور سوال و جواب بھی، سیدذی شان اختر نے مسکراتے ہوئے کہا کچھ کام ہمارے کرنے کے ہیں وہ ہم ڈٹ کر کریں گے اور جو بڑوں کے کرنے کے ہیں وہ بڑے جانیں۔ بات تو ان کی بھی درست تھی آخر بدلے ہوئے بہاول پور کی آواز تھی۔