کردستان کے خلاف فوجی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں، عراق

35

عراقی حکومت نے علیحدگی کیلئے کوشاں صوبہ کردستان کی طرف سے عاید کردہ الزامات کا جواب دیا ہے اور کہا ہے کہ بغداد کا کردستان کے خلاف فوجی کارروائی کا کوئی منصوبہ زیرغور نہیں۔

عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے عراقی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر سعد الحدیثی نے کہا کہ اربیل کے خلاف فوجی کارروائی سے متعلق کرد قیادت کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ مرکزی حکومت صوبہ کردستان کے خلاف فوجی کارروائی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ کرکوک میں عراقی فوج کی موجودگی دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے معاہدے کے تحت ہے۔

 عراقی فوج نے دہشت گردوں کو شکست دیتے ہوئے کرکوکے 40 فی صد علاقے کو بازیاب کرایا۔ کرکوک کی طرح نینوی کے دوسرے علاقوں کو بھی دہشت گردوں کو نکال باہر کیا جائے گا۔ تمام علاقوں کو داعش اور دوسرے دہشت گردوں سے آزاد کرانے کے بعد فوج واپس اپنے کیمپوں اور بیرکوں میں آجائے گی۔

خیال رہے کہ کرد ستان کی حکومت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ عراقی فوج کرکوک میں کرد فوج کے خلاف ایک بڑے حملے کی تیاری کررہی ہے۔صوبائی امن کونسل کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہمیں عراقی فوج کی طرف سے خطرناک پیغامات ملے ہیں۔ شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی اور وفاقی پولیس کرستان پر بڑے حملے کے لیے پرتول رہی ہیں۔

Print Friendly
حصہ