عدالت عظمیٰ کاقتل کے ملزم کو 10برس بعد بری کرنے کا حکم

70

اسلام آباد(صباح نیوز) عدالت عظمیٰ نے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم وسیم خان کو10برس بعدبری کرنے کا حکم دے دیا۔ ملزم وسیم خان پر 2008ء میں ڈسٹرکٹ کورٹ راولپنڈی میں ابرار حسین نامی شخص کے قتل کا الزام تھاجس پر ٹرائل کورٹ نے ملزم کوسزائے موت سنائی تھی جسے ہائی کورٹ نے عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔بدھ کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نیکیس کی سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ بہت سے مقدمات میں مدعی ہوتے نہیں بنائے جاتے ہیں، نقلی شہادت کی وجہ سے اصلی ملزم رہا ہو جاتے ہیں، ملزم اصلی اور شہادت کا نقلی ہونا لمحہ فکر ہے، نقلی شہادتیں بنانا ہمارے معاشرے کا ناسور ہے۔جسٹس کھوسہ نے کہا کہ بھری کچہری میں قتل کیا گیا گواہ بھی نہیں؟ لمحہ فکر ہے جس وکیل کے چیمبر کے سامنے قتل کیا گیا وہ بھی گواہ نہیں بنا، ملزم سچے گواہ پیش نہ ہونے کی وجہ سے رہا ہو جاتے ہیں۔



جسٹس دوست محمد نے کہا کہ اصلاح کے بجائے ہم خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔یا د رہے کہ ملزم کو ٹرائل کورٹ نے سزائے موت جبکہ ہائیکورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا تھا۔ علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے لاہورمیں ماں،بیٹی اور نواسے کی گمشدگی کے معاملے میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ کے فیصلے کو کالعدم قراردیتے ہوئے کیس دوبارہ چیف جسٹس لاہور کوبھجوا دیا اور قرار دیا کہ چیف جسٹس اس کیس کی سماعت کے لیے بینچ تشکیل دیں ۔

حصہ