جے آئی ٹیز منظر عام پر لانے کی درخواست پر سندھ حکومت سے جواب طلب

23

کراچی (اسٹا ف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی اہم واقعات اور شخصیات سے متعلق جے آئی ٹیز کی رپورٹس منظر عام پر لانے کی درخواست پر حکومت سندھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 اکتوبر تک تفصیلی جواب طلب کرلیا۔ درخواست کی سماعت سندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزار علی زیدی کے وکیل عمر سومرو نے موقف اختیار کیا کہ ہم چاہتے ہیں نثار مورائی، عزیر بلوچ، سانحہ بلدیہ فیکٹری اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جے آئی ٹیز کو فوری پبلک کیا جائے۔ اہم معلومات عوام سے چھپانا خلاف آئین ہے۔ عدالت نے کہا کہ کیسے ممکن ہے آپ کی درخواست پر جواب مانگا جائے؟۔علی زیدی کے وکیل نے کہا کہ قانون میں موجود ہے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور آئین کا آرٹیکل 19 اے عوام کو اطلاعات تک رسائی کا حق دیتا ہے۔ جے آئی ٹیز میں اہم شخصیات اور سیاستدانوں کے کردار کو منظر عام پر لایا جائے۔ وکیل علی زیدی نے موقف اختیار کیا کہ سانحہ بلدیہ میں 250 سے زائد افراد کو جلا کر قتل کیا گیا اور 600 سے زائد زخمی ہوئے۔



عزیر بلوچ نے سنگین جرائم کا اعتراف کیا اور اہم سیاسی شخصیات کے نام لیے۔ نثار مورائی نے چیئرمین فشریز کی حیثیت سے کرپشن کی اور قتل غارت گری میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ جن سیاسی شخصیات کے نام لیے ان کو کٹہرے میں لایا جائے اور ان کے خلاف کریمنل کارروائی کی جائے۔ عدالت نے موقف سننے کے بعد سندھ حکومت سے 25 اکتوبر تک تفصیلی جواب طلب کرلیا۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی رہنما علی زیدی نے کہا کہ آصف زرداری اور فریال تالپور پر الزامات ایک گینگسٹر نے لگائے ہیں۔ ملک اور صوبے کے حاکموں کے اوپر سنگین جرائم کے الزامات لگے ہیں۔ سیاست دانوں اور اعلیٰ پولیس افسران پر بھی سنگین جرائم کے الزامات عاید ہوئے ہیں۔ عزیر بلوچ اور نثار مورائی کے انکشافات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ تحقیقات ہونی چاہیے کہ فریال تالپور کو عزیر بلوچ بھتا دیتا تھا یا نہیں۔

Print Friendly
حصہ