دمشق خودکش دھماکوں سے لرز اٹھا

30
دمشق: خودکش حملوں کے نتیجے میں پولیس اسٹیشن اور گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں 
دمشق: خودکش حملوں کے نتیجے میں پولیس اسٹیشن اور گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں 

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے دارالحکومت دمشق میں 3 خود کش بم باروں نے پولیس مرکز کے نزدیک خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں 2افراد ہلاک اور 8زخمی ہو گئے۔ شامی وزارت داخلہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق بدھ کے روز شاہراہ خالد بن ولید پر واقع پولیس مرکز کے محافظین کی حملہ آوروں کے ساتھ جھڑپ ہوئی، جس پر وہ عمارت میں داخل ہونے سے پہلے ہی خود کو دھماکے سے اڑا دینے پر مجبور ہو گئے۔ دھماکوں کے بعد سیکورٹی فورسز نے جائے مقام کو گھیرے میں لے لیا۔ حملے کی ذمے داری داعش نے قبول کی ہے۔ یاد رہے کہ تقریباً 2 ہفتے قبل دمشق کے علاقے میدان میں پولیس کے مرکز پر 2 خود کش حملے کیے گئے تھے، جن میں 17افراد مارے گئے تھے۔ دوسری جانب امریکی اتحادی افواج نے کہا ہے کہ شام کے شہر رقہ میں داعش کے ہتھیار بند سیکڑوں جنگجوؤں کا مذاکرات کے ذریعے انخلا قبول نہیں کیا جائے گا۔



عالمی اتحاد کے ترجمان کرنل ریان ڈیلن نے بدھ کے روز یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب اتحادی رقہ میں محصور ہو کر رہ جانے والے تقریباً 4 ہزار شامی شہریوں کے محفوظ انخلا کیلیے بات چیت کررہے ہیں۔اتحاد کا کہنا ہے کہ جنگجو ان میں سے بعض شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور انہیں وہاں سے فرار ہونے سے روک رہے ہیں۔ دریائے فرات کے کنارے واقع رقہ شہر میں گزشتہ 4 ماہ کے دوران میں فضائی بمباری اور لڑائی کے نتیجے میں بڑی تباہی ہوئی ہے، اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ وہاں جون سے ایک ہزار سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں۔

Print Friendly
حصہ