معذور افراد کے لیے جدید ٹیکنالوجی

84

علمدار حسین

گزشتہ سے پیوستہ
یہ میری آواز ہے
جو لوگ درست بولنے سے معذور ہوتے ہیں ان کے لیے معاشرے میں آگے بڑھنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ وہ ایک گلاس پانی بھی نہیں مانگ سکتے، کیونکہ ان کا تلفظ سمجھنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ گھر والے تو کسی نہ کسی طرح سے ان کی بات سمجھ جاتے ہیں لیکن دوسرے لوگ ان کی بات سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق دنیا کی 1.5 فیصد آبادی کسی نہ کسی بیماری کی وجہ سے درست بولنے سے قاصر ہے۔ ایسے افراد کی مدد کے لیے ایک انتہائی شاندار ایپلی کیشن کا کام کیا گیا جس کا نام ہے ’ٹالک اِٹ‘ (Talkitt)۔ یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے مالی امداد کی خاطر ’انڈی گوگو‘ (Indiegogo) پر پیش کیا گیا تھا۔ اس کا بنیادی خیال اتنا خوبصورت تھا کہ لوگوں نے دل کھول کر اس کی مدد کی۔یہ ایپلی کیشن کس طرح کام کرتی ہے اس کی وڈیو اگر آپ اس کی ویب سائٹ پر دیکھیں تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آجائیں گے۔
جو افراد کسی معذوری کے باعث درست تلفظ سے بول نہیں سکتے ’ٹالک اِٹ‘ ایپلی کیشن ان کی بات کو بالکل درست سمجھ لیتی ہے۔ یہ ان کے ٹیڑھے میڑھے بولے گئے الفاظ کو نہ صرف درست لکھ کر اسکرین پر دِکھاتی ہے بلکہ بول کر بھی سناتی ہے۔ اس ایپلی کیشن کو تجرباتی طور پر کئی معذرو افراد نے استعمال کیا اور اس نے ان کی بات کو بالکل درست سامنے والے تک پہنچایا۔



ویسے تو کئی ایسی ایپلی کیشنز موجود ہیں جو بولے گئے الفاظ کو متن کی صورت میں دکھا سکتی ہیں یا متن کو پڑھ کر سُنا سکتی ہیں لیکن ان کے درست کام کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آپ کا تلفظ بھی درست ہو۔ معذور افراد کے الفاظ سمجھنا انسان یا مشین کے لیے بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ اسی بات کے پیشِ نظر ’ٹالک اِٹ‘ کے منصوبے پر کام کیا گیا۔ اس ایپلی کیشن میں دنیا کی تقریباً تمام زبانوں کی سپورٹ شامل ہے تاکہ یہ پوری دنیا کے لیے یکساں کارآمد ثابت ہو۔ اس کے علاوہ یہ صرف اسمارٹ فون ایپلی کیشن نہیں بلکہ ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر و دیگر کلائی پر پہننے والی ڈیوائسز کے لیے بھی قابل استعمال ہے تاکہ درست بولنے سے قاصر افراد اسے ہر جگہ باآسانی استعمال کر سکیں۔
بغیر چھوئے چلنے والا اسمارٹ فون
آج ہم ایسے دور میں آ چکے ہیں جہاں ہر فرد کے پاس اپنا موبائل فون ہونا ضروری ہے۔ اور کیوں نہ ہو، آج کل موبائل فون سبھی کی ضرورت بن چکا ہے۔ لیکن یہ عام دستیاب فون سبھی کے لیے نہیں ہوتے، اکثر معذور افراد انھیں استعمال کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ فرض کریں اگر کوئی شخص اپنی کسی معذوری کے باعث اسمارٹ فون کی ٹچ اسکرین استعمال نہیں کر سکتا تو اس کے لیے یہ فون کسی کام کا نہیں۔ اسی صورتِ حال کے پیش نظر ’سیسمی فون‘ (Sesame Phone) پیش کیا گیا ہے۔



سیسمی فون ایک ایسا فون ہے جسے ٹچ کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی، یہ صرف آپ کے اشاروں اور سر کی حرکت سے کام کرتا ہے۔ پہلی دفعہ اسے استعمال کرتے ہوئے ذرا سی کنفگریشن کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے بعد یہ اشاروں پر کام کرتا ہے۔ اس کا سامنے کی جانب موجود کیمرہ صارف کے سر کی حرکت سے سمجھ جاتا ہے کہ کرسر کو کس طرف لے جانا ہے اور کہاں کلک کرنا ہے۔ اس کا استعمال اور آسان بنانے کے لیے اسے آواز سے کنٹرول کرنے کا فیچر بھی شامل رکھا گیا ہے۔ ’اسٹارٹ سیسمی‘ کہتے ہی فون اَن لاک ہو جاتا ہے جبکہ اسی طرح ’اسٹاپ سیسمی‘ کہنے سے فون لاک ہو جاتا ہے۔
دیگر اس جیسےمنصوبوں کی طرح ’سیسمی فون‘ کا خیال بھی ’انڈی گوگو‘ ویب سائٹ پر امداد کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ چونکہ بہت انوکھا اور نیک نیتی پر مبنی تھا اس لیے لوگوں نے اس منصوبے کے لیے مدد کی اور یہ فون تیار ہو گیا۔
سیسمی فون کو بنانے کے لیے فی الحال اینڈروئیڈ پر مبنی گوگل نیکسس 5 استعمال کیا گیا ہے لیکن مستقبل میں کمپنی کا مزید اسمارٹ فونز کو بھی اس فہرست میں شامل کرنے کا ارادہ ہے۔
اس کی ویب سائٹ پر آپ اس کی آزمائشی وڈیوز دیکھ کر جان سکتے ہیں کہ اسے استعمال کرنا کس قدر آسان ہے۔ یوں نہ سمجھیں کہ اس پر صرف وڈیوز وغیرہ دیکھنا ممکن ہے، اس سے بغیر چھوئے کال ملائی جا سکتی ہے، ای میلز پڑھی اور لکھی جا سکتی ہیں حتیٰ کہ گیمز بھی کھلی جا سکتی ہیں۔ بغیر اسکرین پر ٹچ کیے اس کا کرسر صارف کی مرضی کی سمت اس قدر تیزی سے جاتا ہے کہ انسان حیران رہ جائے۔ ایسے اسمارٹ فون کی دستیابی یقیناً معذور افراد کی زندگی میں بہت رونق لا سکتی ہے۔
(جاری ہے)

حصہ