جماعت اسلامی بنگلادیش کی مرکزی قیادت گرفتار

136

بنگلادیش میں پولیس نے ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کے مرکزی رہنماؤں کو گرفتار کرلیا ہے۔

پولیس کے مطابق اپوزیشن جماعت کے نو اراکین کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں جماعت اسلامی کے امیر مقبول احمد، نائب امیر شفیق الرحمان اور سابق رکن پارلیمان غلام پرور بھی شامل ہیں۔جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو کس لیے گرفتار کیا گیا ہے اس حوالے سے  حکام نے کچھ نہیں بتایا۔

جماعت اسلامی کے 79 سالہ رہنما مقبول احمد، سابق سربراہ مطیع الرحمٰن نظامی کو 1971 میں پاکستان سے آزادی کے دوران جرائم کے الزام میں پھانسی دینے کے کافی عرصے بعد گزشتہ برس اکتوبر میں پارٹی کے سربراہ منتخب ہوئے تھے ۔گرفتار شفیق الرحمن گزشتہ برس جماعت کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے تھے جو متوقع طور پر ان کے جانشین ہوں گے۔

واضح رہے کہ بنگلاہ دیش کی اعلیٰ عدالت نے 2013 میں جماعت اسلامی کے منشور کو ملک کے سیکولر آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی تھی۔

بنگلا دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے2010 میں متنازع جنگی ٹربیونل تشکیل دیا تھا جس نے جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت کو پھانسی اور سزائیں سنائیں جس کے نتیجے میں ملک گیر ہنگامے پھوٹ پڑے اور سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حصہ