وزیرخارجہ کی گفتگو: حیرت نہیں جاتی 

286

اختر عباسی
سچ کہوں تو ابھی تک حیرت نہیں جاتی، ان لفظوں، جملوں اور تاریخی شعور سے آسودہ بھرپور گفتگو پر جو خواجہ آصف سے بطور وزیر خارجہ امریکا میں مختلف فورموں میں سرزد ہوئی، ہم نے برسو ں سے انہیں اٹک اٹک کر اردو بولتے اور مخالفین کے بڑے فری اسٹائل میں لتے لیتے ہی دیکھا ، اسی وجہ سے وہ تنقید کا نشانہ بھی بنتے رہے ہیں اور مختلف ہلکے پھلکے مذاحیہ اور طنزیہ پروگراموں میں ان کی پیروڈیاں ہونا ایک معمول بنا رہا ہے مگر اب کے خواجہ آصف کا نیا جنم ہوا ہے ایک بالکل مختلف رول میں، اب کل کلاں وزارت خارجہ کا کوئی اہلکار یہ دعویٰ نہ کر دے کہ یہ تو میری بریفنگ کی وجہ سے ہوا تھا تو جناب بریفنگ کے نہ تو رَٹے مارے جاسکتے ہیں اور نہ ہی وقت بے وقت ان کی مدد سے اچانک جواب دینا ممکن ہوتا ہے، ان کی اتنی رواں انگریزی کا بھی پہلی بار مشاہدہ ہوا اور جس طرح انہوں نے کبھی دھیرج اور کبھی بلنٹ ہو کر جواب دیے وہ بھی خوشگوار حیرت کا باعث بنتا رہا۔ میں نے مختلف چینلوں اور ایشیا سوسائٹی میں ان کے انٹرویوز دیکھے اور میزبان کو حیران پریشان چھوڑ کر سامعین کو مخاطب کر کے اپنا مدعا پوری قوت سے بیان کرنے اور اپنے نقطہ نگاہ کو منوانے کی خوبی کا بھی مشاہدہ کیا۔ یہ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب آپ کو اپنے موضوع پر مکمل ایمان اور کمانڈ ہو۔ خواجہ صفدر کا بیٹا ہونا کچھ تو معنی رکھتا ہے، ایشیا سوسائٹی میں ان کا انٹرویو اور گفتگو میں نے دوبارہ سنی اور سہ بارہ بھی، سچ کہوں تو خیال آیا یہ صاحب وزارت خارجہ سے اتنے دور کیوں تھے؟ ماضی میں ان کی ایک ہی پہچان رہی ہے ہر ایک دو جملوں کے بعد۔۔۔ جو ہے۔ کا تکیہ کلام اور اس کی وجہ سے وہ تمام طنزیہ اور مزاحیہ پروگراموں میں پیروڈی کا بھی شکار بنتے رہے ہیں، یہ سہولت چونکہ انہی کی فراہم کردہ تھی اس لیے کبھی وہ معترض بھی نہیں ہوئے۔
ایشیا سوسائٹی والا انٹرویو سوشل میڈیا پر انجینئر احمد حماد رشید نے شیئر کیا وہ کئیر فارمیسی چین کے کرتا دھرتا ہیں، ان کلپس کے کچھ حصے انڈین چینلوں پر بھی چلتے رہے اور پاکستان میں ان تمام پروگراموں میں تقریباً ایک ساتھ جن کے میزبان ہمارے نیازی صاحب والی تبدیلی کے خواہاں ہی نہیں عملاً علم بردار بھی ہیں، چند دن تو وہ دھول اڑائی گئی کہ یوں محسوس ہوتا تھا خواجہ صاحب کوئی جرم عظیم کر آئے ہیں اور اب کوئی دن جاتا ہے اپنے انجام کو پہنچیں گے۔
امریکا میں بیٹھ کر انہی کے نظام اور انتظام کے سامنے اس قدر اعتماد اور تیقن سے بات کرنے اور ان سلگتے سوالوں پر بات کرنے کی ہمت نہ کبھی سرتاج عزیز صاحب کو ہوئی اور نہ کبھی فاطمی صاحب کو، ہمارے آرمی چیف عملاً چار برس وزارت خارجہ دیکھتے رہے، تمام سفیروں اور وزراء خارجہ سے ملتے اور ان گنت دورے کرتے رہے کبھی ادھر آئی ایس پی آر سے بھی ایسا کوئی کلپ نہیں آیا تھا، ہماری تاریخ میں پہلی جرات مندانہ شہادت جنرل ضیا کے زمانے میں ملتی ہے جب انہوں نے امریکی صدر جمی کارٹر کی مدد کو مونگ پھلی کہہ کر مسترد کر دیا تھا، یاد رہے جمی کارٹر صدارت سے پہلے اور بعد اسی مونگ پھلی کی کاشت کرتے رہے، دوسری بازگشت جنرل مشرف کے ابتدائی دور میں سنائی دی جب انہوں نے آگرہ میں بھارتی میڈیا کے ساتھ ناشتے کی میز پر بہت عمدہ گفتگو کی اور اسی کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے اور بھارتی وزیر اعظم نے واپسی پر ملاقات کرنے سے بھی انکار کردیا اور اس کے بعد کمانڈو صدر نے یو ٹرن لے لیا اور وہ ساری گفتگو اور اسٹینڈ تاریخ کا فراموش کیا جانے والا حصہ بن گیا۔ اس کے بعد ایک طویل خاموشی اور صرف ڈو مور کی فرمائشیں اور حکم سننے اور سر جھکانے کا دور ہے جو ختم ہو نے میں ہی نہیں آرہا تھا۔
میاں صاحب کی نااہلی سے اس گفتگو کا کوئی جائز ناجائز تعلق نہ بھی جوڑا جائے تب بھی وزیر خارجہ کی تبدیلی تو اسی وجہ سے ممکن ہو پائی جن کے کہنے پر پہلے وزیر خارجہ کا تقرر نہیں کیا گیا تھا انہی کے سامنے دھڑلے سے خواجہ صاحب خارجہ امور کے جرنیل بنا دیے گئے۔ آئیے اب ذرا ان کی کارکردگی کا بھی ایک جائزہ لے لیا جائے جس پر دھول اڑائی جاتی رہی، مجھے یقین ہے ان تمام تبدیلی پسند اینکرز کی اکثریت نے صرف ایک کلپ دیکھ کر ہی قولِ فیصل جاری فرما ڈالے ورنہ وہ بھی کچھ اور کہہ رہے ہوتے۔ ایشیا سوسائٹی کے فیس ٹو فیس پروگرام میں پاکستانی وزیر خارجہ کٹہرے میں تھے اور سوال کرنے والے کا خیال ہوگا کہ اس کا تماشا بنا کررکھ دیں گے۔ پہلے سوال سے توہین آمیز آغاز تھا، خواجہ صاحب نے کہا ہم نے سروسز دیں اور ان کے بدلے پیسے ری امبرس ہوئے، امریکی الزام پر میں ذرا فرینک ہو کر بات کروں گا اصل میں دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ افغانستان میں اندر ہو کیا رہا ہے اور الزام ہمیں دیا جا رہا ہے، ایک سوال مجھے بھی کرنے دیجیے۔ یہ جو افغانستان میں ڈرگ پروڈکشن ۳۷۰۰ گنا بڑھ گئی اور اس کا حجم ۱۲۰ بلین تک پہنچ گیا کیا اس کا ذمے دار پاکستان ہے، وہاں تین صوبوں میں داعش موجود ہے کیا ہم اس کے ذمے دار ہیں، ۴۰ فی صد علاقوں پر طالبان قابض ہیں کیا اس کا ذمے دار پاکستان ہے، عبداللہ عبداللہ اور صدر اشرف غنی آپس میں اَن ڈپلومیٹک طریقے سے لڑ رہے ہیں کیا اس کے ذمے دار بھی ہم ہیں، وہاں100,000 امریکی سپاہی ہیں، اور اس کا اسلحہ افغان فوجی باقاعدہ آکشن میں کھلے عام بیچ رہے ہیں کیا اس کے بھی ہم ذمے دار ہیں، یہ کئی ٹرلین ڈالر کی اسلحہ کی مارکیٹ ہے۔ اس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا اگلے سوال پر وہ بولے آپ نے نوے کی دہائی میں جس طرح وہ جگہ چھوڑی کہ ہم تو سپر پاور ہیں اور کولڈ وار از اوور، ہم پاکستان کو اب کیوں بادر کریں [اس کی فکر کریں] گو ٹو ہیل تو جناب ہم جہنم میں ہی گئے ہیں اور اب تک جل رہے ہیں اس جہنم میں، امریکا ہمارا اچھا دوست تھا ہم نے اس کو سپورٹ کیا، انہوں نے رشیا کو کک آؤٹ کیا، ہم نے مدد کی مگر میرا دل بلیڈ کر رہا ہے (خون کے آنسو رو رہا ہے کہ اس کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوا) ہم نے ۵۰ اور ۶۰ کا پاکستان دیکھا ہے اب سب اور ریورسیبل ہو گیا ہے، اب چیزیں بدل نہیں سکتیں جو کلچر اور ایتھوز تھے، یہ سب راتوں رات نہیں بدلتے سیاست حکومت، یہ سب پراکسی بن گئی ہے ان تعلقات کو ہم نے لیجی ٹیمیٹ کیا جو کبھی لیجی ٹیمیٹ تھے ہی نہیں۔ ہم نے اس کی وہ بھاری قیمت ادا کی ہے کہ ایک پوری نسل یہی نہیں جانتی کہ پہلا پاکستان کیسا فراخ دل تھا، ایک کھلی سوسائٹی جہاں مسلم، ہندو سکھ عیسائی شیعہ سنی سب اکٹھے رہتے تھے، اقلیتیں مکمل سکون میں تھیں۔ ہمیں حافظ سعید جیسوں کے لیے اب بلیم کیوں کرتے ہو، ہمیں بلیم مت کرو یہ آپ کے ڈارلنگ تھے، یہ وائٹ ہاوس بلائے جاتے تھے وہاں ٹھیرائے جاتے اور کھانے کھلائے جاتے تھے اب 20۔30 برس کے بعد آپ کہتے ہوکہ گو ٹو ہیل، آپ نے ہی ان کو نرچر کیا۔
یہ اس رواں گفتگو کا ایک حصہ ہے جو میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیا، کیا یہ کسی ایک بیوروکریٹ کی بریفنگ کی وجہ ہو ہوا ہو گا تو حضور آپ اور آپ کی بریفنگز تو ہمیشہ سے موجود رہی ہیں بے روح اور بے ذائقہ، یہ ذائقہ تو کسی اندرونی سیاسی جرات کی وجہ سے آتا ہے، وزیر خارجہ نے وہاں کتنی ہی تقریبات میں شرکت کی، سوٹ بدلے، نئی اور عمدہ ٹائیاں پہنیں مگر گفتگو کانوکیلا پن کم نہیں کیا، یہی وجہ تھی کہ اس دوران ٹی وی کی ہر اسکرین پر انہی کا تذکرہ تھا مگر تعریفی نہیں اس خاص نقطہ نگاہ کی عینک سے جس پر دنیا پہلے ہی انگلیاں اٹھاتی ہے، خواجہ صاحب خدا جانے کتنے دن آپ اس منصب پر رہتے ہیں مجھے کہنے دیجیے کہ ایک عام پاکستانی کو آپ کا لہجہ اور دلائل بھا گئے اور ایک وقتی سی خوشی کا احساس ہوا، آپ کی لفظی بہادری سے چار دن ہم نے بھی سوشل میڈیا پر سر اٹھایا کہ ہم افغانستان اور امریکی شکست کے ذمے دار نہیں ہیں خود ہم اس ساری آگ میں جلے اور اس کی تپش کا اب تک شکار ہیں اور نہیں جانتے کہ کب تک بے وجہ جلتے رہیں گے۔ سچ کہوں تو ابھی تک حیرت نہیں جاتی، ان لفظوں، جملوں اور تاریخی شعور سے آسودہ بھرپور گفتگو پر جو خواجہ آصف سے بطور وزیر خارجہ امریکا میں مختلف فورموں میں سرزد ہوئی۔

Print Friendly
حصہ