راوٌ انوار سے مقابلے میں ہلاک تیسرے شخص کی شناخت 27 ماہ سے زیر حراست تھا 

278

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی کے علاقے سچل میں چند روز قبل ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے تیسرے شخص کی بھی شناخت عمار ہاشمی کے نام سے ہوگئی ہے جو کہ 27ماہ سے لاپتا تھا جس کی بازیابی کے لیے اہل خانہ نے عدالت سے بھی رجوع کر رکھا تھا۔ کراچی میں مبینہ مقابلوں سے شہر ت پانے والے پولیس افسر اس طرح کے مقابلوں میں تیزی لا کراپنی مدت ملازمت میں توسیع کے خواہش مند ہیں۔ اس ضمن میں بھیجی جانے والی صوبائی حکومت کی سفارشات کو وفاق نے مسترد کردیا جس کے بعد مذکورہ افسر نے دبئی منتقل ہونے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق چند روز قبل
مبینہ مقابلوں سے شہر ت پانے والے پولیس افسر نے سچل کے علاقے میں مقابلے میں 5 ملزمان کوہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم اس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے ایک شخص کی شناخت عامر شریف اور دوسرے کی عبدالشکور کے نام سے ہوئی تھی۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ عامر شریف کراچی کے علاقے محمود آباد کے رہائشی تھے جب کہ ان کا آبائی تعلق فیصل آباد سے تھا۔2015ء میں ان کو فیصل آباد سے کراچی آتے ہوئے مبینہ طور پر مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے ،



کچھ عرصہ قبل قانوں نافذ کرنے والے اداروں کی قید سے چھوٹ کرآنے والے بعض افراد نے عامر شریف کے اہل خانہ کو بتایا تھا کہ انہوں نے عامر شریف کو قید کی حالت میں دیکھاہے اور ان کادماغی توازن بگڑ چکاہے تاہم اس مقابلے میں عامر شریف کو کالعدم تنظیم کا دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اسی مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والے تیسرے شخص کی بھی شناخت 28 سالہ عمار ہاشمی ولد شکیل ہاشمی کے نام سے ہوئی ہے مذکورہ شخص گزشتہ 2 سال سے لاپتا تھا ۔ان کا نام لاپتا افراد کی فہرست میں بھی شامل ہے ۔مبینہ مقابلے میں مارے جانے والے عمار ہاشمی 3 بھائیوں میں دوسرے نمبر پر اور ذوالفقار علی بھٹو یو نیورسٹی سے کمیونیکیشن میں فارغ التحصیل تھے ۔ان کی بازیابی کے حوالے سے اہل خانہ نے عدالت سے بھی رجوع کر رکھا تھا ۔اہل خانہ نے بتایا کہ جمعرات کی صبح عمار ہاشمی کے اہل خانہ کو گلشن اقبال تھانے کے اہلکار نے ٹیلی فون پر اطلاع دی کہ ان کے بیٹے عمار ہاشمی کی لاش سہراب گوٹھ سرد خانے میں موجود ہے جہاں سے وہ اس کو وصول کر سکتے ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق عمار ہاشمی کو27 ماہ قبل ان کے گھرگلشن اقبال بلاک 7 سے حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد وہ مسلسل ان کی بازیابی کے لیے کوشش کر رہے تھے ۔ اس ضمن میں لاپتا افراد کی بازیابی کے حوالے سے قائم کیے گئے کمیشن سے بھی رجوع کیا گیا اور ان افراد کی فہرست میں عمار ہاشمی کا نام شامل ہے جبکہ عدالت عالیہ میں بھی اس سلسلے میں ایک آئینی درخواست دائر کی گئی تھی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مقابلے کے کئی روز بعد اچانک ٹیلی فون کے ذریعے عمار ہاشمی کے جاں بحق ہونے کی اطلاع نے پولیس افسر کے تمام مقابلوں کو مشکوک بنادیا ہے

۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آخر کار پولیس کو کس طرح پتا چلا کہ جاں بحق ہونے والا عمار ہاشمی ہی ہے ۔واضح رہے کہ مقابلے کے بعد پریس کانفرنس میں مذکورہ پولیس افسر نے صرف ایک شخص کی شناخت ظاہر کی تھی اور باقی افراد کو نامعلوم قرار دیاتھا۔ذرائع کے مطابق مذکورہ پولیس افسر آئندہ ماہ اپنی ملازمت کی مدت پوری کرکے ریٹائر ہونے والا ہے اور اس طرح کے جعلی مقابلے کرکے مدت ملازمت میں توسیع کا خواہشمند ہے۔ اس حوالے سے صوبائی حکومت کے ذریعے وفاق کو اس حوالے سے سفارشات ارسال کی گئی تھیں تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وفاقی حکومت نے مدت ملازمت میں توسیع کی صوبائی حکومت کی سفارشات مسترد کردی ہیں جس کے بعد اس افسر نے دبئی منتقل ہونے کی تیاری شروع کردی ہے ۔

Print Friendly
حصہ