جمعہ غضب پر فلسطین میدان جنگ بن گیا‘ 3نوجوان شہید‘ 400زخمی

56

مقبوضہ بیت المقدس (رپورٹ: منیب حسین) مسجد اقصیٰ کے گرد الیکٹرانک گیٹس اور کیمروں کی تنصیب کے غاصبانہ اقدامات کے خلاف گزشتہ روز فلسطین بھر میں جمعہ غضب منایا گیا۔ اس موقع پر مقبوضہ مغربی کنارے میںبیت المقدس، الخلیل، بیت لحم، رام اللہ سمیت تمام شہروں اور غزہ کی پٹی میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد کی گئیں۔ مسجد اقصیٰ کی نصرت کے جذبے سے سرشار ہزاروں فلسطینی شہری سڑکوں پر نکل آئے اور اس دوران قابض فوج کے تشدد کے باعث جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ صہیونی فوج نے نہتے مظاہرین پر اندھادھند گولیاں اور آنسوگیس برسائی، جب کہ مسجد اقصیٰ میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کے خواہش مند مسلمانوں پر بہیمانہ لاٹھی چارج کیا گیا۔ قابض فوج کی اس پُرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں 3 فلسطینی نوجوان شہید اور 400 سے زائد زخمی ہوگئے۔ زخمی میں سے درجنوں کو فوری طور پر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ فلسطینیذرائع کے مطابق یہ شہادتیں بیت المقدس کے علاقوں ابودیس، طور اور باب العامود پر ہوئیں۔ ذرائع نے شہدا کی شناخت سلوان قصبے کے رہایشی 17 سالہ محمد محمود شرف، 21سالہ محمد ابوغنام اور ابودیس کے رہایشی محمد خلف لافی کے نام سے کی ہے۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار بھی کرلیا۔ واضح رہے کہ قابض فوج نے ظالمانہ اقدام کرتے ہوئے بیت المقدس شہر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کررکھا تھا۔ صہیونی فوج نے مسجد اقصیٰ کے دروازے پر ہزاروں مسلمانوں کو نمازِ جمعہ ادا کرنے سے روک دیا۔ واضح رہے کہ جمعہ کے روز اسرائیلی انتظامیہ نے 50برس سے کم عمر مردوں کے حرم قدسی میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 7 نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جمعہ کو علی الصبح اسرائیلی کابینہ کا ہنگامی اجلاس وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی کشیدہ صورت حال اور فلسطینیوں کے احتجاج پر غور کیا گیا۔ اس موقع پرصہیونی کابینہ نے متفقہ طور پر کہا کہ مسجد اقصیٰ کے داخلی راستوں پر نصب کردہ میٹل ڈیٹکٹر برقرار رکھے جائیں گے۔ ٹی وی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کابینہ نے حرم قدسی میں جاری کشیدگی سے نمٹنے کے لیے پولیس کو فری ہینڈ دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی مظاہرین کے دھرنے اور احتجاج سے نمٹنے کے لیے پولیس اور فوج کو ہرطرح کے پُرتشدد حربوں کے استعمال کی کھلی اجازت ہے۔ دوسری جانب فلسطینی یوم غضب کے موقع پر اردن، لبنان، ترکی، تیونس ، الجزائر اور ملائیشیا سمیت کی اسلامی ممالک میںبھی اسرائیل کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں ۔

حصہ