قاضی صیب (قسط-7)۔

48

قاضی صاحب کا فارم ہاؤس

انھوں نے اس موقع پر ہنستے ہوئے سید منور حسن سے پوچھا تھا ’’اس صنعت کار کی صاحبزادی کا کیا نام ہے، جس نے ’’الخدمت‘‘ کے ساتھ مل کر زلزلہ زدگان کے لیے بہت کام کیا۔ وہ بتا رہی تھی کہ راولپنڈی کے ایک اسٹیٹ ایجنٹ نے اس سے کہا، ’’یہاں قاضی حسین احمد کا فارم ہاؤس ہے۔‘‘ اس خاتون نے کہا، میں نے تو ان کا دو کمرے کا گھر دیکھا ہوا ہے، وہ فارم ہاؤس کیسے لے سکتے ہیں؟ وہ بولا: ’’آپ ان لوگوں کو نہیں جانتیں۔‘‘ اس خاتون نے اصرار کیا کہ ذرا اس فارم ہاؤس کا اتاپتا تو بتاؤ، میرا تو اس میں حصہ نکلتا ہے۔ میں ہر صورت میں جا کر لینے والی ہوں۔‘‘
اس پر وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا کہ میں نے سنا ہے، دیکھا نہیں ہے، حالانکہ شروع میں وہی آدمی یوں بات کر رہا تھا، جیسے وہ ایک ایک بات سے واقف ہے۔ میڈیا بھی عام طور پر یہی کرتا ہے۔ دس سال سے میرے بچوں کو امریکا میں پڑھائے جا رہا ہے۔‘‘ قاضی صاحب نے اس موقع پر اپنے دوسرے صاحبزادے انس سے اہل محفل کو متعارف بھی کرایا اور بتایا کہ ایک انگریزی اخبار نے لکھا، قاضی حسین احمد کی امریکا میں بڑی جائیداد ہے تو میرے بڑے بیٹے لقمان نے اسے خط لکھا کہ براہ کرم مجھے اس جائیداد کا ضرور بتائیں۔ اس انکشاف کا مجھے مالی طور پر بہت فائدہ ہو گا اور میں جائیداد میں اپنا حصہ لے سکوں گا۔‘‘ اس پر اخبار نے نہ جواب دیا نہ تردید چھاپی۔ مگر ایک جھوٹی خبر چھاپ کر کتنے ہی لوگوں کی رائے تو خراب کر دی۔‘‘
اسد اللہ غالب صاحب ایسی محفلوں میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد کوئی شرارتی سا سوال کیا کرتے ہیں اس روز بھی وہ باز نہ رہ سکے۔ کبھی چٹکی لیتے اور قاضی صاحب کے سخت ردعمل کا انتظار کرتے۔ قاضی کا تحمل کمال کا تھا۔ موقع دیکھ کر میں نے پوچھ لیا، قاضی صاحب۔ آپ نے میاں صاحب (نواز شریف مراد تھے)کو دل سے معاف کر دیا، کیا غصہ جاتا رہا؟ وہ بولے: وقت کے ساتھ چیزیں بدل جاتی ہیں۔ غصہ جاتا رہتا ہے۔ بڑے مقاصد سامنے ہوں تو فوکس ان پر ہوتا ہے۔ اس دوران اہل محفل کو پہلے نماز عشا کی دعوت ملی اور پھر کھانے کی۔ کھانے کے دوران اوریا مقبول جان معلومات کے دریا بہاتے اور سب ان میں غوطے لگاتے رہے۔ کسی اور کو بات کرنے کا موقع ہی نہ ملا۔ کھانا ختم ہوا۔ اوریا کی باتیں جاری رہیں۔ قاضی صاحب کا حوصلہ آزماتی رہیں۔ اوریا بہت اچھے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ تقریب اور مجلس کس کی ہو۔ میزبان کوئی اور ہو اور جس قدر بھی عمدہ اور گہری ہوں، میزبان کی قوت برداشت کا ہی امتحان ہوتا ہے۔ قاضی صاحب بہرحال اس امتحان میں سرخرو رہے ہیں۔

فوج آنے سے کیسے رکے؟

محفل کا دوبارہ آغاز ہوا تو میں نے دل کے کسی گوشے میں محفوظ ایک نازک سی بات پوچھ ڈالی کہ فوج کے خلاف اب جرنیلوں کے ناموں اور کاموں سے ہٹ کر بحیثیت ادارہ اس کے رول اور سیاست میں بار بار مداخلت اور قبضے کے خلاف بڑی دلیری سے بات ہونے لگی ہے۔ کیا آنے والے برسوں میں فوجی مداخلت اس سے روک سکے گی؟ قاضی صاحب بہت یکسو تھے اور پُر امید بھی۔ وہ بولے: دیکھیں اپوزیشن ایک نکتے پر آ جائے تو اس کے بڑے اچھے اثرات ہوں گے۔ مگر کچھ عرصے بعد سیاسی لوگوں نے ہی ان کو بلانا شروع کر دینا ہے۔ یہ سلسلہ ہر صورت رکنا چاہیے۔ پھر انھوں نے کہا، عدالتیں عمر قید نہ سہی، آئین توڑنے پر دو چار سال کی قید ہی دے دیں تو بھی سلسلہ رک سکتا ہے۔‘‘

آدھا سچ نہ کہا کریں غالب صاحب

غالب صاحب نے پھر جملہ کسا، قاضی صاحب! جماعت نے بھی جنرل ضیاء کے زمانے میں وزارتیں لی تھیں۔ قاضی صاحب نے اب کے انھیں دیکھا تو اس میں تھوڑی سی ناگواری بھی شامل تھی۔ کہنے لگے، ’’آپ لوگ آدھا سچ نہ کہا کریں، جماعت نے وزارتیں نہیں لی تھیں۔ نواب زادہ نصر اللہ صاحب بھی تھے وہ قومی اتحاد کے وزراء تھے، باقی لوگ تو پھر بھی رہے۔ ہم تو چھوڑ آئے تھے، کیا یہ خوبی کی بات نہیں ہے کہ ہم نے کبھی فوج کو دعوت نہیں دی۔ جب فوج آئی، ہماری شوریٰ کا اجلاس ہو رہا تھا؟ ہم نے قرارداد پاس کی کہ مارشل لاء کسی صورت قبول نہیں۔ عبوری سویلین حکومت انتخاب کرائے۔‘‘

ضیاء الحق کا معاملہ اور میاں طفیل صاحب کا نرم گوشہ

اس موقع پر انھوں نے کھل کر کہا ’’ضیاء الحق کا معاملہ یہ تھا کہ جماعت کے سابق امیر اس کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ وہ ان کا ذاتی رجحان تھا۔ جماعت اور میاں صاحب مسلسل کشمکش میں رہے۔یہ درست ہے کہ جماعت کی شوریٰ نے اس عمل پر عوامی احتجاج نہیں کیا۔ ضیاء نے میاں صاحب سے اپنی شوریٰ کے لیے ۶۰؍نام مانگے تھے۔ جماعت کی شوریٰ نے نام دینے سے صاف معذرت کر لی۔‘‘
اوریا مقبول جان نے یہ کہہ کر لقمہ دیا کہ ضیا دور کی سرکاری تقریبات میں صدر نے آنا ہوتا تھا تو تفریحی پروگرام روک کر حمد اور نعت جیسا کوئی سنجیدہ آئٹم ڈال دیا جاتا تھا۔ مشرف دور میں حالت یہ ہو گئی تھی کہ جونہی صدر صاحب آتے، موقع ہونہ ہو، لڑکیوں کا رقص یعنی پرفارمنس ڈال دی جاتی ہے۔ بیوروکریسی ہو یادوست احباب سبھی حکمرانوں کے مزاج شناس ہوتے ہیں اور اشارے سمجھتے ہیں۔قاضی صاحب یہ سن کر خاموش رہے۔ سنجیدہ گفتگو میں اس لقمے نے بات کا ردھم ہی توڑ دیا۔
سوچتا ہوں کہ وانا، بلوچستان، افغانستان، عراق، کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے ہر ظلم اور زیادتی کو محسوس کرنے والے ایم ایس سی جغرافیہ کر کے پہلے طلبہ اور پھر پوری قوم کو اللہ رسولﷺ کی دعوت دینے والے قاضی حسین احمد، جو تبدیلی کی ہر کوشش کی بنیاد میں موجود تھے، اپنی انہی خوبیوں کی وجہ سے جماعت کے قائد ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کے منتخب قائد بھی بن گئے۔ ان کی جماعت بھی کبھی عوامی قیادت کا پائیدار تاج اور اعزاز حاصل کر پائے گی یا یہ ایک خیال نامکمل خواب کے طور پہ تاریخ کے صفحات کا رزق ٹھہرے گا۔

عوامی مقبولیت کا پیمانہ

جہاں تک ملک میں مروجہ عوامی مقبولیت اور قبولیت عام کے پیمانے کا معاملہ ہے تو قاضی صاحب اس پر بار بار کھرے اترے، نہ صرف پورے اعزاز اور وقار کے ساتھ ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور وہاں بھرپور کردار ادا کیا بلکہ ایوان بالا سینٹ کے بھی رکن منتخب ہوئے اور وہاں بھی اپنی معاملہ فہمی، تدبر اور قیادت کے جھنڈے گاڑھے۔
جماعتی قیادت کے ساتھ ساتھ عوامی قیادت کی قبا بہت کم لوگوں کو نصیب ہوئی ہے۔ وہ اس عالم میں رخصت ہوئے ہیں کہ نوشہرہ کا حلقہ ان کے نام سے موسوم ہے۔
وہ آنحضورﷺ سے روایت کردہ ایک خوشخبری کا بھی حصہ بنے۔ جس کا مفہوم تھا کہ جنازے کے شریک لوگوں کی تعداد کی دعائیں اس کے درجات کی بلندی کا باعث بنتے ہیں، بخشش کے لیے تو چالیس لوگوں کی نماز جنازہ میں شرکت اور دعاؤں کو اللہ کی خصوصی رحمت مانا جاتا ہے۔
سید مودودیؒ کے بعد جنھیں دنیا کے بیشتر براعظموں میں جنازہ نصیب ہوا اور لاہور میں قذافی اسٹیڈیم کی وسعت اور پنہائی کم پڑ گئی تھی۔ اسی جماعت کے تیسرے قائد کو بھی اللہ نے واپسی کے سفر میں اس عزت اور شرف سے ہمکنار کیا کہ پشاور میں ان کے جنازے کے لیے جگہ کم پڑ گئی اور موٹروے کے ساتھ بڑی وسیع جگہ کا انتخاب کا فیصلہ کرنا پڑا۔ دنیا کے ہر اس ملک میں جہاں تحریک سے محبت کرنے والے اور قاضی حسین احمد سے محبت کرنے والے موجود تھے، ان سبھی کے ہاتھ، دل غائبانہ جنازوں کے بعد اپنے رہنما کو رخصت کرتے ہوئے دعاؤں سے بھرے تھے۔
عوامی قبولیت کا اگر کوئی پیمانہ ہے تو عوامی قبولیت عام کے بعد اس شان و احترام سے رخصتی اس پیمانے پہ بھی پوری اترتی ہے۔ مگر کیا کیجیے بہت سے انسان اندر سے یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی اندر سے پوری ایمانداری کے ساتھ پوری ناانصافی پر تلے رہتے ہیں۔ انھیں اپنی رائے، اپنی سوچ کی چھتر چھایا اس قدر عزیز ہوتی ہے کہ نہ وہ خلق خدا کی سن پاتے ہیں اور نا ہی نقارہ خدا پہ کان دھرتے ہیں۔
سوئے اتفاق سے یہ اکثر غیر نہیں ہوتے، کہنے کو اپنے ہی ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی تو زہر آلود بھی ہوتے ہیں، ان پر ایک ایسا وقت ضرور آتا ہے جب یہ خدائی فیصلوں کے بھی نہ چاہتے ہوئے منکر ہو جاتے ہیں۔ انھیں اس بات کا بہت رنج اور غم ہوتا ہے کہ رب نے ان کی مرضی اور منشا جان کر لوگوں سے معاملہ کیوں نہیں کرتا۔

ذکر قاضی حسین احمد سے نظریاتی اختلاف کا

ممتاز ٹی وی کمپیئر طلعت حسین نے کیا خوب کہا کہ ’’کسی انسان کی قدرو منزلت دنیا سے رخت ہونے کے بعد سامنے آتی ہے۔ دنیاوی جاہ و جلال اور مادی چمک عموماً شخصیات کو تولنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ بلکہ بسا اوقات گمراہ کن نتائج اخذ کروا دیتی ہے۔ اس دنیا کو خیر آباد کہنے کے بعد کون کیسے یاد کیا جاتا ہے ہے وہ پیمانہ جس پر اصل پرکھ ہوتی ہے۔ مرحوم قاضی حسین احمد اس پیمانے پر پورے اترتے ہیں۔ ان کی روح یقیناًاُن تجزیوں سے مطمئن ہو گی جو ان کے جانے کے بعد ان کی یاد کے حوالوں سے کیے جا جارہے ہیں۔ ان دوسری قسم کی گہما گہمی نہ ہوتی تو ان کے جانے کے نقصان کا بہتر اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ مگر قادری مارچ اور لندن تماشے اُن کی وفات کی خبر کو ماند کر گئے۔ بہرحال وہ اپنے پیچھے بہت بڑا خلا چھوڑ گئے ہیں جس کو پُر کرنا نہ تو جماعت اسلامی کے کسی قائد کے لیے ممکن ہو گا اور نہ ہی قومی سطح پر اس قد کاٹھ کے لوگ موجود ہیں جو ان کی یاد کو اپنے اعمال سے تازہ کر پائیں۔ قاضی حسین احمد مرحوم سے میرے ذاتی تعلقات بھی تھے اور شدید نظریاتی اختلافات بھی۔ افغانستان کی پالیسی کا معاملہ ہو یا جمہوریت کو ایک خاص مذہبی تشریح کے رنگ میں ڈھالنے کا۔ ہم گھنٹوں بحث کے باوجود عموماً کسی نقطہ اتفاق پر نہ پہنچ پاتے ماسوائے اس کے کہ ہمیں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔ باوجود مکمل سیاسی عقیدہ رکھنے اور اپنے نقطہ نظر پر سے ایک انچ نہ ہٹنے کے قاضی صاحب مرحوم تنقید اور مخالف تشریح کو برداشت کرنے کا بڑا حوصلہ رکھتے تھے ان کے سیاسی کیئریئر میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ پی آئی ایف کے فورم سے ملک میں اسلامی انقلاب لانے سے لے کر ایم ایم اے کی خیبر پختوانخواہ میں حکومت بن جانے تک قاضی صاحب ہمیشہ واضح اور کبھی کبھار متنازع اقدامات کرنے کے لیے مشہور تھے۔ ان کے دور میں جماعت اسلامی ایک بھرپور سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی اور بہت سے ملکی معاملات میں اپنا اثرو رسوخ بڑھا پائی۔ اگرچہ پارٹی کے اندر سے ان کی سیاسی سمت اور طریقہ کار کی مخالفت بھی ہوتی تھی مگر جماعت اسلامی کو محترک بنانے کے لیے انھوں نے یہ تنقید بھی ہضم کی۔ طاقت کے میدان میں اتنے طویل سفر کے باوجود انھوں نے اپنا قبلہ درست رکھا۔ ان کی زندگی میں ان پر پالیسی کے اعتبار سے کڑی تنقید ہوئی۔ مخالفین نے ان کی القاعدہ کا حمایتی بھی قرار دیا مگر زندگی کے ایام میں نگران حکومت بنانے کے معاملے پر جب ان کا نام گردش کرنا شروع ہوا تو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ مخالفین بھی ان کے ذاتی کردار میں کوئی خامی نہیں ڈھونڈ سکے۔ نماز، روزہ کی پابندی، تہجد گزاری اور انتھک محنت نے قاضی صاحب سے کبھی تذلہ سنجی نہ چھینی نہ ان کی طبیعت میں سختی تھی اور نہ ہی کبھی دلچسپ گفتگو سے کتراتے تھے۔ دنیا میں سے صاف دامن لے کر گئے ہیں۔ خدا ان کی مغفرت کرے اور ان کی قبر کو کشادہ کرے۔ پاکستانی سیاست میں نظریاتی عنصر ویسے بھی کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ قاضی صاحب کے جانے کے بعد یہ صفت بہت کمزور ہو گئی ہے۔ کسی شخص کا اپنی تمام زندگی ایک اساس کے تحت گزارنا اور اپنے دام کو مالی اور دوسری تہمتوں سے پاک رکھنا بڑی کامیابی ہے۔‘‘

(جاری ہے)

حصہ