قاضی صیب (قسط-6)۔

70

یپلز پارٹی کا دوست
اسلامک اکیڈیمی کراچی کے لائبریرین میر بابر مشتاق نے بتایا کہ میرے ایک دوست جن کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا، وہ میرے ساتھ ایک روز لاہور آئے تو میں نے ان کو کہا کہ مجھے منصورہ میں کام ہے، تو تم میرے ساتھ چلو۔ کہنے لگا، اس شرط پر کہ قاضی صاحب سے میری ملاقات کرا دو۔ میں نے کہا، اگر قاضی صاحب منصورہ میں ہوئے تو ضرور ملاقات ہو جائے گی۔ ہم منصورہ پہنچے تو نماز عصر کی اذان ہو رہی تھی۔ میں وضو کرنے کے لیے چلا گیا تو وہ مسجد کے گیٹ کے باہر کھڑا ہو گیا۔ میں وضو کر کے آیا تو دیکھا کہ قاضی صاحب مسجد کی طرف آ رہے ہیں۔میں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ میرے دوست کا رنگ زرد ہو گیا۔ میں نے کہا، کیا ہوا؟ کہنے لگا، وہ دیکھو قاضی صاحب آ رہے ہیں۔ تو میں نے کہا، ڈرنے کی کیا بات ہے؟ کہنے لگا وہ اکیلے آ رہے ہیں، کوئی باڈی گارڈ ان کے ساتھ نہیں۔ ان کو ڈر نہیں لگتا۔
میں نے کہا، نہیں ہمارے رہنما صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ اتنے میں قاضی صاحب قریب آ گئے اور انھوں نے خود ہی آگے بڑھ کر میرے دوست سے مصافحہ کیا۔ میں نے تعارف کرایا تو انھوں نے کہا: ’’ میں نمازعصر کے بعد آپ سے مہمان خانے میں ملوں گا۔ آپ میرے ساتھ چائے پئیں۔‘‘
میرے دوست کی حیرانی دیدنی تھی۔ حیران و پریشان وہ کھڑا ہی رہا۔ نماز کا کہا مگر اس نے جواب نہ دیا۔ نماز عصر کے بعد میں اس کو مہمان خانے لے کر گیا۔ قاضی صاحب بھی آ گئے۔ کچھ اور بھی ملاقات کرنے والے افراد موجود تھے۔ قاضی صاحب نے سب سے حال احوال پوچھا، چائے پی اور اٹھ کر چلے گئے۔ میرا ساتھی بار بار مجھے کہتا رہا، میں تو سوچ بھی نہیں سکتا کہ اپنے لیڈروں کے ساتھ اس طرح مل سکتا ہوں۔ ہمارا تو مقامی ایم این اے، ایم پی اے سے ملنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی اور قاضی صاحب کے بارے میں ہمیشہ اس کے جذبات قابل قدر رہے۔ حتیٰ کہ پچھلے الیکشن میں اس نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیا۔
ایران سے 25سالہ رفاقت کی گواہی
’’قاضی حسین احمد امت مسلمہ کے اتحاد کے سب سے بڑے داعی تھے۔ انھوں نے مختلف مکاتب فکر کے درمیان غلط فہمیوں اور آپس کی شکر رنجیوں کو دور کرنے کے لیے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔ ایرانی قوم قاضی حسین احمد کو اپنے رہبروں میں شمار کرتی ہے۔ ہم پاکستانی قوم، جماعت اسلامی اور قاضی حسین احمد کے خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔‘‘ گراں قدر خیالات کا اظہار سابق ایرانی وزیر خارجہ علی اکبرولایتی نے اپنے وفد کے ہمراہ منصورہ میں لیاقت بلوچ، جماعت اسلامی کے قائدین اور قاضی حسین احمد کے صاحبزادے آصف لقمان قاضی سے قاضی حسین احمد کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں علی ولایتی، علی رضا حقیقیان، ڈاکٹر عباس فاموری، محمد حسین بنی اسد و دیگر رہنما بھی شامل تھے۔
علی اکبر ولایتی نے کہا کہ قاضی حسین احمد صحیح معنوں میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے جانشین تھے۔ ہماری ان سے ۲۵؍سالہ رفاقت تھی انھوں نے دنیا میں تمام مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ افغانستان پر جب روس نے حملہ کیا تو سب سے پہلے قاضی حسین احمد نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ میری ان سے آخری ملاقات تہران میں ہونے والی اسلامی بیداری کانفرنس میں ہوئی، جہاں انھوں نے اپنے خطاب میں امت مسلمہ کے اتحاد اور باہمی تنازعات اور شکر رنجیوں کو باہم گفتگو سے حل کرنے پر زور دیا اور عالم اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی بات کی۔
معصوم اور جاذب مسکراہٹ دیکھنے کا تجربہ
ان دنوں میں قومی ڈائجسٹ کا ایڈٹر تھا اور روزنامہ پاکستان میں ’’درِ دل پہ دستک‘‘ کے عنوان سے کالم لکھ رہاتھا۔ ایک شام انھوں نے کالم نگاروں کو اپنے ہاں کھانے پہ بلایا۔ قاضی حسین احمد سے ہاتھ ملا رہا تھا جب اچانک دھماکے کی آواز آئی۔ مڑ کے دیکھا تو اوریا مقبول جان کی گاڑی ایک ادھ کھلے مین ہول میں گرنے کے بعد باہر نکلنے کے لیے زور لگا رہی تھی۔ اوریا مقبول جان کے ہاں علم اور معلومات ہی نہیں، جذبات بھی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، اس لیے اس شام وہ قاضی صاحب سے زیادہ بولے۔ اگلی صبح انھیں امریکی سفیر کی میزبانی کرنا تھی۔ ممکن ہے اسی لیے جلدی میں یہ حادثہ کر بیٹھے ہوں، ہمارے ہاں حادثے اسی جلدی میں ہوتے ہیں۔
منصورہ دارالضیافہ میں سجی یہ مختصر سی محفل اس لحاظ سے سے بڑی یادگار تھی کہ قاضی صاحب بیماری کے باوجود کئی گھنٹے ڈٹ کر بیٹھے اور کتنی ہی آف دی ریکارڈ باتیں مزے سے کر گئے۔ جماعت اسلامی کے لوگ بے شک قاضی صاحب کو کئی دہائیوں سے جانتے ہیں اور ان کی قیادت کے مزے لے رہے ہیں۔ ہر رہنما کے تجربات و مشاہدات اور رجحانات و میلانات اپنے پیش رو سے مختلف ہوتے ہیں۔ اسی سے تبدیلی کی توقع ہوتی ہے۔ اسی سے اداروں اور جماعتوں میں تبدیلی آتی ہے۔ قاضی صاحب کو بھی اس سے استثنا نہیں۔ ان کے آنے سے جماعت کی پالیسیوں، لوگوں، چہروں، باتوں، ترجیحات سبھی پہ فرق پڑا اور یہ ہر رہنما کا حق ہوتا ہے کہ وہ اپنے ویژن اور جس نقطہ نگاہ کو صائب اور بہتر خیال کرے، اس پر اپنے پیروکاروں کو لے کر چلے۔ قاضی حسین احمد اس شام کئی بار مسکرائے اور سچی بات ہے، اس قدر معصوم اور جاذب مسکراہٹ کو دیکھنا، ایک مختلف تجربہ ہوتا ہے۔ ان کی آنکھیں چمکتی تھیں اور پورا وجود اس لمحے کی خوشی میں شامل ہوتا تھا، نہ کچھ چھپانے کی حاجت ہوتی ہے اور نہ کچھ بتانے کی۔ دینی جماعتوں کے قائدین کو کبھی کبھی ضرور مسکرا لینا چاہیے۔
قاضی صاحب کے دو سوال
خود قاضی صاحب نے اس شام کئی سوال اٹھائے، حالانکہ وہ ہمارے سوالات کا اصل ہدف تھے۔ ان کا کہنا تھا، دانش وروں کا ایک طبقہ عرصے سے لکھ رہا ہے کہ بھوک بڑھ جائے تو انقلاب آتے ہیں۔ اس بات کو عقل، دلیل اور تجربے کی بنیاد پر ہر جگہ درست بھی تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ جو ہمارے ہاں دانش وروں کی ایک نئی کھیپ تیار ہو رہی ہے۔اُس کا کہنا ہے کہ ملک میں لوگ شدید معاشی مسئلے سے دوچار ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری، خودکشیاں، اس لیے لوگ ہماری تحریک میں کیسے نکلیں گے؟
قاضی صاحب کا دوسرا سوال بہت گہرائی اور وسعت لیے ہوئے تھا۔ ان کا کہنا تھا ’’مخلص قیادت کے لیے یہ تو تجربے نے ثابت کر دیا کہ اشرافیہ یا ایلیٹ کلاس سے نہیں آ سکتی۔ فوج کی قیادت کے ۳۱؍برسوں کا زوال بھی دیکھ لیا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم لوگ جو اپنی جماعت کے ہر کام میں انتہائی مخلص، دیانت دار اور امانتوں کے ہر اصول اور ضابطے کا خیال رکھنے والے ہیں، خدمت کرنے کو زندگی کی بنیاد اور اصل سمجھتے ہیں اور بے غرضی سے کام کرتے ہیں، ہمارے بارے میں عام لوگوں کا خیال یہ کیوں نہیں ہے؟‘‘
نامکمل اور ادھورے سچ کی تکمیل کیسے ہو؟
میں نے محسوس کیا، وہ اس حوالے سے دل سے اصل وجوہات جاننے کے خواہاں ہیں۔ بہتر ہو گا کہ کسی شام شہر شہر، جگہ جگہ کچھ اہل علم و فکر کو بٹھایا جائے اور کھلے دل و دماغ سے صرف اسی موضوع پر ان کو سنا جائے۔ وہ جن کے ہاتھ عوام کی نبضوں پر ہوتے ہیں وہ جو عوام کے جذبات سے کھیلتے بھی ہیں اور انھیں راہ بھی دکھاتے ہیں۔ وہ جو لوگوں میں سے ہیں۔ ایک بات تو طے ہے کہ اس بات کا احساس ہونا ہی ایک بے حد مختلف احساس اور خیال کی کھڑکی کھولتا ہے۔ لوگوں کا مختلف طرح سوچنے کو تسلیم کر لینا بے شک اس ’’کوکون‘‘ سے نکلنے کی ابتدا ہے، جس میں نیک لوگ بڑی سادگی اور اخلاص کے ساتھ یہ سوچ کر جیتے ہیں کہ سارا سچ اور سارا اخلاص انہی کے پاس ہے۔ حالانکہ یہ ایک نامکمل اور ادھورا سچ ہے۔ بہت سے لوگوں کے سچ مل کر ایک نسبتاً پورا سچ بنتا ہے، جو دور سے واضح نظرآتا ہے، اپنا آپ منواتا ہے۔
دین کی خدمت اور تبدیلی و اصلاح کا شعبہ ایسا ہے کہ اس میں کہنے والا کہتا ہے اور تحکم سے کہتا ہے۔ یقین سے کہتا ہے۔ اسے خبر ہوتی ہے کہ یہ صرف میری رائے نہیں ہے۔ چودہ سو سال کی روایت میری پشت پر ہے۔ ہاں سیاست میں منظر، مکمل طور پر بدل جاتا ہے۔ یہ دین اور ایمان کے مسئلے جیسا نہیں ہے۔ اس کو اس طرح سے نہ دیکھا جا سکتا ہے نہ ڈھالا اور سنبھالا جا سکتا ہے۔یہ کنفوژن سالوں بہ سال ہی نہیں لاکھوں اذہان میں آئے ہمدردانہ جذبات کے ضیاع کی بھی باعث ہے۔
عوام کی رہنمائی، جماعت کی رہنمائی میں فرق ہے
ہمارے سماج میں سنانا نہیں سننا سب کچھ ہے۔ لوگوں میں رہنا سب کچھ ہے، ان کو جاننا، ان کی طرح کبھی سخت، کبھی نرم،کبھی سچ، کبھی جھوٹ، کبھی مصلحت، کبھی مصالحت، شادی، غمی، لڑائی، جھگڑے، تھانے، کچہریاں، نوکریاں، تبادلے، سفارشیں ہی اس سچ کی تکمیل کرتی ہیں، پھر انھی کے نعرے لگتے ہیں۔ انہی کی قیادت ملتی ہے، انہی سے پیار کرتے ہیں، انہی کو ووٹ دیتے ہیں، انہی کو نوٹ دیتے ہیں۔ اس فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ جماعت کا رہنما ہونا اصل میں کارکنان کا رہنما ہونا ہے۔ عوام کی رہنمائی ایک بالکل مختلف فنا مینا ہے، کسی ضلعی یا صوبائی امیر کے لیے کارکنان کی محبت اور اطاعت تو سو فیصد ہوگی۔ مگر ووٹ کے معاملے میں عوام کی رائے ذرا مختلف پیمانوں سے بنتی اور بگڑتی ہے۔ اس بات کو سمجھنا اور ماننا اتنا ہی ضروری ہے، جس قدر یہ جاننا کہ مقامی سیاست میں خاندان، برادریوں، نوجوانوں اور حوصلہ مندوں کا اثر کیونکر زیادہ ہو رہا ہے اور وہاں صرف آپ کا امیدوار ہونا کسی برادری اور خاندان کو مکمل طور پر آپ کا ہم نوا نہیں بنا سکتا۔
یہ تو انسانوں کی رائے اور پسند کا معاملہ ہے، انتخاب کا مسئلہ ہے، جو لوگ مسئلے کو مسئلہ جان لیں، حل نکال لیتے ہیں۔ مثلاً کارپوریٹ دنیا میں ایک ٹوتھ پیسٹ نہ بکے تو دس طرح کی ریسرچ ہوتی ہے۔ اس کے رنگ، سائز، خوشبو، خریداروں کے مزاج اور مالی پوزیشن سے لے کر اس جگہ کی دستیابی کہ جہاں اسے فروخت ہونا ہو۔
امراء اور عوامی پسند کی شاہراہ
نیسلے نے کافی جیسی بدیسی، غیر روایتی اور مہنگی پراڈکٹ کو پاکستان کی مارکیٹ میں ناکامیوں کے بعد اس تحقیق کے زور پر ’’تھری ان ون‘‘ کر کے ایک مقبول عام برانڈ بنا دیا، جو عوامی نہ ہوتے ہوئے بھی عوامی ہو گیا۔ قیمتی اور مہنگا ہونے کے فیکٹر کو کم قیمت سے بدل کر ہر کسی کی دسترس میں پہنچا دیا۔ جماعت کے امراء مقام کے ہوں یا اضلاع اور صوبوں کے، وہ عموماً عوام کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔ ان سے لڑا جا سکتا ہے، نہ بحث میں جیتا، نہ ہی ان کے بیانوں اور تقریروں پر تبصرے کی لذت حاصل ہو سکتی ہے، نہ شخصیت کی کمی بیشی پر مشورے دیے جا سکتے ہیں۔ یہیں سے عوامی پسند کی مرکزی شاہراہ سے ملانے والی پگڈنڈی سڑک بننے سے پہلے ہی کھو جاتی ہے۔ کبھی ٹوٹ جاتی ہے۔ یہ لوگوں کا حق ہے کہ وہ پسند کریں یا ناپسند، اس حق پر پابندی لگا کر یا اسے محدود کر کے نہیں بلکہ مان کر، اس کا احترام کر کے ہی راستہ نکلے گا۔
قاضی صاحب کا سوال۔ عوام ہمیں وہ کیوں نہیں سمجھتے جو ہم ہیں
قاضی صاحب کالم نگاروں اور دانشوروں کی ایک محفل میں جو 2006ء میں دارالضیافہ میں جمی تھی۔ بڑی دل سوزی سے بولے تھے ’’ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم جو ہیں، عوام ہمیں نہیں سمجھتے، ہم لوگ معاملات میں جس قدر محتاط، دیانت دار اور انھیں ٹھیک اور صاف رکھنے والے ہیں، اخلاص سے خدمت کرنے والے ہیں، لوگ ہمارے بارے میں پورا سچ نہیں جانتے، ہمارے خلاف پراپیگنڈے کے لفظ کو چھاپ دیا جاتا ہے مگر ہماری اصل تصویر اور اصل پیغام چھپا لیا جاتا ہے۔‘‘اس سوال سے عالم اسلام کی سب سے بڑی جماعت اخوان المسلمون کو زیادہ شدت سے واسطہ پڑا جب 30سال کے مسلسل منفی پراپیگنڈے، ڈراموں نے ان کے چہرے کو گہنا دیا اور چند سال قبل انھوں نے ایک سال کی ایک مہم چلائی ’’ہم کو جانیے، ہم سے نہ کی لوگوں سے‘‘ شہروں، تعلیمی اداروں اور قصبوں تک اسٹال لگائے گئے، مائیک دئیے گئے، مسکراہٹیں اور چاکلیٹ بانٹتے گئے۔ لوگوں کی گالیاں، منفی تبصرے اور خراب باتیں پوری رضا مندی اور آمادگی سے سنی گئیں اور یہیں سے وہ خیر کی راہ پھوٹی جس نے محمد مرسی کو صدر اور ایک کروڑ 34 لاکھ لوگوں کو ووٹر بنایا۔

(جاری ہے)

حصہ