مراکش میں برقعے پر پابندی عائد

179

مراکش میں سکیورٹی وجوہات پرخواتین کے  برقعے پہننےپر پابندی عائد کردی ۔

مقامی میڈیاکے مطابق حکومت نے برقع کی فروخت، پیداوار اور درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق اس حوالے سے حکومت نے خطوط  ارسال کیے جس میں دکانوں سے کہا گیا ہے کہ ان کے پاس سٹاک ختم کرنے کے لیے 48 گھنٹے ہیں۔اگرچہ اس حوالے سے سرکاری اعلان نہیں ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سکیورٹی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کیا مراکش کی حکومت برقعے پر مکمل طور پر پابندی عائد کرنے لگا ہے یا نہیں۔مراکش کی وزارت داخلہ کے اعلیٰ عہدیدار نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پابندی کی تصدیق کی۔ انھوں نے کہا کہ لٹیروں نے کئی بار برقعے پہن کر کارروائیاں کی ہیں۔

مراکش میں برقع اتنا عام نہیں ہے کیونکہ عورتیں حجاب کو ترجیح دیتی ہیں۔حکومت کے اس اقدام سے متعلق ملک میں رائے بٹ گئی ہے۔ مراکش کے شاہ عبداللہ اعتدال پسند اسلام کے حامی ہیں۔مبلغ حماد قباج جن کو شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات کی بنا پر اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں پابندی لگا دی گئی تھی نے حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔

 انھوں نے مراکش کہا کہ مراکش کی آزادی اور انسانی حقوق کے مطابق مغربی سوئمنگ سوٹ پہننے کا حق ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ