مقبوضہ کشمیر:نوجوان کی شہادت پر سوپور میں مکمل ہڑتال

136

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری نوجوان مظفر احمد نائیکو کی شہادت پر ہفتے کے روز سوپور قصبے میں مکمل ہڑتال کی گئی۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی قابض فوجیوں نے مظفر احمد نائیکو کو جمعرات کی رات کو ضلع بڈگام کے علاقے ماچھواہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا تھا۔ قصبے میں تمام دکانیں، کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل تھی۔

دریں اثنا ضلع بانڈی میں محکمہ صحت کے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مارچ کیا اور ایک روزہ ہڑتال کی ۔ احتجاجی ملازمین نے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال بانڈی پورہ سے چیف میڈیکل افسر کے دفتر تک احتجاجی مارچ کیا ۔ انہوں نے اس موقع پر خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں کیے گئے تووہ غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کر دیں گے۔

علاوہ ازیں کٹھ پتلی انتظامیہ نے نام نہاد اسمبلی کے رکن اور عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر عبدالرشید کو جموں خطے کے پیز پنچال علاقوں میں جانے سے روک دیا۔   انجینئر عبدالرشید نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ وہ خطہ پیر پنچال کے دو روزہ دورے پر جانا چاہتے تھے تاہم بھارتی پولیس نے انہیں باملہ سندربنی کے قریب روک کر آگے نہیں جانے دیا۔

انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کی سربراہی میں قائم کٹھ پتلی انتظامیہ نے پورے مقبوضہ علاقے کو ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں گروی رکھا ہے اور یہاں قانون نام کی کوئی چیزموجود نہیں۔ انہوں نے پولیس کی کارروائی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی پولیس انتہا پسند ہندو عناصر کی بی ٹیم کا کردار ادا کر رہی ہے اور اس نے کشمیری مسلمانوں کوتمام حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔

انجینئر رشید نے کہا  کہ انتظامیہ سیاسی مخالفین کو انتقامی کارروائیوں کا بڑے پیمانے پر نشانہ بنا رہی ہے ۔ انہوں نے محبوبہ مفتی کو خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے انہوں نے مقبوضہ علاقے کے اکثریتی طبقے کے حقوق کو پامال کیا ہے اْس کا انہیں ایک روز حساب دینا پڑے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ