سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کی سماعت شروع

104

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کی سماعت شروع ہوگئی ہے اور آج سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری  دلائل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل پانچ رکنی بینچ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کے افراد کی آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کے لئے دائر درخواستوں کی سماعت کررہا ہے۔

گزشتہ روز سماعت  کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے کارروائی سے قطری شہزادے کے خط کو نکالنے کا مطالبہ کیا تھا جس پر جسٹس اعجاز نے کہا کہ قطری شہزادےکابیان اگر سنی سنائی باتیں ہیں تواسےبطورثبوت کیوں لارہے ہیں،جواب میں نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ قطری شہزادےکاخط نظراندازکردیں توپتالگ جائیگافلیٹس شریف خاندان نے خریدے۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں ؟ آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے؟ آپ کو دستاویزی ثبوت دکھانا ہوں گے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ خط کیسے نکال پھینکیں،وزیر اعظم کے بچوں کا انحصار اسی خط پر ہے ،قطری خط وزیراعظم کےبچوں کےموقف کی تائیدمیں لکھا گیا اگر خط نکال دیا تو وزیراعظم کے بچوں کے موقف کی حیثیت کیا ہو گی؟

وزیراعظم کے وکیل نے عدالت میں نوازشریف کے عوامی عہدوں سے متعلق جواب داخل جمع کراتے ہوئے بتایا کہ نوازشریف 19 اپریل 1985 سے 30 مئی 1988 تک وزیر اعلیٰ پنجاب رہے جب کہ  نواز شریف 31 مئی 1988 سے 2 دسمبر 1988 تک نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۔جواب کے مطابق ازشریف 25 اپریل 1981 سے28 فروری 1985 تک صوبائی وزیر خزانہ رہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ