سپریم کورٹ کا پاناما لیکس کیس کی سماعت روزانہ کی بنیادپر کرنے کا فیصلہ

157

پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے کی ۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ دیکھنا ہو گا کہ جو رقم سعودی عرب ، دبئی اور پھر قطر کیسے بھیجی گئی جو رقم باہر بھیجی گئی ان پر پاکستانی قوانین لاگو ہوتے ہیں یا نہیں ۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ (جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الحسن) نے پی ٹی آئی ، جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ کی طرف سے وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف پانامالیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ محض وزیراعظم کی تقریروں میں پیش کیے گئے حقائق کو بنیاد بنا کر اس مقدمے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت عظمیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت کو دیکھنا ہوگا کہ کیا سعودی عرب یا دبئی سے قطر بھیجی گئی رقم پر پاکستان کے قوانین لاگو ہوتے ہیں یا نہیں۔

6-naeem-bukhari

سماعت شروع ہوئی تو سپریم کورٹ کے حکم پر پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے پاناما پیپرز میں چھپنے والے حقائق کو پارلیمنٹ میں کی جانے والی تقریروں میں جان بوجھ کر چھپایا تھا ، ان تقاریروں میں قطر میں ہونے والے بزنش کہیں کوئی ذکر نہیں تھا ۔

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے قطر میں کیے گئے کاروبار کا ذکر الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے کاغذات میں کہیں نہیں کیا اور نہ ہی ٹیکس گوشواروں میں اس کا کہیں ذکر ملتا ہے ، نعیم بخاری نے مذید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے جان بوجھ کر حقائق چھپائے ہیں اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے لہذا عدالت اُنھیں نااہل قرار دے۔

7-justice-afzal

اس پر بینچ میں شامل جسٹس اعجاز افضل نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ وزیراعظم نے ایسا صریحاً کیا یا پھر غلطی سے ایسا ہو گیا ۔

اس پر پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ دوبئی میں شریف فیملی نے بی سی سی آئی سےقرضہ لے کر گلف اسٹیل مل خریدی تھی ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ بینک کا قرضہ بھی واپس کیا گیا یا نہیں ۔ اُنھوں نے کہا کہ سنہ 1980 میں گلف سٹیل مل کے لیے بارہ ملین درہم دبئی بھجوائے گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق سنہ 2000 میں یہ بارہ ملین درہم موجود تھے۔

اس پر ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ عدالت کو یہ دیکھنا ہے کہ دوبئی سے جدہ اورپھر قطر گئی رقوم اگر غیر قانونی طور پر بھجوائی گئی ہے تو کیا ان ممالک میں کیے گیے غیر قانونی اقدام پاکستانی قوانین کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

8-justice-khosa

سپریم کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہم کو یہ بھی دیکھنا ہو کہ جس دور میں لندن کے فلیٹ خریدے گئے اس وقت میاں نواز شریف کسی عوامی عہدے پر فائز تھے یا نہیں کیونکہ عدالت کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ نوازشریف 1997 میں کاروبار سے الگ ہو گئے تھے ۔

9-justice-ejaz-ul-hassan

بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الحسن نے پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ یہ فلیٹ کس نے خریدے تھے تو اس پر نعیم بخاری نے کہا کہ یہ فلیٹس نیسکول اینڈ نیلسن کمپنی نے خریدے تھے۔

اس پر جسٹس اعجاز نے کہا ہے کہ اب یہ ثابت کرنا حزب مخالف کے وکلاء کا کام ہے کہ یہ کمپنی 1993 میں حسین نواز کی ملکیت تھی۔

بعدازاں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا چونکہ یہ ایک انتہائی اہم نوعیت کا معاملہ ہے اس لئے دائر کی گئی درخواستوں کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے گی۔ پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری جمعرات کو بھی اپنے دلائل دیں گے ۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے اس لیے ان درخواستوں کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے گی۔ نعیم بخاری جمعرات کو بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ