چیف جسٹس کا جج کے گھر میں کمسن ملازمہ پر تشدد کا ازخود نوٹس

129

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد میں جوڈیشل افسر کے گھر میں کمسن ملازمہ طیبہ  پر تشدد کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے رجسٹرار اسلام آباد  سے چوبیس گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے ازخود نوٹس میڈیا کی خبروں پر لیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ بچی کو تشدد کے بعد جلانے کی کوشش کی گئی جب کہ دو روز قبل متاثرہ بچی کے والد نے جج سے صلح کرتے ہوئے ملزمان کو معاف کردیا تھا۔سپریم کورٹ نے نوٹس میں لکھا ہے کہ معاملے کو سمجھوتےکے بعد دبادیا گیا۔ عدالت عظمیٰ نے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ سے آیندہ 24گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کے ایک پوش سیکٹر میں رہائش پذیر ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ نے چھوٹے سے معاملے پر گھر میں کام کرنے والی دس سالہ طیبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ اُس کا ہاتھ بھی جلایا تھا جبکہ اس کے علاوہ اس گھریلو ملازمہ کو حبس بےجا میں بھی رکھا گیا تھا۔

ایڈیشنل جج کی اہلیہ کی طرف سے گھریلو ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری ہوئیں اور اس کے علاوہ راولپنڈی میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں بھی رپورٹ درج کروائی گئی تھی تاہم اس معاملے کو وزارت داخلہ کو بھجوا دیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ